
روسی ایجنسی تاس کے ساتھ
ماسکو: یوکرین جنگ کے روسی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سخت انتباہ سامنے آنے کے بعد روس کے معروف ماہرِ معاشیات آندرے کلیپاچ کو ملک کے قومی ترقیاتی بینک VEB کے چیف اکانومسٹ کے عہدے سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ ان کی تبدیلی نے روس میں جنگ کی معاشی قیمت، سرکاری پالیسیوں پر اندرونی اختلافات اور حساس اقتصادی معاملات پر اظہارِ رائے کی حدود سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے TASS کے مطابق کلیپاچ اب VEB میں چیف اکانومسٹ کے منصب پر فائز نہیں ہیں۔ ادارے نے ان کی رخصتی کی وجہ بیان نہیں کی، تاہم بتایا گیا ہے کہ نئے امیدوار کا انتخاب کرلیا گیا ہے اور جلد ہی ان کی تقرری متوقع ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب روس یوکرین جنگ کے طویل ہونے، دفاعی اخراجات میں اضافے، مغربی پابندیوں اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے درمیان اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔
ماہرِ معاشیات کی متنازع تقریر کے بعد عہدے کی تبدیلی
کلیپاچ کی تبدیلی کی خبر ایک آزاد روسی اخبار کی جانب سے ان کی ایک سابقہ تقریر کے اقتباسات شائع کیے جانے کے صرف دو دن بعد سامنے آئی۔
رپورٹ کے مطابق کلیپاچ نے مئی میں ماہرینِ معاشیات اور ماہرینِ تعلیم کے ایک فورم نکیتسکی کلب میں خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے روسی معیشت کو درپیش طویل مدتی خطرات پر تفصیلی گفتگو کی۔
ان کے حوالے سے کہا گیا کہ روس عالمی سطح پر تکنیکی اور اقتصادی مقابلے میں مشکلات کا سامنا کررہا ہے اور یوکرین کو مغربی ممالک کی مسلسل مالی اور عسکری حمایت حاصل ہونے کے باعث جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
کلیپاچ کے تبصرے اس لحاظ سے اہم قرار دیے جارہے ہیں کہ وہ روسی اقتصادی پالیسی کے معروف ماہر سمجھے جاتے ہیں اور ایک بڑے سرکاری ترقیاتی مالیاتی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔
’’روس عالمی تکنیکی اور اقتصادی مقابلہ ہار رہا ہے‘‘
رپورٹ کے مطابق کلیپاچ نے اپنی تقریر میں روس کو درپیش تکنیکی اور اقتصادی چیلنجز کی نشاندہی کی۔
ان کے مطابق جنگ کی طویل مدت نے روسی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے، جبکہ مغربی پابندیوں نے ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے مبینہ طور پر اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی معیشت میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے صرف فوجی صلاحیت کافی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل بھی ضروری ہیں۔
یہ تبصرے روسی حکومت کے اس بیانیے کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں جس کے مطابق روس نے مغربی پابندیوں کے باوجود اپنی معیشت کو بڑی حد تک مستحکم رکھا ہے۔
سماجی بحران کے خدشے کا اظہار
کلیپاچ کے حوالے سے سب سے زیادہ توجہ ان کے اس انتباہ نے حاصل کی جس میں انہوں نے روس میں مستقبل کے سماجی بحران کے امکان کی بات کی۔
ان کے مطابق اگر جنگ، اقتصادی دباؤ اور طویل مدتی معاشی مسائل اسی طرح جاری رہے تو روس کو صرف مالیاتی مشکلات ہی نہیں بلکہ وسیع تر سماجی مسائل کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ خدشہ روسی حکومت کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ دفاعی اخراجات اور معیشت پر حکومتی دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔
جنگ کی طوالت روسی معیشت کے لیے بڑا چیلنج
کلیپاچ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کی طوالت کی طرف بھی توجہ دلائی۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس جنگ کا موازنہ روسی تاریخی تناظر میں عظیم محب وطن جنگ سے کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ یوکرین میں جاری جنگ طویل ہوچکی ہے اور اس کا اختتام اب بھی واضح نہیں۔
