
پاکستان میں جعلی این او سی کیس: کے ایم سی محکمہ لینڈ کے دو افسران برطرف، اعلیٰ افسران کے کردار پر سوالات برقرار
یہ کارروائی مبینہ طور پر مختلف پلاٹوں کے جعلی اجازت ناموں، این او سیز، الاٹمنٹ اور دیگر ریکارڈ سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی۔
سید ارمغان ظفر-ادارت
کراچی: بلدیہ عظمیٰ کراچی (KMC) کے محکمہ لینڈ میں مبینہ جعلی اجازت ناموں، این او سیز، پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور ریکارڈ میں ردوبدل سے متعلق ایک اہم کارروائی سامنے آئی ہے، جہاں مختلف پلاٹوں کے مبینہ جعلی اجازت نامے اور این او سیز جاری کرنے کے معاملے میں محکمہ لینڈ کے دو افسران کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔ تاہم کارروائی کے بعد محکمہ لینڈ کے اعلیٰ افسران اور دیگر ممکنہ کرداروں کے حوالے سے کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
ذرائع اور محکمہ لینڈ سے متعلق سینئر حلقوں کا کہنا ہے کہ جن دو افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، ان کے علاوہ بھی بعض اعلیٰ افسران اور دیگر بااثر افراد کے کردار کی مکمل چھان بین ضروری ہے، کیونکہ محکمہ لینڈ میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ، موٹیشن، لیز، سب لیز، ٹرانسفر، نقشوں کی فارورڈنگ، این او سی اور دیگر اہم معاملات ایک باقاعدہ دفتری نظام کے تحت مختلف مراحل سے گزرتے ہیں۔
دو افسران ملازمت سے برطرف
کے ایم سی کی جانب سے جاری کیے گئے حکمنامے کے مطابق گریڈ 18 کے ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ حافظ مغیر قادری اور ڈپٹی ڈائریکٹر نعمان احمد کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔
یہ کارروائی مبینہ طور پر مختلف پلاٹوں کے جعلی اجازت ناموں، این او سیز، الاٹمنٹ اور دیگر ریکارڈ سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران تحقیقاتی رپورٹ، معطلی کے احکامات، شوکاز نوٹس اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، جبکہ افسران کے مؤقف اور دستیاب حقائق کو بھی کارروائی کا حصہ بنایا گیا۔
کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر HRM سید سیف عباس کے دستخط سے جاری حکمنامے میں NO.SR.DIR/KMC/2026/7199(HRM) کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کی تاریخ 17 اگست 2026 بتائی گئی ہے۔
حکمنامے میں مختلف الزامات پر مشتمل تفصیلی پیراز کی بنیاد پر انتظامی کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہل پارک کے قیمتی پلاٹ کا معاملہ
تحقیقات میں سامنے آنے والے اہم معاملات میں کراچی کے اہم علاقے ہل پارک، کلفٹن کے پلاٹ نمبر C-45 کا معاملہ بھی شامل بتایا جاتا ہے، جس کا رقبہ تقریباً 2,668 مربع گز ہے۔
ذرائع کے مطابق اس پلاٹ کی الاٹمنٹ، موٹیشن اور مبینہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) میں نقشے کی اجازت سے متعلق کارروائی کی گئی۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ ہل پارک اور اس کے اطراف کی زمینیں کراچی کے انتہائی قیمتی علاقوں میں شمار ہوتی ہیں اور ایسے پلاٹوں سے متعلق کسی بھی غیر قانونی یا جعلی دستاویز کے استعمال سے سرکاری خزانے اور شہری ملکیت کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ڈائریکٹر لینڈ کے کردار پر سوالات
دو افسران کے خلاف کارروائی کے بعد محکمہ لینڈ کے اندر اور باہر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آیا اس پورے معاملے میں صرف نچلے یا درمیانے درجے کے افسران ہی ذمہ دار تھے یا فائلوں کی منظوری اور نگرانی کرنے والے اعلیٰ حکام کے کردار کی بھی مکمل تحقیقات کی گئیں۔
محکمہ لینڈ کے بعض سینئر افسران کا مؤقف ہے کہ محکمے میں اہم نوعیت کی فائلیں مختلف سطحوں سے گزرتی ہیں اور موٹیشن، لیز، سب لیز، ٹرانسفر، نقشوں کی فارورڈنگ اور این او سی جیسے معاملات میں متعلقہ افسران کے دستخط اور منظوری شامل ہوتی ہے۔
اسی بنیاد پر یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ اگر کسی اہم پلاٹ کے حوالے سے مبینہ جعلی دستاویز یا اجازت نامہ جاری ہوا تو اس کی منظوری کے پورے سلسلے کی ذمہ داری کا تعین کیوں نہ کیا جائے۔
تاہم ان الزامات اور سوالات کے حوالے سے متعلقہ اعلیٰ افسران کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ضروری ہے تاکہ حقائق واضح ہوسکیں۔
ڈائریکٹر لینڈ نے دستخط جعلی قرار دیے؟
ذرائع کے مطابق ہل پارک کے معاملے میں ڈائریکٹر لینڈ سے منسوب دستخطوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھے، جبکہ مبینہ طور پر متعلقہ اعلیٰ افسر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے دستخط جعلی تھے۔
یہ معاملہ مزید تحقیقات کا متقاضی ہے کیونکہ اگر کسی سرکاری افسر کے نام یا دستخط سے جعلی اجازت نامہ جاری کیا گیا تو اس امر کا تعین ضروری ہوگا کہ جعلی دستاویز کس نے تیار کی، اسے کس سطح پر استعمال کیا گیا اور متعلقہ ریکارڈ میں اسے کس طریقے سے شامل کیا گیا۔
قانونی اور انتظامی ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں صرف دستاویز تیار کرنے والے شخص کا تعین کافی نہیں ہوتا بلکہ پورے دفتری عمل اور ذمہ داری کے تعین کی ضرورت ہوتی ہے۔
الہ دین پارک کے سرکاری بنگلے کا معاملہ
تحقیقاتی معاملات میں الہ دین پارک میں فاریسٹ افسر کے سرکاری بنگلے سے متعلق مبینہ اجازت نامے کا معاملہ بھی شامل بتایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق سرکاری بنگلے کی جگہ پر بلند و بالا عمارت کے نقشے اور کمرشل بلڈنگ کے اجازت نامے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔
سرکاری اراضی اور سرکاری رہائشی عمارتوں کو تجارتی یا نجی تعمیرات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت سے متعلق کسی بھی اقدام کی قانونی حیثیت کا تعین ریکارڈ، منظوریوں اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں کیا جانا ضروری ہے۔
مسلم آباد اور دیگر سرکاری پلاٹوں کے معاملات
تحقیقات میں مسلم آباد میں سرکاری بنگلے سے متعلق مبینہ بلڈنگ اجازت نامے اور دیگر پلاٹوں کے این او سیز کا معاملہ بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض ایسی زمینوں اور پلاٹوں سے متعلق ریکارڈ بھی زیرِ جائزہ آیا جن پر مبینہ طور پر ایسی دستاویزات تیار یا جاری کی گئیں جو بعد میں متنازع قرار پائیں۔
ان معاملات میں اصل ریکارڈ، الاٹمنٹ کی تاریخ، موٹیشن، متعلقہ منظوریوں، نقشے اور این او سی جاری کرنے کے مراحل کا جائزہ لے کر ذمہ داری طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے۔
کھادر کے کیٹل پانڈ کا پلاٹ بھی زیر بحث
تحقیقاتی کارروائی میں کھادر میں واقع کیٹل پانڈ (Cattle Pond) کی زمین کا معاملہ بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جانوروں کے لیے مختص اس سرکاری اراضی کو مبینہ طور پر ایک شہری کے حق میں جعلی دعوے کی بنیاد پر الاٹ کرنے اور موٹیشن تیار کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم معاملہ میڈیا میں آنے کے بعد مبینہ کارروائی کو منسوخ کردیا گیا۔
یہ معاملہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ اگر کسی سرکاری زمین کے بارے میں جعلی دعویٰ سامنے آیا تو اسے ابتدائی سطح پر روکنے کے بجائے کارروائی آگے بڑھنے کی نوبت کیوں آئی۔
