
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کے پہلے کارڈیک ہارٹ ٹرانسپلانٹ سینٹر کا افتتاح کر دیا
ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے درکار تقریباً 50 ہزار ڈالر کی رقم خود ادا کرے گی، تاکہ مستحق مریضوں کو زندگی بچانے والے اس علاج سے محروم نہ ہونا پڑے۔
انصار ذاہد سیال-پاکستان
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان میں دل کے پیچیدہ اور سنگین امراض کے علاج کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا باقاعدہ افتتاح کردیا، جہاں مریضوں کو جدید ترین تشخیصی، طبی اور جراحی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریم نواز شریف ہارٹ ٹرانسپلانٹ سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے، جسے پاکستان میں کارڈیک ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی سہولت کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر عوام کے لیے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی مہنگی اور پیچیدہ طبی سہولت مفت فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ایسے مستحق مریضوں کے علاج کے اخراجات برداشت کرے گی۔ حکومت پنجاب ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے تقریباً 50 ہزار امریکی ڈالر تک کی رقم خود ادا کرے گی، جبکہ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
16 ارب روپے کی لاگت سے جدید ہسپتال کی تکمیل
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی تقریباً 16 ارب روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ جدید ہسپتال میں 250 بیڈز کی گنجائش رکھی گئی ہے اور اسے بین الاقوامی طرز کے جدید طبی انفراسٹرکچر اور جدید ترین مشینری سے آراستہ کیا گیا ہے۔
ہسپتال میں دل کے مریضوں کے لیے تشخیص سے لے کر پیچیدہ آپریشن اور انتہائی نگہداشت تک علاج کی مختلف سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ عالمی معیار کی طبی سہولیات کے باعث جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو پنجاب میں دل کے پیچیدہ امراض کے علاج کے حوالے سے ایک اہم ادارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی سہولت مفت فراہم کرنے کا اعلان
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دل کی بیماری میں مبتلا ایسے مریض جنہیں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہو، ان کے لیے علاج کے اخراجات ایک بڑی رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے درکار تقریباً 50 ہزار ڈالر کی رقم خود ادا کرے گی، تاکہ مستحق مریضوں کو زندگی بچانے والے اس علاج سے محروم نہ ہونا پڑے۔
وزیراعلیٰ نے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی سہولت کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد مستحق مریضوں کو مہنگے علاج کی مالی مشکلات سے نجات دلانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف ہسپتال تعمیر کرنا نہیں بلکہ عوام کو معیاری اور جدید علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ کسی غریب یا متوسط طبقے کے مریض کو وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ ہونا پڑے۔
دل کے مریضوں کے لیے علاج شروع
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کے مریضوں کے لیے علاج معالجے کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔ افتتاح کے موقع پر جدید ترین مشینری اور مختلف طبی شعبوں کا عملی جائزہ بھی لیا گیا۔
ہسپتال میں جدید مشین پر پہلی انجیو گرافی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس کے ذریعے دل کی شریانوں اور قلبی بیماریوں کی تشخیص جدید طریقے سے ممکن ہوگی۔
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کے لیے جدید کیتھ لیب، ایم آر آئی، ماڈیولر آپریشن تھیٹرز، کارڈیک وارڈز، پیتھالوجی لیب، ریڈیالوجی، آئی سی یو اور ایمرجنسی وارڈ کو فعال کردیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کی نگرانی میں علاج
حکام کے مطابق جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کے پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے عالمی معیار کی طبی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔ عالمی شہرت یافتہ ماہرین امراض قلب کی نگرانی اور معاونت میں مقامی ڈاکٹرز اور طبی عملے کو جدید علاج اور پیچیدہ کارڈیک پروسیجرز کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے انگلینڈ کے عالمی شہرت یافتہ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر حسنات خان کی پاکستان آمد کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈاکٹر حسنات خان کو پاکستان آکر مریضوں کی خدمت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
ڈاکٹر حسنات خان کی خدمات کو سراہا گیا
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈاکٹر حسنات خان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں اپنی خدمات پیش کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بیرون ملک اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں منوانے والے پاکستانی ماہرین اگر وطن واپس آکر ملک اور قوم کی خدمت کریں تو اس کے دور رس مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹر حسنات خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان آکر خدمت کا موقع ملنے پر وہ شکرگزار ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی تربیت میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ مقامی ٹیم عالمی معیار کے مطابق پیچیدہ امراض قلب کے علاج کی صلاحیت مزید بہتر بنا سکے۔
وزیراعلیٰ کا جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا تفصیلی دورہ
افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے ہارٹ ٹرانسپلانٹ سنٹر، انجیو سوئٹ، ڈائیگناسٹک روم، او پی ڈی اور دیگر طبی شعبوں کا معائنہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے مختلف شعبوں میں موجود جدید طبی آلات اور مریضوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں بریفنگ لی۔ متعلقہ حکام اور ڈاکٹرز نے انہیں ہسپتال میں موجود جدید مشینری، علاج کے طریقہ کار اور مریضوں کی دیکھ بھال کے نظام کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا۔
مریم نواز شریف نے ماڈیولر آپریشن تھیٹر میں موجود جدید ترین ہارٹ لنگز مشین، اعلیٰ ترین معیار کے ٹیسلا ایم آر آئی اور دیگر جدید طبی مشینری کا بھی مشاہدہ کیا اور جدید سہولیات دیکھ کر اظہار مسرت کیا۔
جدید مشینری سے تشخیص اور علاج میں بہتری کی امید
