
بھارت میں گریجویٹس کو ملازمتیں کیوں نہیں مل رہیں؟
بھارت کے اقتصادی سروے 2024-25 کی بنیاد پر تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق صرف 8.25 فیصد گریجویٹس ایسے عہدوں پر کام کر رہے ہیں، جو ان کی تعلیمی قابلیت سے مطابقت رکھتے ہیں۔
جاوید اختر ، نئی دہلی
نیتی آیوگ (سابقہ پلاننگ کمیشن) مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو پالیسی سازی کے لیے اسٹریٹیجک اور تکنیکی مشورے فراہم کرتا ہے۔
بھارت کے اقتصادی سروے 2024-25 کی بنیاد پر تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق صرف 8.25 فیصد گریجویٹس ایسے عہدوں پر کام کر رہے ہیں، جو ان کی تعلیمی قابلیت سے مطابقت رکھتے ہیں۔
بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں۔ ایک بھارتی روزنامے کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ جن کورسز میں طلبہ داخلہ لیتے ہیں اور ڈگریاں مکمل کر کے نکلتے ہیں، وہ انہیں ملازمت کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں کرتے۔ ان کے مطابق یہ کورسز اکثر طلبہ کو کاروبار یا انٹرپرینیورشپ کے لیے بھی تیار نہیں کرتے۔

ڈگریوں اور مارکیٹ کی ضروریات میں عدم تعلق
نیتی آیوگ کی اس رپورٹ کے مطابق متعدد تعلیمی اداروں میں نصاب پرانا ہے اور صنعتوں کی بدلتی ہوئی ضروریات سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں۔ نتیجتاً ڈگریاں، ڈپلومے اور سرٹیفیکیٹس ہمیشہ روزگار کے قابل بنانے والی صلاحیت میں تبدیل نہیں ہو پاتے۔
ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ملک میں انڈر گریجویٹ پروگرامز میں زیرتعلیم تقریباً 3.4 کروڑ طلبہ میں سے 1.13 کروڑ صرف بیچلر آف آرٹس (BA) پروگرام میں داخل ہیں، جبکہ BA، بی ایس سی (BSc) اور بی کام (BCom) میں مجموعی داخلے دو کروڑ سے زیادہ ہیں۔
نیتی آیوگ کا کہنا ہے کہ ان پروگرامز کا روزگار سے تعلق کمزور ہے لیکن بہت سے طلبہ ان ڈگریوں کا انتخاب اس لیے بھی کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے انہیں سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کی اہلیت حاصل ہو جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ BA، BCom یا BSc کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اکثر یہ ڈگریاں طالب علم یا ممکنہ آجر کو یہ واضح نہیں کرتیں کہ کوئی گریجویٹ عملی طور پر کیا کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نیتی آیوگ کے مطابق عمومی BA، BCom اور BSc ڈگریاں براہ راست ملازمت میں تبدیل ہونے کے امکانات کم رکھتی ہیں، جبکہ بعض ابتدائی سطح کی ملازمتوں کے لیے بھی Tally یا Microsoft Office جیسی اضافی عملی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

تعلیم یافتہ لیکن ملازمت کے لیے نامناسب
نیتی آیوگ کی رپورٹ میں اجاگر کیا گیا ہے کہ عدم توازن صرف روزگار کے اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ طلبہ خود بھی اپنی تعلیم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 34 فیصد طلبہ نے تعلیم کے دوران مہارتوں کی کمی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا، جبکہ 18 فیصد نے انٹرویو کے لیے تیاری کی کمی کی نشاندہی کی۔
رپورٹ میں کارکنوں کے درمیان ڈیجیٹل اور مواصلاتی مہارتوں کی کمی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔
سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ 80 فیصد طلبہ نے عملی تجربے اور صنعت سے براہ راست واقفیت کی کمی کو اپنی ڈگریوں میں ایک بڑی خامی قرار دیا۔

سرکاری ملازمت طلبہ کی اولین ترجیح
نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان صرف 55 ہزار سرکاری عہدوں کے لیے 1.86 کروڑ درخواستیں موصول ہوئیں۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی خواہش اور دستیاب محفوظ سرکاری ملازمتوں کی محدود تعداد کے درمیان کتنا زیادہ فرق ہے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف مزید سرکاری ملازمتیں پیدا کرنا نہیں ہے۔ اس کے بجائے تعلیمی نظام کو نوجوانوں کو مختلف راستوں کے لیے تیار کرنا چاہیے، جن میں ملازمت، کاروبار، خود روزگاری اور خاندانی کاروبار میں شمولیت یا اس کی توسیع شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کو اپنی دلچسپی کے مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا کسی مقامی تکنیکی یونیورسٹی سے مخصوص عملی مہارت سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، جہاں انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس مہارت کو عملی طور پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں عملی کورسز کی تدریس میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض اوقات اساتذہ جدید اور ابھرتے ہوئے مضامین پڑھاتے ہیں، لیکن خود انہیں صنعت میں عملی تجربہ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ناکافی بنیادی سہولیات طلبہ کو محدود یا پرانی عملی معلومات تک محدود کر سکتی ہیں۔



