صحتتازہ ترین

امریکہ میں کنڈرگارٹن بچوں کی ویکسینیشن میں تشویشناک کمی، ریکارڈ 4.2 فیصد طلبہ کو استثنیٰ حاصل

ٹرمپ انتظامیہ کی ویکسین پالیسی پر نئی بحث، ریاستی قوانین اور والدین کے اختیارات مرکزِ توجہ بن گئے

واشنگٹن: امریکا میں کنڈرگارٹن کی سطح پر بچوں کی لازمی ویکسینیشن سے استثنیٰ حاصل کرنے والے طلبہ کی شرح گزشتہ تعلیمی سال میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کے بعد بچوں کی ویکسینیشن، والدین کے اختیارات اور متعدی بیماریوں سے تحفظ کے حوالے سے ملک بھر میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

امریکی بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز، یعنی CDC کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 کے تعلیمی سال کے دوران ملک بھر میں کنڈرگارٹن میں داخل تقریباً 4.2 فیصد بچوں کو کم از کم ایک مطلوبہ ویکسین سے استثنیٰ حاصل تھا۔ یہ شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں مزید بڑھی ہے اور دستیاب ریکارڈ میں بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس شرح کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 157 ہزار نئے اسکول جانے والے بچے کم از کم ایک مطلوبہ ویکسین کی مکمل کوریج کے بغیر اسکول میں داخل ہوئے۔


ویکسین سے استثنیٰ کی شرح میں مسلسل اضافہ

امریکا میں اسکول جانے والے بچوں کے لیے ویکسینیشن کے قوانین بنیادی طور پر ریاستی سطح پر طے کیے جاتے ہیں۔ تمام 50 ریاستوں میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کے تحت اسکول میں داخلے کے لیے مخصوص حفاظتی ٹیکے لازمی قرار دیے جاتے ہیں۔

تاہم ریاستیں مختلف حالات میں بچوں کو ان تقاضوں سے استثنیٰ بھی دیتی ہیں۔

طبی وجوہات کی بنیاد پر استثنیٰ تمام ریاستوں میں دستیاب ہے، جبکہ بیشتر ریاستیں مذہبی یا دیگر غیر طبی وجوہات کی بنیاد پر بھی ویکسینیشن سے استثنیٰ کی اجازت دیتی ہیں۔

تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر طبی استثنیٰ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ تعلیمی سال میں ویکسین سے استثنیٰ حاصل کرنے والے کنڈرگارٹن بچوں کی مجموعی شرح 4.2 فیصد رہی، جو ایک دہائی قبل کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔


طبی استثنیٰ کی شرح تقریباً مستحکم

اعداد و شمار میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ویکسین سے استثنیٰ حاصل کرنے والے بچوں میں طبی بنیاد پر استثنیٰ کی شرح میں بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

گزشتہ تعلیمی سال میں تقریباً 0.2 فیصد کنڈرگارٹن طلبہ کو طبی وجوہات کی بنیاد پر مطلوبہ ویکسین سے استثنیٰ حاصل تھا۔

یہ شرح کئی برس سے تقریباً مستحکم چلی آ رہی ہے۔

اس کے برعکس غیر طبی بنیادوں پر حاصل کیے جانے والے استثنیٰ میں اضافہ ویکسینیشن کی مجموعی شرح میں کمی کا ایک اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔


ٹرمپ انتظامیہ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ ایگزیکٹو آرڈر نے اس معاملے کو مزید سیاسی اور پالیسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

ایگزیکٹو آرڈر میں بچوں کی ویکسینیشن کے حوالے سے وفاقی حکومت کے نقطۂ نظر کو تبدیل کرنے اور والدین کو زیادہ معلومات اور انتخاب فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

حکم نامے میں خاص طور پر والدین کے اس حق کو اجاگر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکوں سے متعلق فیصلوں میں زیادہ اختیار رکھتے ہوں۔

انتظامیہ کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ ریاستوں کو ویکسینیشن کے تقاضوں میں مذہبی اور طبی استثنیٰ کی گنجائش برقرار رکھنی چاہیے۔


ویکسینیشن کے قوانین کا اختیار ریاستوں کے پاس

اگرچہ وفاقی حکومت ویکسین پالیسی کے حوالے سے نئی سمت اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم امریکی اسکولوں میں ویکسینیشن کی لازمی شرائط مقرر کرنے اور ان پر عمل درآمد کا بنیادی اختیار اب بھی ریاستوں کے پاس ہے۔

تمام 50 ریاستوں میں اسکول داخلے کے لیے مخصوص ویکسین لازمی ہیں، تاہم استثنیٰ کے قوانین ریاست بہ ریاست مختلف ہیں۔

انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ریاستوں پر زور دے گی کہ وہ اپنی ویکسینیشن پالیسیوں کو نئی وفاقی ترجیحات سے ہم آہنگ کریں۔

اس مقصد کے لیے امریکی محکمہ انصاف، محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت و انسانی خدمات سمیت متعلقہ وفاقی اداروں کو اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔


چار ریاستیں غیر طبی استثنیٰ کی اجازت نہیں دیتیں

امریکی ریاستی قوانین کے جائزے کے مطابق زیادہ تر ریاستیں طبی وجوہات کے علاوہ بھی ویکسینیشن سے استثنیٰ کی اجازت دیتی ہیں۔

تاہم کیلیفورنیا، کنیکٹی کٹ، مین اور نیویارک وہ چار ریاستیں ہیں جہاں غیر طبی بنیادوں پر اسکول ویکسینیشن سے استثنیٰ کی اجازت نہیں ہے۔

ریاستی قانون سازوں کی نیشنل کانفرنس کے مطابق باقی ریاستوں میں مذہبی یا دیگر غیر طبی بنیادوں پر مختلف نوعیت کی چھوٹ دستیاب ہے۔


نیویارک میں 2019 کے بعد قانون سخت کیا گیا

نیویارک نے 2019 میں اسکول ویکسینیشن کے لیے مذہبی استثنیٰ ختم کردیا تھا۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ریاست اور ملک کے مختلف حصوں میں خسرے کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

اس عرصے میں امریکا میں خسرے کی ایسی وبا سامنے آئی جس نے کئی دہائیوں بعد اس بیماری کے دوبارہ بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے خدشات کو نمایاں کیا۔

نیویارک کے اقدام نے ویکسینیشن لازمی قرار دینے اور والدین کے مذہبی یا ذاتی اختیارات کے درمیان توازن پر قومی سطح پر بحث کو مزید تقویت دی۔


MMR ویکسینیشن کی شرح بھی کم ہوگئی

CDC کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کنڈرگارٹن بچوں میں خسرہ، ممپس اور روبیلا (MMR) کی ویکسینیشن شرح بھی معمولی کمی کا شکار ہوئی۔

2025-26 کے تعلیمی سال میں MMR ویکسینیشن کی شرح 92.4 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ تعلیمی سال میں یہ شرح 92.5 فیصد تھی۔

بظاہر یہ کمی صرف ایک فیصد کے دسویں حصے کے برابر ہے، تاہم صحت عامہ کے ماہرین کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کہ خسرے جیسی انتہائی متعدی بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عموماً تقریباً 95 فیصد آبادی کی ویکسینیشن کوریج کو اہم سمجھا جاتا ہے۔

یوں موجودہ شرح مطلوبہ سطح سے تقریباً ڈھائی فیصد کم ہے۔


تقریباً نصف ریاستوں میں استثنیٰ کی شرح 5 فیصد سے زیادہ

CDC کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً نصف امریکی ریاستوں میں کنڈرگارٹن بچوں کے درمیان ویکسینیشن استثنیٰ کی شرح 5 فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے۔

مزید برآں، صرف نو ریاستوں کے علاوہ تقریباً تمام ریاستوں میں استثنیٰ کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ویکسینیشن سے متعلق ریاستی قوانین، والدین کے فیصلے اور صحت عامہ کی پالیسی کے درمیان تعلق آنے والے برسوں میں امریکی پالیسی بحث کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔


خسرے کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ

ویکسینیشن کی شرح میں کمی کا سب سے بڑا خدشہ خسرے جیسی انتہائی متعدی بیماریوں کے حوالے سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خسرہ ایک انتہائی تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے اور ایسے معاشروں میں جہاں ویکسینیشن کوریج مطلوبہ سطح سے نیچے چلی جائے، اس کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین صحت عامہ کے مطابق ویکسینیشن کا مقصد صرف انفرادی بچے کو بیماری سے محفوظ رکھنا نہیں بلکہ ایسی اجتماعی سطح کی قوتِ مدافعت برقرار رکھنا بھی ہے جس سے بیماری کے ایک فرد سے دوسرے فرد تک پھیلاؤ کے امکانات کم ہوں۔


والدین کے اختیار اور اجتماعی صحت کے درمیان بحث

ٹرمپ انتظامیہ کے نئے اقدامات نے امریکی معاشرے میں ایک بنیادی سوال کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے: بچوں کی ویکسینیشن کے فیصلے میں والدین کے اختیار اور اجتماعی صحت عامہ کے تقاضوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟

ویکسینیشن سے متعلق پالیسی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اسکول ایک ایسی اجتماعی جگہ ہیں جہاں مختلف خاندانوں کے بچے روزانہ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں، اس لیے ویکسینیشن کی مناسب شرح برقرار رکھنا متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے ضروری ہے۔

دوسری جانب ویکسینیشن سے متعلق زیادہ اختیارات کے حامی والدین کو اپنے بچوں کے طبی فیصلوں میں زیادہ خودمختاری دینے پر زور دیتے ہیں۔


وفاقی اور ریاستی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلی

نئے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد ایک اہم سوال یہ ہے کہ وفاقی حکومت ریاستی ویکسینیشن قوانین پر عملی طور پر کس حد تک اثر انداز ہوسکتی ہے۔

چونکہ اسکول ویکسینیشن کے لازمی تقاضے بنیادی طور پر ریاستی قوانین کے تحت آتے ہیں، اس لیے وفاقی حکومت کو اپنی پالیسی ترجیحات کو ریاستی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

وفاقی فنڈنگ اور تعلیمی و صحت کے پروگراموں سے وابستہ شرائط مستقبل میں ریاستوں پر بالواسطہ دباؤ کا ذریعہ بن سکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے انتظامیہ کے آئندہ اقدامات ہی واضح کریں گے کہ نئی پالیسی عملی طور پر کس حد تک نافذ ہوتی ہے۔


امریکہ میں ویکسینیشن پالیسی کا نیا مرحلہ

CDC کے تازہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا میں ویکسینیشن پالیسی پہلے ہی شدید سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

کنڈرگارٹن بچوں میں استثنیٰ کی ریکارڈ شرح، MMR ویکسینیشن میں معمولی کمی اور مختلف ریاستوں کے متضاد قوانین نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ماہرین کے لیے بنیادی تشویش یہ ہے کہ اگر ویکسینیشن کی شرح مسلسل کم ہوتی رہی تو انتہائی متعدی بیماریوں کے خلاف اجتماعی تحفظ متاثر ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ والدین کے انتخاب اور وفاقی ویکسین پالیسی میں تبدیلی کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رہی ہے۔

یوں امریکا میں آنے والے مہینوں کے دوران والدین کے حقوق، ریاستی اختیار، وفاقی پالیسی اور صحت عامہ کے اجتماعی مفاد کے درمیان توازن پر بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button