تازہ ترینانٹرٹینمینٹ

گاندھی کے ذاتی تحریری نوٹس کی ریکارڈ 17 لاکھ ڈالر میں نیلامی

نیلامی میں گاندھی کی چرخی، چرخی کاتنے کے نظم و ضبط سے متعلق تحریریں، مسودات، خطوط اور تصاویر سمیت دیگر ذاتی اشیا بھی شامل تھیں۔

سیرت چابا

اپنے ایک دوست کے نام لکھی گئی ان مختصر تحریروں میں سچ، خدا اور عدم تشدد سمیت ان موضوعات پر گاندھی کے ذاتی خیالات شامل ہیں، جنہیں وہ اپنی عوامی جدوجہد میں بھی نمایاں کرتے تھے۔

مبصرین کے مطابق یہ کسی بھارتی تاریخی دستاویز کے لیے نیلامی میں ادا کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔

گاندھی کے زیر استعمال اشیا کی تصاویر
نیلامی میں گاندھی کی چرخی، چرخی کاتنے کے نظم و ضبط سے متعلق تحریریں، مسودات، خطوط اور تصاویر سمیت دیگر ذاتی اشیا بھی شامل تھیںتصویر: Saffronart

نیلام گھر سیفرون آرٹ کے مطابق یہ نوٹس گاندھی نے اپنے قریبی ساتھی آنند ہنگورانی کے نام 1944 سے 1946 کے درمیان لکھے تھے۔ ہنگورانی کی اہلیہ ودیا کے انتقال کے بعد لکھے گئے، ان نوٹس میں سچ، خدا اور عدم تشدد سمیت ان موضوعات پر گاندھی کے ذاتی خیالات شامل ہیں، جنہیں وہ اپنی عوامی جدوجہد میں بھی نمایاں کرتے تھے۔

بعد ازاں ان تحریروں کو ”اے تھاٹ فار دا ڈے‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل بھی دی گئی تھی۔

یہ مجموعہ ہنگورانی کے خاندان نے کئی دہائیوں تک محفوظ رکھا۔ نیلامی میں گاندھی کی چرخی، چرخی کاتنے کے نظم و ضبط سے متعلق تحریریں، مسودات، خطوط اور تصاویر سمیت دیگر ذاتی اشیا بھی شامل تھیں۔

آنند ہنگورانی کی گاندھی سے پہلی ملاقات 1930 میں ہوئی تھی۔ بعد میں وہ برطانوی راج کے خلاف گاندھی کی مشہور نمک مارچ مہم میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوئے۔

سیفرون آرٹ کے شریک بانی دنیش وزیرانی کے مطابق،”اس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے بھارت کی تاریخ کی ایک اہم ترین شخصیت کو ایک قریبی اور ذاتی تعلق کی نظر سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘

گاندھی نے برطانوی راج سے آزادی کے لیے بھارت کی پُرامن اور عدم تشدد پر مبنی تحریک کی قیادتکی اور دنیا بھر میں کئی تحریکوں کو متاثر کیا۔ انہیں جنوری 1948 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

نئی دہلی میں پارلیمان کے باہر مہاتما گاندھی کا ایک مجسمہ
گاندھی کو ان کے عدم تشدد کے فلسفے کے سبب دنیا بھر میں آج بھی احترام سے یاد کیا جاتا ہے
مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button