
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان اور مصر نے زراعت، غذائی تحفظ، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور آبی وسائل کے مؤثر استعمال سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار، معیار اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مصر کے تجربات اور تکنیکی مہارت سے استفادہ کرنے پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور پاکستان میں مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں سامنے آیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کے موجودہ دائرہ کار کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں عملی شراکت داری کے نئے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور مصر کے دیرینہ تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان مصر کے ساتھ اپنے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے جدید زراعت، آبی وسائل کے انتظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کاشت کاری اور زرعی ٹیکنالوجی کے میدان میں مصر کے تجربات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر زرعی شعبے میں نمایاں پیش رفت کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں زرعی ترقی صرف روایتی کاشت کاری تک محدود نہیں رہی بلکہ جدید تحقیق، ٹیکنالوجی، معیاری بیج، بہتر آبپاشی، موسمیاتی مطابقت اور ویلیو ایڈیشن بھی زرعی معیشت کے بنیادی اجزا بن چکے ہیں۔
کپاس کا شعبہ پاکستان اور مصر کے تعاون کا اہم مرکز
ملاقات میں کپاس کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
پاکستان دنیا کے اہم کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ملکی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے کپاس بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں اضافہ اور اس کے معیار میں بہتری نہ صرف زرعی شعبے بلکہ برآمدات، ٹیکسٹائل صنعت، روزگار اور مجموعی قومی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے مصر سے درخواست کی کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار اور معیار بہتر بنانے کے لیے مصری ماہرین کی تکنیکی معاونت اور تجربات سے استفادہ کرنے کے امکانات بڑھائے جائیں۔
انہوں نے خاص طور پر کپاس کی بہتر اقسام، معیاری بیج، فصلوں کے جدید انتظام، پیداوار میں اضافے اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں مصری تجربے سے فائدہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
معیاری بیج اور بہتر اقسام کی تیاری پر توجہ
کپاس کی پیداوار میں مطلوبہ اضافہ حاصل کرنے کے لیے معیاری بیج بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور مصر کے زرعی تحقیقی ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے کپاس کی بہتر اقسام، معیاری بیجوں اور موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والی فصلوں کی تیاری کے حوالے سے تعاون بڑھا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں مشترکہ تحقیق، تجربات اور ماہرین کے تبادلوں سے پاکستان میں کپاس کے شعبے کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
زرعی ماہرین کے تبادلے کی تجویز
وفاقی وزیر نے دونوں ممالک کے زرعی تحقیقاتی اداروں، ماہرین اور متعلقہ محکموں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی تجویز پیش کی۔
اس مقصد کے لیے ماہرین کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، تجربات کے انعقاد، تربیتی پروگراموں اور بہترین طریقہ ہائے کار کے تبادلے پر زور دیا گیا۔
اس طرح کا تعاون پاکستان کے زرعی ماہرین کو ایسے تجربات سے روشناس کراسکتا ہے جو کم پانی، زیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مصر میں اختیار کیے جارہے ہیں۔
پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے مصری تجربات سے استفادہ
پاکستان میں زرعی شعبے کو درپیش اہم چیلنجز میں پانی کی دستیابی اور اس کا مؤثر استعمال بھی شامل ہے۔
ملاقات کے دوران پانی کی بچت والی آبپاشی، ڈرِپ اریگیشن، خشک سالی سے نمٹنے والی تکنیک اور پانی کے بہتر انتظام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مصر کو بھی پانی کے محدود وسائل اور خشک آب و ہوا کے باعث آبپاشی کے شعبے میں متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث وہاں پانی کے مؤثر استعمال اور جدید آبپاشی کی ٹیکنالوجیز پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
پاکستان میں ان تجربات سے استفادہ زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی
موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں زراعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے غیر متوقع انداز، خشک سالی، سیلاب اور پانی کی قلت فصلوں کی پیداوار کو متاثر کررہے ہیں۔
ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔
دونوں ممالک کے درمیان ایسے تحقیقی منصوبے شروع کیے جاسکتے ہیں جن کے ذریعے زیادہ درجہ حرارت، پانی کی قلت اور بدلتے موسمی حالات میں بہتر پیداوار دینے والی فصلوں اور زرعی طریقوں کو فروغ دیا جائے۔
بایوٹیکنالوجی اور زرعی تحقیق میں تعاون
مذاکرات کے دوران بایوٹیکنالوجی، بیجوں کی تیاری اور زرعی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
جدید بایوٹیکنالوجی کے ذریعے بیماریوں اور موسمی دباؤ کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھنے والی فصلوں کی تیاری ممکن ہوسکتی ہے۔
پاکستان اور مصر کے تحقیقی اداروں کے درمیان رابطوں کو بڑھا کر مشترکہ تحقیق اور تجربات کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
زرعی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی بھی ایجنڈے کا حصہ
ملاقات میں زرعی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان میں زرعی شعبے کی پیداواری لاگت کم کرنے اور پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کا استعمال اہم قرار دیا جارہا ہے۔
جدید مشینری کے استعمال سے فصلوں کی بوائی، دیکھ بھال، کٹائی اور بعد از برداشت مراحل کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔
لائیو اسٹاک اور باغبانی میں تعاون کے امکانات