جمشید کوارٹرز اور JM-631 کا معاملہ
محکمہ لینڈ سے متعلق دیگر معاملات میں جمشید کوارٹرز کے پلاٹوں اور اجازت ناموں کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آباد کے چیئرمین حسن بخشی کی شکایت پر جمشید کوارٹرز سے متعلق بعض این او سیز منسوخ کیے گئے تھے۔
اسی حوالے سے JM-930 اور JM-631 کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ ذرائع کے مطابق حسن بخشی نے تحریری طور پر مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان معاملات میں محکمہ لینڈ کے کسی افسر کا براہ راست کردار نہیں تو پھر ذمہ دار افسران کے نام واضح کیے جائیں۔
ان کا مؤقف بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی درخواست واپس نہیں لیں گے اور معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔
عدالتی حکم کے باوجود الاٹمنٹ کا الزام
JM-631 کے معاملے میں ذرائع کے مطابق یہ الزام بھی سامنے آیا کہ عدالتی حکم کے باوجود کسی اور شخص کے نام الاٹمنٹ یا مبینہ جعلی اجازت نامہ جاری کیا گیا۔
اس نوعیت کے معاملے میں عدالتی ریکارڈ، الاٹمنٹ فائل، محکمہ لینڈ کا اصل ریکارڈ اور متعلقہ اجازت ناموں کا تقابلی جائزہ انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔
اگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو معاملہ محض محکمانہ بدعنوانی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے قانونی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔
پرانی سبزی منڈی کے قریب 2-B پلاٹ کا معاملہ
محکمہ لینڈ سے متعلق ایک اور اہم معاملہ پرانی سبزی منڈی کے قریب پلاٹ نمبر 2-B کا ہے، جس کا رقبہ تقریباً 2,654 مربع گز بتایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ایک کمرشل پلاٹ تھا جسے نیلامی کے دوران تقریباً 55 کروڑ روپے کی بولی موصول ہوئی، تاہم کے ایم سی نے مبینہ طور پر نیلامی منسوخ کردی۔
بعد ازاں اسی زمین سے متعلق چھوٹے رقبے کے پلاٹوں کے چالان جاری کیے جانے کے الزامات سامنے آئے۔ ذرائع کے مطابق معاملے میں تین ملازمین کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔
اس کیس کی تحقیقات کے دوران بینک میں جمع ہونے والے چالان اور متعلقہ فائلوں کی جانچ پڑتال بھی کی گئی۔
چالان اور بینک ریکارڈ کی تحقیقات
ذرائع کے مطابق مختلف پلاٹوں کے حوالے سے جاری ہونے والے چالان اور ان کی بینک میں جمع شدگی کا ریکارڈ بھی تحقیقاتی عمل کا حصہ بنا۔
تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض معاملات میں اعلیٰ افسران کے کردار کے حوالے سے سوالات پوری طرح حل نہیں ہوسکے۔ خاص طور پر یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اگر فائل اور چالان کا دفتری عمل اعلیٰ سطح تک پہنچتا ہے تو ذمہ داری صرف ماتحت ملازمین تک کیوں محدود رہی۔
یہی وجہ ہے کہ محکمہ لینڈ کے اندر بعض افسران اور ملازمین تحقیقات کے دائرہ کار اور ذمہ داری کے تعین کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
اسلم کاشمیری سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث
ذرائع نے محکمہ لینڈ کے حوالے سے ایک اور حساس معاملے کی نشاندہی کی ہے جس میں مبینہ لینڈ گریبر اسلم کاشمیری کا نام سامنے آتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک جگہ سے مبینہ قبضہ ختم کرانے کے دوران ایک کم عمر بچی کی ہلاکت کا واقعہ بھی پیش آیا تھا، جبکہ اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی اور مقدمے سے متعلق امور عدالت میں زیر سماعت ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس واقعے کے حوالے سے حتمی ذمہ داری کا تعین عدالت اور متعلقہ تفتیشی اداروں کے فیصلوں سے مشروط ہوگا۔
