
سید عاطف ندیم-ادارت
کوئٹہ: بلوچستان میں دہشتگرد عناصر کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق زیارت اور ہرنائی کے سرحدی علاقے میں ایک کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک کردیئے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جن میں زیارت اور ہرنائی کے درمیان واقع ایک دشوار گزار پہاڑی علاقے میں دہشتگردوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ انٹیلیجنس معلومات کی مزید تصدیق اور نگرانی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کا منصوبہ تیار کیا۔
خفیہ اطلاعات پر آپریشن کی منصوبہ بندی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ زیارت اور ہرنائی کے درمیان پہاڑی علاقے میں دہشتگرد عناصر نے عارضی طور پر اپنی پناہ گاہ قائم کر رکھی ہے۔
دشوار گزار جغرافیہ، پہاڑی راستوں اور دور دراز علاقے کے باعث دہشتگرد عناصر اس مقام کو اپنی نقل و حرکت اور چھپنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی نگرانی شروع کی تاکہ دہشتگردوں کی موجودگی کی تصدیق کے ساتھ ساتھ ان کی نقل و حرکت اور ممکنہ ٹھکانے کا بھی تعین کیا جاسکے۔
متروکہ مکان میں دہشتگردوں کی موجودگی کی تصدیق
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نگرانی کے دوران ایک متروکہ مکان میں 3 سے 4 دہشتگردوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس معلومات کی مزید تصدیق کے بعد سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ممکنہ ٹھکانے کو گھیرے میں لینے اور انہیں علاقے سے فرار ہونے سے روکنے کے لیے کارروائی شروع کی۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران شہریوں کی سلامتی اور علاقے میں موجود دیگر افراد کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کی مصدقہ موجودگی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ان کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے بعد علاقے میں موجود دہشتگردوں کو غیر مؤثر کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کارروائی میں چار دہشتگردوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔
چار دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں متروکہ مکان میں موجود چاروں دہشتگرد مارے گئے۔
ہلاک دہشتگردوں کی شناخت اور ان کے ممکنہ نیٹ ورک سے تعلق کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ سیکیورٹی حکام کی جانب سے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق مزید معلومات تفتیش اور ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے لائے جانے کا امکان ہے۔
علاقے میں سرچ آپریشن جاری
آپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ علاقے میں کوئی دوسرا دہشتگرد موجود نہ ہو اور دہشتگردوں کی جانب سے کوئی اسلحہ، گولہ بارود یا دیگر مشکوک مواد پیچھے نہ چھوڑا گیا ہو۔
دشوار گزار پہاڑی علاقے میں سرچ کارروائی احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔
سینیٹائزیشن آپریشن بھی جاری
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن کے ساتھ علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن بھی جاری ہے۔
سینیٹائزیشن کا مقصد آپریشن کے علاقے اور اس کے گردونواح کو مکمل طور پر کلیئر کرنا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنا ہے۔
سیکیورٹی اہلکار پہاڑی راستوں، متروکہ عمارتوں اور ممکنہ پناہ گاہوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں تاکہ دہشتگردوں کے دوبارہ منظم ہونے کے امکانات کو ختم کیا جاسکے۔
زیارت اور ہرنائی کا سرحدی علاقہ اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے
زیارت اور ہرنائی کے درمیان پہاڑی علاقے بلوچستان کے دشوار گزار جغرافیہ کا حصہ ہیں۔ ایسے علاقوں میں دہشتگرد عناصر ماضی میں جغرافیائی پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کے لیے ایسے علاقوں میں انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ دہشتگرد گروہوں کی نقل و حرکت اور عارضی ٹھکانوں کا بروقت سراغ لگانا انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کا اہم حصہ ہے۔
حالیہ آپریشن میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے ٹھکانے تک پہنچنا سیکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس نیٹ ورک کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
دہشتگردوں کو منظم ہونے سے پہلے نشانہ بنانے کی حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشتگرد عناصر کو ان کے ممکنہ حملوں سے قبل نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔
اس طریقہ کار میں پہلے خفیہ اطلاعات حاصل کی جاتی ہیں، بعد ازاں نگرانی اور تصدیق کے ذریعے دہشتگردوں کی موجودگی کا تعین کیا جاتا ہے اور اس کے بعد ہدف کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
زیارت اور ہرنائی کے درمیان حالیہ آپریشن بھی اسی حکمت عملی کی ایک مثال قرار دیا جارہا ہے۔
دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا تسلسل برقرار
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
حالیہ دنوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں متعدد انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں دہشتگردوں کی ہلاکت اور ان کے ٹھکانوں سے اسلحہ و دیگر جنگی سامان کی برآمدگی شامل ہے۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد دہشتگرد نیٹ ورکس کو توڑنا، ان کی نقل و حرکت محدود کرنا اور بلوچستان میں امن و امان کو یقینی بنانا ہے۔
مقامی آبادی کے تحفظ پر خصوصی توجہ
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری کارروائیوں میں مقامی آبادی کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔
پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں آپریشن کے دوران یہ کوشش کی جاتی ہے کہ دہشتگرد عناصر اور عام شہریوں کے درمیان واضح فرق رکھا جائے اور کارروائیوں کے دوران شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
علاقے میں سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن مکمل ہونے کے بعد صورتحال کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک انٹیلیجنس بنیادوں پر آپریشنز کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔
حکام کے مطابق دہشتگردوں کو کسی بھی علاقے میں دوبارہ منظم ہونے، محفوظ ٹھکانے قائم کرنے یا شہریوں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چار دہشتگردوں کی ہلاکت اہم پیش رفت
زیارت اور ہرنائی کے سرحدی علاقے میں ہونے والی کارروائی میں چار دہشتگردوں کی ہلاکت کو بلوچستان میں جاری انسداد دہشتگردی مہم کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
انٹیلیجنس معلومات کے ذریعے دہشتگردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی، نگرانی کے دوران ان کی موجودگی کی تصدیق، مؤثر کارروائی اور بعد ازاں سرچ و سینیٹائزیشن آپریشن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیکیورٹی ادارے بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں میں بھی دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن مکمل ہونے تک کارروائی جاری رہے گی، جبکہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مزید انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز بھی کیے جائیں گے۔