پاکستان اور مصر کے درمیان تعاون کا دائرہ صرف کپاس تک محدود نہیں ہوگا بلکہ لائیو اسٹاک، باغبانی، زرعی تحقیق اور غذائی تحفظ جیسے شعبے بھی باہمی تعاون کے ممکنہ میدان قرار دیے گئے۔
لائیو اسٹاک کے شعبے میں بہتر نسلوں، جانوروں کی صحت، خوراک اور جدید انتظامی طریقوں کے تجربات کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح باغبانی کے شعبے میں جدید پیداوار، پانی کے مؤثر استعمال، فصل کے بعد تحفظ اور ویلیو ایڈیشن کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے امکانات موجود ہیں۔
حکومت کی ترجیح: پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی بہتر بنانا
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی، معیاری زرعی مداخل اور تحقیق و توسیعی خدمات کے درمیان بہتر روابط قائم کرکے زرعی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔
حکومت کی کوشش ہے کہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر زرعی طریقوں تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ:
- فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔
- پیداواری لاگت کم کی جاسکے۔
- فصلوں کا معیار بہتر بنایا جاسکے۔
- پانی کے استعمال میں کمی لائی جاسکے۔
- کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔
- زرعی برآمدات کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔
مصری سفیر کی پاکستان کے ساتھ مزید تعاون کی یقین دہانی
مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن نے پاکستان کے ساتھ زرعی تعاون مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنے ملک کی آمادگی کا اظہار کیا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ متعلقہ مصری اداروں کو دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے لیے متحرک کیا جائے گا۔
مصری سفیر نے خاص طور پر کپاس کی پیداوار، آبپاشی، زرعی تحقیق اور پانی کی قلت و خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کاشت کاری کے حوالے سے مصر کے تجربات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے زرعی ماہرین اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
غذائی تحفظ کے لیے تعاون کی اہمیت
پاکستان اور مصر دونوں کے لیے غذائی تحفظ ایک اہم قومی ترجیح ہے۔
آبادی میں اضافے، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور عالمی منڈی میں خوراک کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے زرعی پیداوار کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کے نتیجے میں جدید پیداوار، پانی کے بہتر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
اس سے نہ صرف کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھ سکتی ہے بلکہ مستقبل میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے کپاس کی اہمیت
پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل شعبے کا اہم کردار ہے، جبکہ کپاس اس صنعت کے لیے بنیادی خام مال فراہم کرتی ہے۔
کپاس کی پیداوار میں کمی یا معیار میں خرابی ٹیکسٹائل صنعت کی پیداواری لاگت اور برآمدی صلاحیت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
اسی لیے کپاس کی پیداوار بڑھانے، معیاری بیج متعارف کرانے، فصل کے بہتر انتظام اور جدید زرعی تحقیق کو فروغ دینا پاکستان کے لیے معاشی اہمیت بھی رکھتا ہے۔
مصر کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کپاس کے شعبے میں جدید طریقہ ہائے کاشت کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔
مشترکہ تحقیق مستقبل کے تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے
دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صرف حکومتی سطح پر مذاکرات کافی نہیں بلکہ زرعی تحقیقی اداروں، جامعات، ماہرین اور کسانوں کے درمیان براہ راست روابط بھی ضروری ہیں۔
مشترکہ تحقیق کے ذریعے مقامی موسمی حالات کے مطابق بہتر بیج، پانی کی بچت والی تکنیک، فصلوں کے جدید انتظام اور موسمیاتی دباؤ سے نمٹنے کے طریقے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
یہ تعاون مستقبل میں مشترکہ منصوبوں اور زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
پہلے سے موجود تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت
پاکستان اور مصر اس سے قبل بھی غذائی تحفظ، آبی وسائل کے انتظام، خشک علاقوں میں کاشت کاری، بیجوں کی تیاری، ڈرِپ آبپاشی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔
حالیہ ملاقات میں دونوں فریقوں کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ باہمی دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی کرکے انہیں عملی تعاون میں تبدیل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے کسانوں اور زرعی شعبے کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔
پاکستان اور مصر کے زرعی تعاون کا وسیع تر تناظر
پاکستان اور مصر کے درمیان زرعی تعاون میں توسیع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، بڑھتی غذائی ضروریات اور زرعی پیداوار میں اضافے جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔
مصر کا خشک اور گرم ماحول میں محدود پانی کے ساتھ زرعی پیداوار برقرار رکھنے کا تجربہ پاکستان کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ پاکستان اپنی وسیع زرعی زمین، فصلوں کے تنوع اور زرعی تحقیق کے تجربات کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔
اختتامیہ: کپاس سے جدید زراعت تک نئی شراکت داری کی بنیاد
پاکستان اور مصر کے درمیان حالیہ ملاقات دونوں ممالک کے روایتی دوستانہ تعلقات کو جدید زرعی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے۔
خاص طور پر کپاس کی پیداوار اور معیار بہتر بنانے، معیاری بیجوں، پانی کی بچت والی آبپاشی، بایوٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، زرعی مشینری اور مشترکہ تحقیق میں تعاون کے امکانات پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے اہم ہیں۔
اگر ماہرین کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور تکنیکی معاونت کے منصوبوں کو عملی شکل دی جاتی ہے تو اس شراکت داری سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت، زرعی آمدنی، کپاس کے معیار اور مجموعی غذائی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔



