
سید عاطف ندیم -ادارت
لجے کے علاقے میں کارروائی، متعدد دہشت گرد زخمی، ٹھکانوں سے جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
خاران: بلوچستان کے ضلع خاران میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن خاران کے علاقے لجے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کا تعین کیا اور مربوط کارروائی کے ذریعے انہیں نشانہ بنایا۔ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے وابستہ 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خاران کے علاقے لجے میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے حوالے سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ انٹیلی جنس معلومات کی تصدیق کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی کا آغاز کیا۔
آپریشن کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کو گھیرے میں لے کر کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے مزاحمت بھی کی گئی، تاہم سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
کارروائی کے نتیجے میں متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد فتنہ الخوارج سے وابستہ تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بدامنی پھیلانے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں سرگرم تھے۔
سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد علاقے میں مزید سرچ اور کلیئرنس سرگرمیاں بھی جاری رکھی گئیں تاکہ دہشت گردوں کے ممکنہ سہولت کاروں یا دیگر ساتھیوں کی موجودگی کا سراغ لگایا جاسکے۔
ٹھکانوں سے جدید اسلحہ اور جنگی سامان برآمد
آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے جدید اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والا سامان دہشت گرد عناصر کی آپریشنل صلاحیت اور ممکنہ دہشت گرد کارروائیوں کی تیاری کے حوالے سے اہم شواہد فراہم کرسکتا ہے۔
برآمد شدہ اسلحہ اور دیگر سامان کو مزید تحقیقات کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ فرانزک ماہرین کی مدد سے اس بات کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ یہ سامان ماضی میں کسی دہشت گرد کارروائی میں استعمال ہوا یا نہیں۔
آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کارروائیاں جاری
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کو منظم ہونے سے پہلے نشانہ بنانا، ان کے ٹھکانے تباہ کرنا اور ان کی کارروائی کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔
خاران میں ہونے والا حالیہ آپریشن بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں تیزی
بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کی ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور وسیع جغرافیے کے باعث بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہیں۔
ایسے حالات میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حرکت، ٹھکانوں اور ممکنہ منصوبہ بندی کے بارے میں معلومات حاصل کرکے ہدفی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
خاران آپریشن ایک روز میں دوسری بڑی کارروائی
خاران میں 7 دہشت گردوں کی ہلاکت سے ایک روز قبل بلوچستان کے ضلع خضدار میں بھی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کی تھی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خضدار کے علاقے شور پارود میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان سے وابستہ 10 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔
یوں بلوچستان میں مختصر مدت کے دوران ہونے والی دونوں کارروائیوں میں مجموعی طور پر 17 دہشت گردوں کی ہلاکت سامنے آئی ہے، جسے سکیورٹی فورسز کی انسدادِ دہشت گردی مہم میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے پر توجہ
سکیورٹی ماہرین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ان کے سہولت کاروں، مالی معاونت کے ذرائع، اسلحہ کی فراہمی اور نقل و حرکت کے نیٹ ورک کا خاتمہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
خاران آپریشن کے دوران برآمد ہونے والے اسلحے اور جنگی سامان کی تحقیقات سے دہشت گردوں کے ممکنہ رابطوں اور ان کے لاجسٹک نیٹ ورک کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
علاقے میں سرچ آپریشن اور نگرانی مزید سخت
آپریشن کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس سرگرمیاں جاری رکھنے کی اطلاعات ہیں۔ سکیورٹی ادارے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی ساتھی یا سہولت کار علاقے میں موجود نہ ہو۔
ممکنہ مشتبہ نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی بھی مزید مؤثر بنائی جاسکتی ہے۔
شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں ناگزیر
خاران سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں امن و امان کا قیام نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے صوبے کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے سے شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی نقل و حرکت کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
انٹیلی جنس معلومات کا مؤثر استعمال اہم کامیابی
خاران میں ہونے والی کارروائی ایک مرتبہ پھر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں بروقت معلومات کے حصول کے بعد ہدفی کارروائی نے سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا موقع فراہم کیا۔
جدید نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور زمینی کارروائی کے درمیان بہتر رابطہ دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کا عزم
خاران میں 7 دہشت گردوں کی ہلاکت کو بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
حکام کے مطابق دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرچ اور کلیئرنس کارروائیوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مربوط اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
خاران کے علاقے لجے میں ہونے والی کارروائی میں 7 دہشت گردوں کی ہلاکت اور ان کے ٹھکانوں سے جدید اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی مہم کی ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ گزشتہ روز خضدار میں 10 دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد صوبے میں مجموعی طور پر 17 دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ایک نمایاں سکیورٹی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے۔