یہ تبصرہ اس لیے اہم سمجھا جارہا ہے کہ روسی حکومت جنگ کو طویل عرصے سے قومی سلامتی اور تاریخی جدوجہد کے تناظر میں پیش کرتی رہی ہے۔
لیکن اقتصادی ماہر کے طور پر کلیپاچ نے جنگ کو اس کے معاشی اور سماجی اخراجات کے زاویے سے دیکھا۔
یوکرینی حملے بھی روسی معیشت پر اثر انداز
کلیپاچ نے روسی انفراسٹرکچر پر یوکرینی حملوں کو بھی اقتصادی مشکلات کی ایک وجہ قرار دیا۔
مئی میں ان کی تقریر کے بعد یوکرین نے روسی علاقے اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف اپنے ڈرون اور فضائی حملے مزید بڑھائے ہیں۔
ان حملوں کا ایک مقصد روس کے اندر جنگ کے اثرات کو زیادہ نمایاں کرنا اور کاروباری و معاشی حلقوں پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا بھی سمجھا جاتا ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے، صنعتی تنصیبات، لاجسٹکس اور دیگر اہم مقامات پر حملوں سے روس کے لیے سکیورٹی کے ساتھ ساتھ اقتصادی اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
مغربی پابندیاں روس کے لیے مستقل مسئلہ
روس کی معیشت کو درپیش سب سے اہم چیلنجز میں مغربی پابندیاں بھی شامل ہیں۔
امریکا، یورپی ممالک اور ان کے اتحادیوں نے روس کے خلاف مالیاتی، تجارتی، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں متعدد پابندیاں عائد کی ہیں۔
ان پابندیوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت کو محدود کرنا اور ماسکو کے لیے جنگ کے مالی اخراجات میں اضافہ کرنا ہے۔
روس نے پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کی ہے، لیکن مغربی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری تک محدود رسائی اب بھی طویل مدتی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
بلند شرحِ سود بھی معاشی دباؤ کا سبب
کلیپاچ نے روس کی بلند ملکی شرحِ سود کو بھی اقتصادی ترقی کے لیے ایک رکاوٹ قرار دیا۔
روس میں افراطِ زر کو قابو میں رکھنے اور روبل پر دباؤ کم کرنے کے لیے شرحِ سود کو بلند سطح پر رکھا گیا ہے۔
تاہم بلند شرحِ سود کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے قرض حاصل کرنا مہنگا ہوجاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں نئی سرمایہ کاری، صنعتی توسیع اور نجی شعبے کی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
دفاعی اخراجات اور معیشت کا توازن
یوکرین جنگ کے دوران روس نے دفاعی اور سکیورٹی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
جنگی معیشت نے روس کے بعض صنعتی شعبوں، خصوصاً دفاعی پیداوار، کو تیزی سے توسیع دی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس قسم کی ترقی کو طویل مدت تک برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ معیشت کے دیگر شعبوں سے وسائل دفاعی شعبے کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔
دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ حکومت کے بجٹ پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب جنگ کے اخراجات کے ساتھ سماجی بہبود، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی وسائل درکار ہوں۔
جنگ نے روسی معیشت کی ترجیحات تبدیل کردیں
یوکرین جنگ کے بعد روسی معیشت کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
حکومت نے دفاعی پیداوار، فوجی سازوسامان، گولہ بارود اور جنگ سے متعلق صنعتی شعبوں کو زیادہ اہمیت دی ہے۔
اس پالیسی سے دفاعی صنعت میں روزگار اور پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن دوسری جانب غیر فوجی شعبوں کے لیے سرمایہ کاری اور افرادی قوت کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جسے اقتصادی ماہرین روسی معیشت کے طویل مدتی استحکام کے حوالے سے اہم سمجھتے ہیں۔
روسی حکومت کے لیے اندرونی تنقید کا حساس معاملہ
کلیپاچ کی تبدیلی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ روس میں جنگ اور اس کے معاشی اثرات پر اعلیٰ سطح کے ماہرین کس حد تک کھل کر اظہارِ خیال کرسکتے ہیں۔
اگرچہ VEB نے کلیپاچ کی تبدیلی کی وجہ نہیں بتائی، لیکن ان کی تقریر کے اقتباسات سامنے آنے کے فوراً بعد عہدے سے تبدیلی نے دونوں واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی برطرفی یا تبدیلی صرف اسی تقریر کی وجہ سے ہوئی۔
روسی معیشت کے لیے مستقبل کے سوالات
کلیپاچ کے تبصرے روسی معیشت کو درپیش کئی بنیادی سوالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اگر جنگ مزید طویل ہوتی ہے تو روس دفاعی اخراجات اور اقتصادی ترقی کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھے گا؟
مغربی پابندیوں کے طویل مدتی اثرات روس کی ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار پر کس حد تک مرتب ہوں گے؟
بلند شرحِ سود اور افراطِ زر کے دباؤ کے باوجود سرمایہ کاری کیسے بحال رکھی جائے گی؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اور سماجی اخراجات کو روس کب تک برداشت کرسکے گا؟
یوکرین کے حملوں سے اندرونی دباؤ میں اضافہ
جنگ کے ابتدائی مرحلے میں روسی عوام کی بڑی تعداد نے براہِ راست جنگی اثرات محدود سطح پر محسوس کیے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یوکرین کے ڈرون حملوں نے روس کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کے خدشات بڑھائے ہیں۔
ان حملوں سے صنعتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہوئے ہیں اور حکومت کو اندرونِ ملک دفاعی اقدامات پر مزید وسائل خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔
جنگ کا یہ پہلو روسی معاشرے اور کاروباری طبقے کے لیے جنگ کی لاگت کو زیادہ نمایاں کررہا ہے۔
VEB میں نئے چیف اکانومسٹ کی تقرری متوقع
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق VEB نے کلیپاچ کے بعد نئے چیف اکانومسٹ کے لیے امیدوار منتخب کرلیا ہے۔
ادارے کی جانب سے نئے عہدیدار کا نام اور تقرری کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
کلیپاچ کی روانگی کے بعد نئے چیف اکانومسٹ کو ایسے وقت میں روسی ترقیاتی بینک کی اقتصادی پالیسی اور تجزیاتی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی جب ملک کو جنگی اخراجات، پابندیوں، افراطِ زر اور سرمایہ کاری سے متعلق متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔
اختتامیہ: جنگ کے میدان سے معیشت تک بڑھتا دباؤ
آندرے کلیپاچ کی VEB کے چیف اکانومسٹ کے منصب سے تبدیلی نے روسی معیشت اور یوکرین جنگ کی طویل مدتی قیمت پر ایک بار پھر عالمی توجہ مرکوز کردی ہے۔
کلیپاچ کی مبینہ تقریر میں روس کی تکنیکی مسابقت، اقتصادی ترقی، مغربی پابندیوں، بلند شرحِ سود، بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور جنگ کی غیر یقینی مدت جیسے عوامل کو معاشی خطرات کے طور پر اجاگر کیا گیا تھا۔
ان کی رخصتی کی سرکاری وجہ تاحال بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان کے تبصروں اور عہدے کی تبدیلی کے درمیان براہِ راست تعلق کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم یہ معاملہ اس وسیع تر حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ یوکرین جنگ کا محاذ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ روس کے بجٹ، صنعت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور سماجی پالیسی پر بھی اس کے اثرات بڑھتے جارہے ہیں۔
اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو روس کے لیے اصل چیلنج صرف فوجی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک طویل جنگی معیشت کو مالی، صنعتی اور سماجی طور پر پائیدار رکھنا بھی ہوگا۔



