مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران کی نئی دھمکی، چند ہفتوں میں معاہدے پر عمل نہ ہوا تو آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھانے کا عندیہ

ایرانی عہدیدار کا دعویٰ، واشنگٹن نے ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو تہران ’’بروقت اور درست‘‘ فوجی کارروائی کرے گا؛ سفارتی کوششیں تعطل کا شکار

خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ

تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے آئندہ چند ہفتوں کے دوران عبوری امن معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ کیا اور سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو ایران آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر علاقوں میں کشیدگی بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرسکتا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ تہران واشنگٹن کی جانب سے معاہدے کی شرائط پوری نہ کیے جانے کی صورت میں امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے ’’بروقت اور درست‘‘ فوجی کارروائی پر غور کررہا ہے۔


ایران نے امریکا کو چند ہفتوں کی مہلت دے دی

ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران نے امریکا کو معاہدے کی شرائط پوری کرنے کے لیے ایک مختصر مدت مقرر کی ہے، جو چند ہفتوں پر مشتمل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مدت کے اندر امریکا کو عبوری معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا، کیونکہ یہی واشنگٹن کے ساتھ مزید مذاکرات کے آغاز کی بنیادی شرط ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق اگر امریکا مقررہ مدت کے دوران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو تہران سفارتی عمل پر انحصار جاری رکھنے کے بجائے دوسرے آپشنز پر غور کرے گا۔

عہدیدار نے بتایا کہ ثالث ایران کی جانب سے مقرر کردہ مدت کی تفصیلات امریکا اور خطے کے دیگر ممالک تک پہنچائیں گے۔


آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر مرکزِ توجہ

ایرانی دھمکی میں آبنائے ہرمز کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں آبنائے ہرمز پہلے بھی مرکزی حیثیت اختیار کرتی رہی ہے۔ تہران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کو کھولنے یا بند رکھنے سے متعلق بیانات عالمی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔


ایرانی وزیر خارجہ کا بھی سخت مؤقف

ایرانی عہدیدار کا تازہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے وزیر خارجہ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک دوبارہ نہیں کھلے گی جب تک امریکا پہلے معاہدے میں واپس نہیں آتا۔

ایرانی مؤقف کے مطابق واشنگٹن کو پہلے اپنے وعدوں اور معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرنا ہوگا، جس کے بعد ہی تہران مزید سفارتی پیش رفت پر غور کرے گا۔

اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنی سفارتی اور تزویراتی حکمت عملی میں ایک اہم دباؤ کے ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔


جون کے معاہدے کے بعد سفارتی عمل میں تعطل

ایران اور امریکا کے درمیان جون میں ہونے والے معاہدے کے بعد دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔

تاہم ایرانی عہدیدار کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔

تہران کا الزام ہے کہ امریکا نے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا عندیہ دیا جارہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔


ایران کا سفارت کاری سے اعتماد کم ہونے کا دعویٰ

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران کا امریکا کے ساتھ سفارت کاری کے فوائد پر اعتماد مسلسل کم ہورہا ہے۔

ان کے مطابق ایران اب اپنی پالیسی کو محض دفاعی انداز سے آگے بڑھا کر زیادہ جارحانہ اور دباؤ پر مبنی حکمت عملی کی طرف منتقل کررہا ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران کے لیے یہ تاثر مضبوط ہوگیا ہے کہ امریکا جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نہیں اور مستقبل میں کسی بھی جنگ بندی کی پاسداری کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اسی وجہ سے ایران کے اندر یہ سوچ بڑھ رہی ہے کہ صرف ثالثوں پر انحصار کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کی امید رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔


’’دشمن پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے‘‘

ایرانی عہدیدار کے بیان کے مطابق تہران اب دشمن پر براہ راست دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کرنے پر غور کررہا ہے۔

ایرانی مؤقف یہ ہے کہ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ صرف سفارتی یقین دہانیوں پر انحصار کافی نہیں۔

تہران کا خیال ہے کہ اگر امریکا پر عملی دباؤ نہ ڈالا گیا تو واشنگٹن مستقبل میں بھی معاہدوں اور جنگ بندی کی شرائط سے انحراف کرسکتا ہے۔

یہ سوچ ایران کی موجودہ خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔


امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی دھمکی

ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا مقررہ مدت میں معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا اور سفارتی راستے ناکام ہوجاتے ہیں تو تہران امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔

انہوں نے اس ممکنہ کارروائی کو ’’بروقت اور درست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی اداروں کو اس صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

تاہم عہدیدار نے ممکنہ فوجی کارروائی کی تفصیلات، مقام یا وقت کے حوالے سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔


خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر علاقوں میں کشیدگی بڑھانے کے بیان نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

اگر ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست فوجی محاذ آرائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود رہنے کے بجائے پورے مشرق وسطیٰ پر پڑسکتے ہیں۔

خلیجی ممالک، عالمی بحری تجارت اور توانائی کی عالمی منڈیاں بھی کسی نئی کشیدگی سے متاثر ہوسکتی ہیں۔


عالمی توانائی منڈی کے لیے خطرے کی گھنٹی

آبنائے ہرمز کی بندش یا وہاں جہاز رانی میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔

اس راستے سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ کسی بھی فوجی کشیدگی، بحری ناکہ بندی یا تجارتی جہازوں کے لیے خطرے کی صورت میں شپنگ اخراجات، انشورنس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسی لیے ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ہر بیان کو عالمی منڈی میں انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔


امریکا کی جانب سے معاشی دباؤ جاری رکھنے کا عندیہ

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ نے ایران کو غیر معمولی معاشی تنہائی کا سامنا کرنے سے خبردار کیا ہے۔

واشنگٹن کا بنیادی دباؤ معاشی اور مالیاتی پابندیوں کے ذریعے ایران کی معیشت کو محدود کرنے پر مرکوز رہا ہے۔

امریکا ایران سے متعلق اپنے مؤقف میں یہ واضح کرتا آیا ہے کہ تہران کو اپنے علاقائی اور دفاعی اقدامات کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یوں ایک طرف ایران فوجی ردعمل کی دھمکی دے رہا ہے تو دوسری جانب امریکا معاشی دباؤ بڑھانے کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔


ثالثوں کا کردار بھی اہم ہوگیا

ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کے بجائے ثالث ممالک کا کردار بھی اس بحران میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران کی مقرر کردہ مدت اور شرائط امریکا اور خطے کے دیگر ممالک تک ثالثوں کے ذریعے پہنچائی جائیں گی۔

ثالثوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی شدید کمی کو کم کریں اور ایسے راستے تلاش کریں جن کے ذریعے معاہدے کی شرائط پر مرحلہ وار عمل درآمد ممکن ہوسکے۔


ایران کے لیے آبنائے ہرمز تزویراتی ہتھیار

ایران کے لیے آبنائے ہرمز محض ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی مقام بھی ہے۔

تہران ماضی میں متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ اگر اسے شدید فوجی یا معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تو وہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔

تاہم آبنائے ہرمز میں کسی بڑے تصادم کے نتیجے میں ایران خود بھی معاشی اور تجارتی دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے، کیونکہ عالمی تجارت اور خطے کی معیشت اس راستے سے گہری طور پر جڑی ہوئی ہے۔


خطے کے ممالک کے لیے نئی تشویش

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے بھی نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

علاقائی ممالک کے لیے بنیادی ترجیح یہ ہوگی کہ آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں میں تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں اور کشیدگی کسی وسیع جنگ میں تبدیل نہ ہو۔

خاص طور پر خلیجی ریاستیں توانائی کی برآمدات، بحری تجارت اور علاقائی سرمایہ کاری کے حوالے سے استحکام کی خواہاں ہیں۔


سفارتی راستہ ابھی بھی مکمل طور پر بند نہیں

اگرچہ ایرانی عہدیدار نے فوجی کارروائی کی واضح دھمکی دی ہے، تاہم ایران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اگر معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرتا ہے تو مزید مذاکرات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

اس طرح موجودہ صورتحال میں سفارت کاری مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے ایک محدود وقت اور مخصوص شرائط کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

آنے والے چند ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ہوسکتے ہیں کہ دونوں ممالک اعتماد بحال کرنے اور معاہدے کو دوبارہ فعال بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔


بحران کے ممکنہ نتائج

اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیاں بحال کرنے اور نئے مذاکرات کا راستہ کھلنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس کے برعکس اگر مقررہ مدت ختم ہوجاتی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے اقدامات کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں تو خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ موجود رہے گا۔

ایسی صورتحال میں آبنائے ہرمز، خلیج فارس، جنوبی ایران اور دیگر حساس علاقوں کی سکیورٹی عالمی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔

اختتامیہ

ایران کی جانب سے امریکا کو چند ہفتوں میں عبوری امن معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل درآمد کی شرط اور ناکامی کی صورت میں آبنائے ہرمز سمیت خطے میں کشیدگی بڑھانے کا انتباہ ایران اور امریکا کے درمیان موجود شدید اعتماد کے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی وعدوں سے مایوس ہوچکا ہے اور اب دشمن پر عملی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کو مزید معاشی تنہائی کا سامنا کرنے کی وارننگ دی جارہی ہے۔

صورتحال میں سب سے اہم عنصر آبنائے ہرمز ہے، جس کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت اسے کسی بھی ایران امریکا تنازع میں انتہائی حساس مقام بنا دیتی ہے۔ اگرچہ سفارتی راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم آنے والے چند ہفتوں میں امریکا اور ایران کے فیصلے خطے میں امن یا مزید کشیدگی کی سمت متعین کرسکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button