
امریکہ اور ایران میں کشیدگی برقرار، نئی پابندیوں اور سفارتی راستے پر ایک ساتھ زور
ٹرمپ کے مطابق ایران ’شدت سے‘ معاہدہ چاہتا ہے، تاہم ان کے بقول اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی قیادت اس معاہدے کی ان شرائط پر آمادہ نہیں جو امریکہ ضروری سمجھتا ہے۔
ایجنسیاں
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ایک دوسرے کو سخت پیغامات دینے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے پیر کو ایران کے خلاف نئی اور سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان متوقع ہے، جن کے اثرات ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں، خصوصاً چین، تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی جھڑپیں فی الحال رک چکی ہیں، لیکن کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ سفارتی سطح پر بھی کوئی جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ واشنگٹن اقتصادی پابندیوں اور فوجی دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کا اشارہ دے رہا ہے، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام، خودمختاری اور قومی حقوق سے دستبردار ہونے سے انکار کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا دوہرا پیغام: مذاکرات بھی، فوجی آپشن بھی برقرار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے حالیہ بیانات میں ایک ہی وقت میں دو مختلف پیغامات دیے ہیں۔ ایک جانب وہ کہتے ہیں کہ ایران کسی معاہدے کے لیے تیار ہے اور سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن دوسری جانب ان کا کہنا ہے کہ تہران ایسا معاہدہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جسے واشنگٹن مناسب سمجھتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران ’شدت سے‘ معاہدہ چاہتا ہے، تاہم ان کے بقول اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی قیادت اس معاہدے کی ان شرائط پر آمادہ نہیں جو امریکہ ضروری سمجھتا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں اضافے کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن نے فوجی کارروائی کا آپشن ترک کر دیا ہے۔
اس طرح امریکی حکمتِ عملی میں بیک وقت تین عناصر نمایاں دکھائی دیتے ہیں: اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی۔
آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا سخت مؤقف
امریکی صدر نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے اسے ’امریکی سرزمین‘ قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع یہ راستہ دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
موجودہ بحران میں آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے، جبکہ امریکہ اسے عالمی تجارت اور توانائی کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکہ خود نہیں جانتا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی میں مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا، لیکن موجودہ حالات میں معاہدے کی شرائط اور طریقہ کار پر شدید اختلاف برقرار ہے۔
ایران کی معیشت پر شدید دباؤ
امریکی صدر نے ایران کی اقتصادی صورتحال پر بھی سخت تبصرہ کیا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران میں مہنگائی کی شرح انتہائی بلند ہو کر تقریباً 350 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ایرانی حکومت کو اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم ہونے کے بعد عالمی توانائی کی قیمتیں موجودہ سطح کے مقابلے میں مزید کم ہو سکتی ہیں۔
تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے امریکی دعووں اور دباؤ کو تہران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ شدید اقتصادی دباؤ کے باوجود ایران اپنے بنیادی قومی مفادات، خودمختاری اور جوہری پروگرام سے متعلق حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
صدر مسعود پزشکیان کا مؤقف
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے مفاہمت کی یادداشت کے لیے مذاکرات اپنی طاقت کے عروج پر کیے اور اس دوران اپنے حقوق سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔
پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران جوہری مذاکرات میں اپنے حقوق کا مطالبہ جاری رکھے گا۔
ایرانی قیادت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے ایسے کسی سمجھوتے کا خواہاں ہے جس میں ایران کے بنیادی مفادات اور حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
یہی نکتہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ اختلاف کا بنیادی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر سخت شرائط عائد کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس کی خودمختاری اور قانونی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
تقریباً چھ ماہ سے جاری بحران
دونوں ممالک کے درمیان موجودہ جنگی بحران کو تقریباً چھ ماہ ہونے والے ہیں۔ اگرچہ اس وقت امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر براہِ راست فائرنگ نہیں کر رہے، تاہم کشیدگی میں خاطر خواہ کمی بھی نہیں آئی۔
اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریق فی الحال کسی جامع معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات بھی نہیں کر رہے۔
اس صورتحال نے ایک ایسی غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے جس میں جنگ کی شدت کم ہونے کے باوجود تنازع کے دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ برقرار ہے۔
علاقائی ممالک اور عالمی طاقتوں کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر سفارتی راستہ مکمل طور پر بند ہوا تو معمولی نوعیت کا کوئی واقعہ بھی دوبارہ بڑے فوجی تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر
بحران کا سب سے اہم عالمی اثر توانائی کی تجارت پر پڑ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل عملی طور پر شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنے اثر و رسوخ پر زور دے رہا ہے اور خبردار کر رہا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر گزرنے والے بعض تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں طویل عرصے تک متاثر رہیں تو عالمی توانائی کی منڈیوں پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ سے نہ صرف خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے بلکہ ایشیا اور یورپ سمیت ان خطوں میں بھی توانائی کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں جو خلیج فارس سے آنے والی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں۔
امریکہ کی ’تاریخ کی سخت ترین پابندیوں‘ کی تیاری
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ پیر کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق دوپہر دو بجے پریس کانفرنس کریں گے، جس میں ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
بیسنٹ پہلے ہی ایران کے خلاف ’تاریخ کی سخت ترین پابندیوں‘ کے اعلان کا وعدہ کر چکے ہیں۔
نئی پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانا اور اس کی آمدنی کے اہم ذرائع کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے۔
امریکی حکمتِ عملی میں خاص طور پر ان کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور تجارتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے جو ایران کے ساتھ اہم اقتصادی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
چین پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان
نئی امریکی پابندیوں کا سب سے حساس پہلو چین سے متعلق ہے۔
چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ایرانی خام تیل کا بڑا خریدار بھی ہے۔ کیپلر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق چین ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زیادہ تیل خریدتا ہے۔
اگر واشنگٹن نے ایسی ثانوی پابندیاں عائد کیں جن کا ہدف ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے غیر ملکی ادارے ہوں، تو چینی کمپنیوں اور دیگر کاروباری اداروں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہ صورتحال امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
بیجنگ مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ امریکہ اور ایران کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے بحران حل کرنا چاہیے۔ چین کے لیے ایران کے ساتھ توانائی کا تجارت برقرار رکھنا بھی اہم ہے، جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی اور بڑے تجارتی شراکت دار ایران پر عائد پابندیوں کے نفاذ میں تعاون کریں۔
ایران کا امریکی پابندیوں پر ردعمل
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی نئی پابندیوں کے ممکنہ اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
بقائی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیاں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ امریکہ اپنی بالادستی دوسرے خودمختار ممالک تک بھی پھیلانا چاہتا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مؤقف اختیار کیا کہ ایسی ثانوی پابندیوں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں۔
تہران کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو اپنی ملکی قانون سازی کے ذریعے دوسرے ممالک اور ان کی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تجارت سے روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
امریکی حملوں کے بعد ایران کی فوجی صلاحیت
موجودہ بحران نے ایران کی فوجی اور اقتصادی صلاحیت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
امریکی حملوں کے نتیجے میں ایرانی معیشت کو نقصان پہنچنے اور اس کی بحری و فضائی صلاحیتوں کے کمزور ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ایران کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرونز کی قابلِ ذکر تعداد موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تہران کی یہی صلاحیت خطے کے لیے ایک اہم خطرہ سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ایران اب بھی تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت میں خلل ڈالنے اور خطے میں اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی وجہ سے خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حساس علاقوں میں فوجی سرگرمیوں پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔
عالمی منڈیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں۔
دنیا کی توانائی کی منڈی پہلے ہی جغرافیائی سیاسی تنازعات، سپلائی میں رکاوٹوں اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث دباؤ میں رہتی ہے۔ ایسے میں آبنائے ہرمز جیسے اہم راستے میں کسی بھی طویل تعطل سے عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور متعدد یورپی ممالک خلیجی خطے سے توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ان ممالک کے لیے بھی اقتصادی چیلنج بن سکتا ہے۔
اگر نئی امریکی پابندیاں ایرانی تیل کی برآمدات کو مزید محدود کرتی ہیں تو ایک طرف ایران کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں تیل کی دستیابی اور قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سفارت کاری کے امکانات ابھی باقی
شدید بیانات اور اقتصادی دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ مکمل طور پر بند دکھائی نہیں دیتا۔
ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے مذاکرات اور اپنے حقوق کے تحفظ پر زور دینا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی نہ کسی مرحلے پر مذاکرات کی گنجائش موجود ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ آیا دونوں فریق ایسی شرائط پر اتفاق کر سکتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے قابلِ قبول ہوں۔
امریکہ ایران سے ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو اس کے جوہری پروگرام اور دیگر علاقائی معاملات کے حوالے سے واشنگٹن کے خدشات کو دور کرے، جبکہ ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس کے قومی حقوق اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔
اگلا مرحلہ انتہائی اہم
اب سب کی نظریں امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی متوقع پریس کانفرنس اور نئی پابندیوں کی تفصیلات پر مرکوز ہیں۔
اگر نئی پابندیاں صرف ایرانی اداروں تک محدود رہیں تو ان کا اثر ایک حد تک ایران کی معیشت تک رہ سکتا ہے، لیکن اگر واشنگٹن نے چین یا دیگر ممالک کی کمپنیوں کو بھی ثانوی پابندیوں کے ذریعے نشانہ بنایا تو بحران کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال بھی عالمی منڈیوں کے لیے اہم رہے گی۔ کسی بھی تجارتی یا فوجی واقعے سے بحران دوبارہ براہِ راست جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
نتیجہ
امریکہ اور ایران اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں جنگ، اقتصادی دباؤ اور سفارت کاری تینوں راستے بیک وقت موجود ہیں۔ واشنگٹن تہران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ایران اپنے جوہری حقوق اور خودمختاری سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایرانی تیل کی برآمدات، چین کا کردار اور امریکہ کی نئی پابندیاں آنے والے دنوں میں اس بحران کی سمت طے کرنے والے اہم عوامل ہوں گے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست لڑائی فی الحال رکی ہوئی ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں کسی جامع سفارتی معاہدے کی عدم موجودگی اس بات کو یقینی نہیں بناتی کہ کشیدگی طویل عرصے تک اسی سطح پر برقرار رہے گی۔ آنے والے دنوں میں واشنگٹن کے اقتصادی فیصلے اور تہران کا ردعمل یہ طے کر سکتے ہیں کہ خطہ مذاکرات کی طرف بڑھتا ہے یا ایک بار پھر وسیع تر فوجی تصادم کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے۔