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں نصب جدید طبی مشینری کا مقصد دل کے مریضوں کی بروقت اور درست تشخیص کے ساتھ ساتھ پیچیدہ بیماریوں کے علاج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید تشخیصی آلات کی دستیابی سے مریضوں کے مختلف ٹیسٹ اور طبی معائنے زیادہ مؤثر انداز میں کیے جاسکیں گے، جبکہ ماڈیولر آپریشن تھیٹرز اور جدید کارڈیک سہولیات پیچیدہ آپریشنز کے لیے معاون ثابت ہوں گی۔
ہسپتال میں آئی سی یو اور ایمرجنسی وارڈ کی فعالیت بھی انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ دل کے سنگین مریضوں کو فوری طبی امداد اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈاکٹرز اور نرسز کو وزیراعلیٰ کی اہم نصیحت
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہسپتال کے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں مریضوں کی خدمت کو اولین ترجیح بنانے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ طبی شعبے سے وابستہ افراد کو محبت وطن پاکستانی بن کر مریضوں کی خدمت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی ذمہ داری کو محض ملازمت نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک اہم قومی اور انسانی خدمت کے طور پر انجام دیں۔
مریم نواز شریف نے سٹاف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں انجام دی جانے والی ہر ڈیوٹی کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر پورا کیا جائے۔ انہوں نے مریضوں کے ساتھ حسنِ سلوک، ذمہ داری اور احساس کے ساتھ پیش آنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیرون ملک جانے کے بجائے ملک میں خدمت کا تصور
وزیراعلیٰ نے گفتگو کے دوران اس سوچ کو تبدیل کرنے پر بھی زور دیا کہ بہترین طبی سہولیات اور ماہرین کی خدمات صرف بیرون ملک دستیاب ہوسکتی ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ اس تصور کو بدلنا ہوگا کہ پاکستان میں اچھا کام نہیں ہوسکتا اور بہتر مواقع کے لیے لازماً بیرون ملک جانا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں جدید ادارے قائم کرکے اور عالمی معیار کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر ملک کے اندر ہی بہترین علاج کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے ادارے اس بات کا عملی ثبوت بن سکتے ہیں کہ پاکستان میں بھی جدید ترین طبی سہولیات، تربیت اور علاج کے عالمی معیار کو اپنایا جاسکتا ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا خطاب
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت، اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صحت کے شعبے میں جاری منصوبے صوبائی حکومت کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب باقی صوبوں سے مختلف ہے اور یہاں محنت رائیگاں نہیں جاتی۔
خواجہ سلمان رفیق نے آزاد کشمیر میں حالیہ انتخابی کامیابی کو بھی حکومت کی کارکردگی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ کارکردگی اور عوامی خدمت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کے بیشتر ہیلتھ پروگرام صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔ ان کے مطابق صحت کے شعبے میں ایسی سہولیات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن سے ملک بھر کے مریض مستفید ہوسکیں۔
منصوبے کی تکمیل میں اہم ٹیم کو خراج تحسین
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی تکمیل اور جدید سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کرنے والی ٹیم کو بھی سراہا۔
انہوں نے ڈاکٹر اظہر کیانی، ڈاکٹر فرقد عالمگیر، ڈاکٹر عدنان خان، سی ای او آئی ڈی اے پی شاہ میر اقبال، سیکرٹریز ہیلتھ عظمت محمود، نادیہ ثاقب اور دیگر متعلقہ افسران و ٹیم ممبران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جدید طبی ادارے کی تعمیر کے ساتھ اس کے مؤثر انتظام، ماہر عملے اور مریض دوست ماحول کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
پنجاب میں کارڈیک کیئر کے نئے دور کا آغاز
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح پنجاب میں امراض قلب کے علاج کے حوالے سے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 250 بستروں پر مشتمل اس جدید ادارے میں تشخیص، علاج، سرجری، انتہائی نگہداشت اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ جیسی پیچیدہ طبی ضروریات کے لیے سہولیات ایک ہی نظام کے تحت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
خصوصاً ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے خصوصی مرکز کا قیام ایسے مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن قرار دیا جا رہا ہے جو دل کی شدید بیماری کے باعث زندگی بچانے والے پیچیدہ علاج کے محتاج ہوتے ہیں۔
غریب مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن
پاکستان میں دل کے امراض ایک اہم طبی چیلنج ہیں اور پیچیدہ کارڈیک علاج عام طور پر انتہائی مہنگا ہوسکتا ہے۔ ایسے میں حکومت پنجاب کی جانب سے مستحق مریضوں کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے اخراجات برداشت کرنے کا اعلان عوامی صحت کے حوالے سے اہم قدم ہے۔
خصوصی فنڈ کے قیام اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے حکومت کی جانب سے تقریباً 50 ہزار امریکی ڈالر تک کے اخراجات برداشت کرنے کے اعلان سے ان مریضوں اور خاندانوں کو امید ملے گی جو مالی مشکلات کے باعث اس نوعیت کے علاج تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔
طبی خود انحصاری کی جانب اہم قدم
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی صرف ایک نئے ہسپتال کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان میں جدید کارڈیک کیئر کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر سامنے آیا ہے۔
عالمی معیار کے ماہرین، جدید مشینری، تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور نرسز، جدید آپریشن تھیٹرز، آئی سی یو، ایمرجنسی اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ سنٹر کی موجودگی سے پاکستان میں پیچیدہ امراض قلب کے علاج کی مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پنجاب عوام کو معیاری علاج کی سہولت ان کی دہلیز تک پہنچانے اور جدید طبی سہولیات کو عام کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح، ہارٹ ٹرانسپلانٹ سنٹر کا قیام اور مستحق مریضوں کے لیے علاج کے اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کا اعلان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنجاب میں دل کے مریضوں کے لیے جدید، قابلِ رسائی اور مالی طور پر معاون طبی نظام تشکیل دینے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔



