مشرق وسطیٰ

امریکی طیارہ بردار جہاز مشرقِ وسطیٰ کی طرف گامزن، پیٹ ہیگسیتھ کی ایران کو دھمکی

پیٹ ہیگسیتھ کے بیانات امریکہ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اپنے ایک اہم ترین فوجی اثاثے کی تبدیلی کی پیش رفت کے ساتھ سامنے آئے ہیں کیونکہ واشنگٹن طیارہ بردار جہاز "یو ایس ایس جارج واشنگٹن" کو خطے میں "یو ایس ایس ابراہام لنکن" کی جگہ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

سید مدثر احمد-ادارت
ایران پر امریکی فوجی دباؤ کے تسلسل کے ایک نئے اشارے کے طور پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکہ تہران پر عائد ناکہ بندی جب تک ضرورت ہوگی جاری رکھے گا۔
پیٹ ہیگسیتھ کے بیانات امریکہ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اپنے ایک اہم ترین فوجی اثاثے کی تبدیلی کی پیش رفت کے ساتھ سامنے آئے ہیں کیونکہ واشنگٹن طیارہ بردار جہاز "یو ایس ایس جارج واشنگٹن” کو خطے میں "یو ایس ایس ابراہام لنکن” کی جگہ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
باخبر امریکی حکام کے حوالے سے "وال سٹریٹ جرنل” نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ "جارج واشنگٹن” پہلے سے طے شدہ روٹیشن پلان کے تحت جاپان سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف پیش قدمی کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن خطے میں موجود طیارہ بردار جہاز کو بغیر کسی متبادل کے ہٹانے کی طرف نہیں جا رہا بلکہ اس کو دوسرے طیارہ بردار جہاز سے بدل رہا ہے۔ یہ ایسے وقت کیا جارہا ہے جب ایران پر امریکی محاصرہ جاری ہے۔
سمندر میں 250 سے زیادہ دن
امریکی اخبار کے مطابق تبدیلی کا یہ فیصلہ طیارہ بردار جہاز "ابراہام لنکن” کی طویل تعیناتی کے بعد سامنے آیا ہے جو بندرگاہوں پر مختصر قیام کے ساتھ 250 دن یعنی آٹھ ماہ سے زائد کے عرصے پر محیط تھی۔ ” ابراہیم لنکن” نے اپنی مقررہ تعیناتی کا آغاز گزشتہ نومبر میں کیا تھا۔ اس کے بعد واشنگٹن نے جنوری میں ایران کے ساتھ امریکی جنگ کے آغاز سے ٹھیک پہلے اسے مشرقِ وسطیٰ کی طرف موڑ دیا تھا۔
اس طیارہ بردار بحری جہاز اور اس پر موجود طیاروں نے امریکی بمباری کی مہم میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مہم کا نام "آپریشن ایپک فیوری” رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد اس بحری جہاز نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی پر عمل درآمد میں حصہ لیا تھا۔
تاہم اس کی تعیناتی کے طویل عرصے نے امریکہ کے اندر خاص طور پر کانگریس کے ارکان کی طرف سے اس پر موجود جہاز رانوں کے رہائشی حالات اور عملے کے ارکان پر اس طویل تعیناتی کے اثرات کے حوالے سے تنقید اور سوالات پیدا کیے تھے۔
ایران پر دباؤ کا تسلسل
یہ فوجی پیش رفت تہران پر امریکی دباؤ کے تسلسل کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ اس دوران سفارتی کوششیں دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کے کسی جامع حل تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں کے دوران کہا تھا کہ وہ موجودہ مرحلے میں فوری طور پر بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کی طرف لوٹنے کے بجائے معاشی اور فوجی دباؤ کو جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ ایرانی معیشت پر محاصرے کے اثرات کی نگرانی کر رہا ہے۔ ایران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق مذاکرات اور سفارتی سرگرمی جاری ہے۔
اس طرح بحری جہاز "ابراہیم لنکن” کو بحری جہاز "جارج واشنگٹن” سے بدلنا دو متوازی اشارے دے رہا ہے۔ ایک طرف طیارہ بردار جہاز اور اس کے عملے کی غیر معمولی طویل تعیناتی کا خاتمہ کیا جارہا اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں بھاری امریکی فوجی موجودگی کو برقرار کھا جارہا ہے۔ واشنگٹن نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک قائم رہے گی جب تک وہ اس کی ضرورت محسوس کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button