کڈنی ہل کے چار الاٹمنٹس پر بھی سوالات
محکمہ لینڈ میں کڈنی ہل سے متعلق چار مبینہ الاٹمنٹس پر بھی کارروائی نہ ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کڈنی ہل کی زمین کے معاملات پہلے بھی مختلف مواقع پر توجہ کا مرکز رہے ہیں، تاہم حالیہ تحقیقات کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان چاروں الاٹمنٹس کا مکمل ریکارڈ بھی سامنے لایا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ الاٹمنٹ کس بنیاد پر ہوئی اور متعلقہ افسران نے کیا کردار ادا کیا۔
دیگر علاقوں کے پلاٹ بھی تحقیقات کے منتظر
محکمہ لینڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاکس بے، بلدیہ ٹاؤن، جمشید ٹاؤن، لیاری، صدر، فریئر کوارٹرز اور دیگر اولڈ سٹی ایریاز میں سرکاری زمینوں اور پلاٹوں سے متعلق بھی مختلف شکایات اور اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔
ان حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اگر جعلی دستاویزات یا اجازت ناموں کے حوالے سے کارروائی کی جارہی ہے تو تحقیقات کو صرف چند کیسز تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ کراچی کی سرکاری زمینوں سے متعلق تمام حساس معاملات کا جامع آڈٹ کیا جائے۔
معطل افسر کا قانونی تقاضوں پر اعتراض
دوسری جانب ایک معطل افسر کی جانب سے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں نہ مناسب شوکاز دیا گیا، نہ مکمل تحقیقات کا موقع ملا، نہ الزامات پر مشتمل چارج شیٹ فراہم کی گئی اور نہ ہی دفاع کا مؤثر موقع دیا گیا۔
متعلقہ افسر کا مؤقف ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے وقت متعلقہ سروس رولز اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔
اس مؤقف کی آزادانہ تصدیق اور قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور مجاز فورم ہی کرسکتا ہے۔
محکمہ لینڈ کے انتظامی اختیارات بھی سوالیہ نشان
ذرائع نے محکمہ لینڈ کے انتظامی امور کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موٹیشن، لیز، سب لیز، ٹرانسفر، توسیع، نقشوں کی فارورڈنگ، این او سی اور دیگر اہم معاملات میں اختیار کے استعمال کا واضح اور شفاف طریقہ کار ہونا چاہیے۔
اسی طرح افسران کی تقرری اور تبادلوں کے حوالے سے بھی یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آیا تمام احکامات مجاز اتھارٹی کے ذریعے جاری کیے جارہے ہیں یا نہیں۔
ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ محکمہ لینڈ میں انتظامی اختیارات کس قانونی فریم ورک کے تحت استعمال کیے جارہے ہیں۔
50 ارب روپے مالیت کی زمینوں سے متعلق خدشات
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کے ایم سی کی بڑی مالیت کی سرکاری زمینوں سے متعلق گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد شکایات سامنے آئی ہیں اور بعض حلقے مجموعی طور پر تقریباً 50 ارب روپے مالیت کے پلاٹوں سے متعلق بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں۔
تاہم اس دعوے کی حتمی تصدیق کے لیے کے ایم سی کے سرکاری ریکارڈ، آڈٹ رپورٹس اور متعلقہ تحقیقاتی دستاویزات سامنے آنا ضروری ہیں۔
اگر بڑے پیمانے پر سرکاری اراضی کے غلط استعمال یا جعلی دستاویزات کے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف کے ایم سی کو مالی نقصان ہوسکتا ہے بلکہ شہریوں کی ملکیت اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی منفی اثر پڑسکتا ہے۔
کارروائی صرف دو افسران تک محدود رکھنے پر سوالات
موجودہ کارروائی کے بعد بنیادی سوال یہ سامنے آیا ہے کہ اگر دو افسران کو مختلف پلاٹوں کے جعلی این او سیز اور اجازت ناموں کے معاملے میں ذمہ دار قرار دے کر برطرف کیا گیا ہے تو فائلوں کے مکمل سلسلے میں شامل دیگر افسران کی ذمہ داری کا تعین کس سطح تک کیا گیا۔
محکمہ لینڈ کے سینئر حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی حساس فائل میں صرف آخری دستخط کرنے والے یا کارروائی مکمل کرنے والے ملازم کے بجائے پورے عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ کسی بھی افسر یا سیاسی شخصیت کے خلاف الزام کو اس وقت تک حتمی حقیقت نہ سمجھا جائے جب تک متعلقہ تحقیقاتی ادارہ، محکمانہ انکوائری یا عدالت شواہد کی بنیاد پر کوئی حتمی فیصلہ نہ دے۔
مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ
موجودہ صورتحال میں شہری اور سرکاری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ کے ایم سی محکمہ لینڈ کے حساس پلاٹوں، الاٹمنٹس، موٹیشن، لیز، سب لیز، این او سیز اور نقشوں سے متعلق معاملات کا جامع فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔
خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں زمین کی مالیت کروڑوں یا اربوں روپے بنتی ہے، اصل فائل، نوٹنگ، منظوری، دستخط، چالان، بینک ریکارڈ اور متعلقہ اداروں کے درمیان خط و کتابت کا مکمل جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جن افسران پر الزامات ہیں انہیں بھی قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جانا چاہیے، تاکہ کارروائی شفاف اور قابلِ اعتماد رہے۔
کے ایم سی میں اصلاحات کی ضرورت
محکمہ لینڈ سے متعلق حالیہ تنازع نے ایک بار پھر کراچی میں سرکاری اراضی کے انتظام، ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور اختیارات کی تقسیم کے نظام پر توجہ مرکوز کردی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پلاٹوں کا مکمل ریکارڈ ڈیجیٹل کیا جائے، ہر منظوری کے لیے ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جائے، افسران کے دستخطوں کی ڈیجیٹل تصدیق ہو اور ہر این او سی یا موٹیشن کا قابلِ آڈٹ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے تو جعلی دستاویزات کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔
اسی طرح اہم سرکاری زمینوں کے معاملات میں باقاعدہ تھرڈ پارٹی آڈٹ اور آزاد نگرانی کا نظام بھی شفافیت بڑھا سکتا ہے۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان
محکمہ لینڈ کے حالیہ کیس میں دو افسران کی برطرفی کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ اگر مزید شواہد سامنے آئے تو تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔
ہل پارک، الہ دین پارک، مسلم آباد، کھادر کے کیٹل پانڈ، جمشید کوارٹرز، کڈنی ہل اور پرانی سبزی منڈی کے قریب 2-B پلاٹ سمیت دیگر حساس معاملات کے ریکارڈ کی جامع جانچ سے ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ بے ضابطگیوں کی اصل نوعیت کیا تھی اور ان میں کون کون سے افراد ذمہ دار تھے۔
اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ سرکاری زمین کے تحفظ اور شہریوں کے اعتماد کے لیے کیا کارروائی صرف دو افسران کی برطرفی تک محدود رہے گی یا فائلوں کی منظوری اور نگرانی کی مکمل زنجیر کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں گی؟
کے ایم سی اور محکمہ لینڈ کی جانب سے اس معاملے پر تفصیلی اور باضابطہ وضاحت سامنے آنے کے بعد ہی مختلف الزامات کی اصل حیثیت واضح ہوسکے گی۔ فی الحال دو افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، تاہم کراچی کی قیمتی سرکاری زمینوں سے متعلق وسیع تر سوالات کے جوابات اب بھی باقی ہیں۔



