بین الاقوامیتازہ ترین

ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، عمان راستے میں آیا تو بمباری کریں گے، تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

آبنائے ہرمز پر امریکا، ایران اور عمان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا دعویٰ براہِ راست خفیہ رابطے کا بھی انکشاف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے تنازعے پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے عمان کو بھی دھمکی دے دی ہے۔ امریکی میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر عمان ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنا تو امریکا عمان کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے ایران سے بھی فوری طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تہران کو سفید جھنڈا لہرا دینا چاہیے۔


عمان کو براہِ راست فوجی کارروائی کی دھمکی

امریکی صدر نے فاکس نیوز کے صحافی ٹرے ینگسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے عمان کے حوالے سے انتہائی سخت بیان دیا۔

ٹرمپ کے مطابق اگر عمان ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ہونے والے انتظامات میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو امریکا سخت کارروائی کرے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمان ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل میں بحری آمدورفت کے انتظامات پر تہران کے ساتھ بھی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

عمان کو طویل عرصے سے خطے میں ایک نسبتاً غیر جانب دار اور سفارتی رابطہ کار کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، اس لیے امریکی صدر کی جانب سے اس کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی نے موجودہ بحران کی حساسیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔


آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے مذاکرات جاری

ایرانی اور عمانی حکام گزشتہ کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کے ذریعے مستقبل میں بحری آمدورفت کے انتظامات پر مذاکرات کررہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کے روز تصدیق کی کہ دونوں ممالک ایک مشترکہ اعلامیے کی تیاری پر کام کررہے ہیں۔

تہران اور مسقط کے درمیان ہونے والی بات چیت کا بنیادی مقصد اہم بحری گزرگاہ میں مستقبل کی بحری سرگرمیوں کے لیے ممکنہ انتظامات اور طریقہ کار طے کرنا ہے۔

تاہم امریکا بھی آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مفادات اور شرائط کے مطابق مذاکرات کررہا ہے، جس کے باعث تینوں ممالک کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔


ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ

صدر ٹرمپ مسلسل یہ مؤقف اختیار کررہے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کو کنٹرول حاصل ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اہم بحری گزرگاہ امریکا کے مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے اور واشنگٹن اسے کسی دوسرے ملک کے مکمل کنٹرول میں نہیں جانے دے سکتا۔

ٹرمپ نے اس سے قبل یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دینے پر غور کرسکتا ہے۔

ایرانی حکام نے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک تزویراتی اور علاقائی معاملہ ہے۔


ایران کا سخت جواب: آبنائے ہرمز ایرانی ہی رہے گی

امریکی صدر کے بیانات کے جواب میں ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

تہران کے مطابق یہ اہم آبی گزرگاہ ایرانی ساحلی حدود کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور ایران کسی بھی بیرونی طاقت کو اس کے مستقبل کا یکطرفہ فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے مؤثر کنٹرول کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری فوجی دباؤ کے خلاف ایک اہم تزویراتی ذریعہ بنا رکھا ہے۔


دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل اور گیس گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

خلیج فارس کے توانائی پیدا کرنے والے ممالک سے عالمی منڈیوں تک بڑی مقدار میں خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر توانائی وسائل اسی بحری راستے کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی طویل بندش، فوجی کشیدگی یا تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔


ایران نے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا

تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنا مؤثر کنٹرول امریکا کی جانب سے جاری فوجی اور معاشی دباؤ کے خلاف ایک اہم تزویراتی آپشن کے طور پر استعمال کیا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا مقصد ایرانی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنا اور تہران کو اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ بڑھا کر امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ خطے میں کسی بھی فوجی کارروائی کے معاشی اور عالمی اثرات ہوسکتے ہیں۔


آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔

اس آبی گزرگاہ کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان واقع ہے۔ یہی جغرافیائی حقیقت عمان کو آبنائے ہرمز کے معاملے میں ایک انتہائی اہم فریق بناتی ہے۔

عمان کے پاس آبنائے کے جنوبی حصے کے قریب اہم ساحلی علاقے موجود ہیں، جبکہ ایران شمالی ساحل کے بڑے حصے پر واقع ہے۔

اسی لیے دونوں ممالک کی باہمی مفاہمت آبنائے میں بحری آمدورفت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔


ٹرمپ کا ایران کو ’’ہتھیار ڈالنے‘‘ کا مطالبہ

امریکی صدر نے اپنے انٹرویو میں ایران کے خلاف سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا۔

صحافی ٹرے ینگسٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ معلومات کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دینے چاہئیں۔

یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور فوجی دباؤ میں کمی نہیں آئی۔


ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا مذاکرات میں جلدی نہیں کررہا

صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی فوری معاہدے کے لیے دباؤ میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن مذاکرات کے حوالے سے جلد بازی نہیں کررہا اور اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔

تاہم امریکا میں جنگ کے سیاسی اثرات بھی ایک اہم عنصر بن چکے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک میں آئندہ وسط مدتی انتخابات کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہورہی ہیں۔


امریکا میں جنگ کی سیاسی قیمت بھی اہم سوال

امریکا میں ایران کے ساتھ جنگ یا طویل فوجی تنازعے کو عوامی سطح پر حمایت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

حزب اختلاف کی ڈیموکریٹک پارٹی آئندہ وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر ریپبلکن جماعت کی گرفت کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

ایسی صورتحال میں ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی سیاست میں بھی ایک اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک طرف ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھنا اہم ہے جبکہ دوسری جانب جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات بھی واشنگٹن کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔


ٹرمپ کا پاسدارانِ انقلاب سے خفیہ رابطے کا دعویٰ

امریکی صدر نے انٹرویو کے دوران ایک اور اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حکام کے درمیان براہِ راست خفیہ رابطہ بھی موجود ہے۔

ٹرمپ نے اس رابطے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں تاہم ان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک چینل موجود ہے۔

اگر یہ رابطہ برقرار ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید عوامی بیانات اور فوجی دھمکیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر رابطے کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔


سفارت کاری اور فوجی دباؤ ساتھ ساتھ

ایران امریکا تنازعے میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے۔

ایک جانب امریکی صدر ایران کو ہتھیار ڈالنے اور سخت دباؤ قبول کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انتظامیہ اور ایرانی حکام کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ رابطوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

اسی طرح عمان بھی ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات کررہا ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔


عمان کے لیے نئی سفارتی مشکل

امریکی صدر کی دھمکی نے عمان کو ایک انتہائی مشکل سفارتی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔

مسقط ایک طرف ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور سفارتی تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا کے ساتھ بھی اس کے اہم تعلقات ہیں۔

عمان ماضی میں بھی ایران اور مغربی ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اب آبنائے ہرمز کے معاملے میں اسے بیک وقت ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے مفادات میں توازن قائم کرنا ہوگا۔


خطے میں وسیع جنگ کا خطرہ

اگر امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات آبنائے ہرمز سے کہیں آگے جاسکتے ہیں۔

خلیجی ممالک، بحری تجارت، توانائی کی عالمی منڈیاں اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کسی بھی نئے تنازعے سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

اسی طرح ایران کے اتحادی اور خطے میں موجود مسلح گروہ بھی کسی ممکنہ کشیدگی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، جس سے بحران کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔


عالمی برادری کی توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز

موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کس حد تک بحال ہوسکتی ہے اور ایران، امریکا اور عمان کے درمیان کوئی قابلِ عمل انتظام طے پاتا ہے یا نہیں۔

بین الاقوامی تجارت کے لیے اس راستے کی اہمیت کے باعث کسی بھی فوجی تصادم سے عالمی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔


آئندہ چند دن فیصلہ کن ہوسکتے ہیں

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی، آبنائے ہرمز پر متضاد دعوے اور عمان کے ساتھ جاری مذاکرات نے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔

ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا عندیہ دے رہی ہے، دوسری جانب تہران آبنائے ہرمز کو اپنے تزویراتی دباؤ کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔

عمان دونوں فریقوں کے درمیان ممکنہ سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے، لیکن امریکی صدر کی تازہ دھمکی نے اس سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

اختتامیہ

آبنائے ہرمز کا تنازعہ اب محض ایران اور امریکا کے درمیان اختلاف نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عمان، خلیجی خطے، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی بحری تجارت تک پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے عمان کو فوجی کارروائی کی دھمکی اور ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ امریکی مؤقف کی سختی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنے تزویراتی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔

دوسری جانب عمان اور ایران کے درمیان ممکنہ مشترکہ اعلامیے کی تیاری اس بات کی علامت ہے کہ سفارتی راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور فوجی دباؤ مزید بڑھتا ہے تو آبنائے ہرمز ایک بڑے علاقائی بحران کا مرکز بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button