مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران میں غیر ملکیوں سے رابطہ جرم قرار دینے کا قانون زیرغور

تاہم یہ بل ابھی قانون نہیں بنا۔ اس کا حتمی منظوری کے لیے ایران کی 12 رکنی شوریٰ نگہبان (گارڈین کونسل) سے بھی منظور ہونا ضروری ہے۔

نیلوفر غلامی

ایران میں غیر ملکی اداروں، میڈیا اور بیرون ملک قائم تنظیموں سے رابطوں پر سخت پابندیاں عائد کرنے والا ایک نیا قانون زیر غور ہے۔ بعض معاملات میں اس کی خلاف ورزی پر فوجداری کارروائی اور قید کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت غیر ملکی میڈیا سے رابطہ، بیرون ملک یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون، غیر ملکی سفارت خانوں اور تنظیموں سے رابطے اور غیر ملکی مالی معاونت حاصل کرنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، یا ان سرگرمیوں کے لیے پیشگی سرکاری اجازت درکار ہو گی۔

تاہم یہ بل ابھی قانون نہیں بنا۔ اس کا حتمی منظوری کے لیے ایران کی 12 رکنی شوریٰ نگہبان (گارڈین کونسل) سے بھی منظور ہونا ضروری ہے۔

حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون غیر ملکی خفیہ اداروں، حکومتوں اور تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے ردعمل میں ضروری ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ایران میں جاسوسی پہلے ہی قانون کے تحت جرم ہے، تاہم غیر ملکی ”اثر و رسوخ‘‘ سے نمٹنے کے لیے واضح قانونی فریم ورک موجود نہیں۔

مجوزہ قانون پر اعتراضات

جرمنی میں مقیم ایرانی وکیل اور قانونی ماہر سینا یوسفی کے مطابق مجوزہ قانون کی متعدد شقوں میں جائز بین الاقوامی رابطے اور غیر ملکی اثر و رسوخ کے درمیان حد واضح نہیں کی گئی، جس کی تشریح بالآخر سکیورٹی اداروں اور عدالتوں پر چھوڑ دی جائے گی۔

ان کے مطابق اگر کسی شہری کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ غیر ملکی میڈیا سے بات کرنا، کسی غیر ملکی یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کرنا یا معلومات شیئر کرنا بعد میں جرم قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں، تو ایسا قانون معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کرے گا۔

ایران پہلے ہی دنیا کے سخت ترین میڈیا ماحول رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے 2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ایران 180 ممالک میں سے 177ویں نمبر پر ہے۔

ایرانی مظاہرین تہران میں احتجاج کے دوران سڑک بند کرتے ہوئے جلتی ہوئی گاڑیوں کے گرد جمع ہیں (تصویر  8 جنوری 2026 کی ہے)
ایران میں بدامنی کے دوران معلومات تک رسائی اور سوشل میڈیا کے استعمال پر بارہا پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیںتصویر: Aghasht/Middle East Images/IMAGO

معلومات تک رسائی مزید مشکل ہونے کا خدشہ

جرمنی میں مقیم صحافی اور ڈیفینڈنگ فری فلو آف انفارمیشن کے سینئر محقق پرویز یاری نے مجوزہ قانون کو آزادی اظہار محدود کرنے کی ایرانی حکومت کی مسلسل کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

ان کے مطابق اسلامی جمہوریہ نے معلومات کے آزادانہ بہاؤ کو روکنے اور آزادیٔ اظہار محدود کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے ہیں، اور مجوزہ قانون آزاد میڈیا اور بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ایران کے اندر سے معلومات حاصل کرنا مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صحافیوں، شہریوں اور محققین کی بعض نئی سرگرمیوں کو جرم قرار دینا ایک طرف آزاد میڈیا اور بین الاقوامی اداروں کی براہ راست ذرائع تک رسائی محدود کرنے کی کوشش ہے، جبکہ دوسری طرف اس کا مقصد سرکاری پروپیگنڈا مشینری کے اثر کو بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔

دو سال تک قید کی سزا

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مجوزہ بل کی ایک شق میں ایسے میڈیا اداروں کو انٹرویو دینے یا ان سے گفتگو کرنے پر چھ ماہ سے لے کر دو سال تک قید کی سزا کی تجویز دی گئی ہے جنہیں ایرانی حکومت ”جمہوریہ کا دشمن‘‘ قرار دے۔

ان کے مطابق مجوزہ قانون اپوزیشن میڈیا اور بین الاقوامی تنظیموں سے غیر معمولی حد تک وسیع روابط کو جرم قرار دے سکتا ہے، جس سے صحافیوں اور محققین کے پیشہ وارانہ کام میں رکاوٹ پیدا ہو گی اور ریاست کے معلومات پر کنٹرول میں مزید اضافہ ہو گا۔

مجوزہ قانون کی اہم ترین شقوں میں سے ایک غیر ملکی اداروں کے ساتھ سائنسی اور تعلیمی تعاون سے متعلق ہے۔ وزارت انٹیلیجنس کو ہر سال ان غیر ملکی یونیورسٹیوں اور اداروں کی فہرست جاری کرنا ہو گی، جن کے ساتھ سائنسی اور تحقیقی تعاون کی اجازت ہو گی۔

اس فہرست میں شامل نہ کیے گئے اداروں کے ساتھ تعاون ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔ غیر مجاز غیر ملکی اداروں کو طبی، تحقیقی یا آثارِ قدیمہ کے نمونے بھیجنے پر بھی فوجداری کارروائی حتیٰ کہ قید کی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس طرح بین الاقوامی تعلیمی اور تحقیقی تعاون کی متعدد شکلیں براہ راست وزارت انٹیلیجنس کی منظوری سے مشروط ہو جائیں گی۔

اسمارٹ فون کے پس منظر میں اسٹارلنک کا لوگو اور ایران کا جزوی طور پر نظر آنے والا پرچم دکھائی دے رہا ہے
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے 2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ایران 180 ممالک میں سے 177ویں نمبر پر ہے۔تصویر: Andre M. Chang/picture alliance/ZUMA Press Wire

حکومتی کنٹرول مزید مضبوط ہونے کا خدشہ

سویڈن میں مقیم ایرانی قانونی ماہر معین خزائلی نے خبردار کیا ہے کہ یہ قانون سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دبانے کے لیے ایک اور ذریعہ بن سکتا ہے۔

ان کے مطابق مجوزہ قانون ایسی عام سرگرمیوں کو بھی جرم بنا سکتا ہے، جنہیں دنیا کے بیشتر ممالک میں غیر قانونی نہیں سمجھا جاتا۔

خزائلی نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی عام جرم مثلاً کسی کی بےعزتی کرنے یا سڑک پر ہونے والی لڑائی کی سزا بھی اس صورت میں بڑھائی جا سکتی ہے، اگر حکام یہ طے کریں کہ اس جرم کے پیچھے کسی غیر ملکی فریق کی ہدایت یا اثر و رسوخ تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button