
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستان کے یوم آزادی پر خصوصی پیغام، پاک ایران تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار
مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان کا یوم آزادی ایران اور پاکستان کے درمیان دیرینہ اور تزویراتی تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے ایک نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
سید عاطف ندیم – ادارت
ایران اور پاکستان کے مشترکہ مفادات اور تقدیریں پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہیں: مسعود پزشکیان
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی قوم اور قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے مشترکہ مفادات اور تقدیریں پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران پاکستان کے ساتھ جامع اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔
ایرانی صدر نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان کا یوم آزادی پاکستانی قوم کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا ایک قیمتی موقع ہے۔
پاکستان کا یوم آزادی پاک ایران تعلقات کے لیے نیا موڑ ہے
مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان کا یوم آزادی ایران اور پاکستان کے درمیان دیرینہ اور تزویراتی تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے ایک نئے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور عوامی سطح پر گہرے روابط موجود ہیں، جنہیں باہمی تعاون کے ذریعے مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے اس موقع پر پاکستان کی عظیم قوم کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایران جامع تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران پاکستان کے ساتھ جامع تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
مسعود پزشکیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجود وسیع صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ دوطرفہ تعلقات کو ایک نئے اور مؤثر مرحلے میں داخل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔
باہمی اعتماد اور احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے
ایرانی صدر کے پیغام میں باہمی اعتماد اور احترام کو پاک ایران تعلقات کی بنیاد قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
مسعود پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں ایران اور پاکستان کے درمیان باہمی اعتماد اور قریبی مشاورت پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
دونوں ممالک میں مزید ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان مزید ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ان کے مطابق خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور مشترکہ چیلنجز دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مزید قریب آنے اور باہمی تعاون کو وسعت دینے کا تقاضا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے مفادات کئی اہم شعبوں میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود تاریخی روابط دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
مشترکہ مفادات اور تقدیریں ایک دوسرے سے جڑی ہیں
مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں ایک اہم نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے مشترکہ مفادات اور تقدیریں پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی ہیں۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے اس بات کا عندیہ دیا کہ دونوں ممالک باہمی صلاحیتوں اور مشترکہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل میں تعاون کے مزید مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
اقتصادی اور تجارتی تعاون کے وسیع امکانات
پاک ایران تعلقات میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
ایرانی صدر کی جانب سے جامع تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کو اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ باہمی تجارت میں اضافہ، سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کا فروغ اور دوطرفہ روابط میں بہتری دونوں ممالک کے عوام کے لیے معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
دونوں ممالک پہلے ہی مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے رابطوں میں ہیں، جبکہ مستقبل میں موجود صلاحیتوں سے مزید فائدہ اٹھانے کی گنجائش موجود ہے۔
علاقائی امن و استحکام کے لیے پاک ایران تعاون اہم
پاکستان اور ایران دونوں اہم علاقائی ممالک ہیں اور ان کے درمیان مضبوط تعلقات خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
موجودہ علاقائی حالات میں سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون، اقتصادی روابط اور باہمی سفارتی مشاورت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی صدر کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان مزید ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت پر زور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو صرف دوطرفہ سطح تک محدود رکھنے کے بجائے علاقائی تعاون کے وسیع تناظر میں بھی اہمیت دیتا ہے۔
عوامی اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت
ایران اور پاکستان کے درمیان سرکاری تعلقات کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بھی تاریخی روابط موجود ہیں۔
ثقافتی، مذہبی، لسانی اور جغرافیائی قربت دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ ایرانی صدر کے پیغام میں برادرانہ تعلقات کے مزید مضبوط اور مستحکم ہونے کی خواہش اسی عوامی وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید فروغ دینے سے باہمی اعتماد میں اضافہ اور دوطرفہ تعلقات کو مزید پائیدار بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سربلندی کے لیے نیک خواہشات
مسعود پزشکیان نے پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سربلندی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
ایرانی صدر نے دعا کی کہ پاکستان مسلسل ترقی کرے اور پاکستانی عوام خوشحالی اور استحکام کی منزلیں طے کریں۔
انہوں نے ایران اور پاکستان کے دیرینہ، برادرانہ تعلقات کے مزید مضبوط اور مستحکم ہونے کی بھی دعا کی۔
یوم آزادی پر ایرانی صدر کا پیغام سفارتی اہمیت کا حامل
پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر ایرانی صدر کا پیغام دونوں ممالک کے درمیان موجود قریبی سفارتی تعلقات کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں محض رسمی مبارکباد تک محدود رہنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان جامع تعلقات، باہمی اعتماد، احترام، مشترکہ مفادات اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر بھی زور دیا۔
یہ پیغام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو طویل المدتی اور تزویراتی بنیادوں پر مزید آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
پاکستان اور ایران کے لیے تعاون کے نئے مواقع
ایرانی صدر کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجود وسیع صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس تناظر میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سرحدی تعاون، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
اگر دونوں ممالک باہمی اعتماد اور مسلسل مشاورت کے ذریعے موجود رکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو دوطرفہ تعلقات میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہو سکتی ہے۔
پاک ایران برادرانہ تعلقات کے نئے دور کی خواہش
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پیغام کا مجموعی محور پاکستان کے ساتھ برادرانہ، جامع اور تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود وسیع صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ایرانی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مزید ہم آہنگی، تعاون اور باہمی اعتماد پیدا ہوگا اور دونوں ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے مل کر آگے بڑھیں گے۔
اختتام: مشترکہ مستقبل کے لیے مضبوط شراکت داری کا عزم
پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پیغام دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق موجودہ حالات میں ایران اور پاکستان کے مشترکہ مفادات اور تقدیریں پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو نئی سطح پر لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مسعود پزشکیان نے پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سربلندی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ ایران اور پاکستان کے درمیان دیرینہ، برادرانہ اور تزویراتی تعلقات مزید مضبوط، مستحکم اور وسیع ہوں اور دونوں ممالک کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کی مشترکہ منزل کی جانب آگے بڑھیں۔



