
جواد احمد-ادارت
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے ہفتے کو یوکرین کا دورہ کیا۔ ان کا یہ دورہ یوکرین کی آزادی کی 35 ویں سالگرہ سے چند روز قبل اور ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس یوکرین پر میزائل حملوں میں شدت لے آیا ہے۔
خصوصی ٹرین کے ذریعے کییف کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پہنچنے کے بعد جرمن وزیر نے روس کے بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے ماسکو پر شہریوں کے ’’اندھا دھند قتل‘‘ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو دانستہ تباہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
یہ دورہ کییف پر روسی میزائل حملوں میں 16 افراد کی ہلاکت کے چند روز بعد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایک روز قبل صدر وولودیمیر زیلنسکی کے آبائی شہر کریوی ریہ میں ایک شاپنگ سینٹر پر حملے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 130 زخمی ہوئے۔
واڈے فیہول نے کہا کہ روس یوکرینی عوام کے ذرائع معاش تباہ کرکے ان کی مزاحمت کا عزم توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق جولائی اور اگست کے مہینے گزشتہ چار برس سے زائد عرصے میں یوکرینی شہریوں کے لیے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئے ہیں۔
یورپی یونین میں لازمی فوجی سروس
انہوں نے کہا، ’’روس نے اس سے پہلے کبھی اپنے ہمسایہ ملک پر اتنے زیادہ میزائل نہیں داغے۔ ہم لوگوں کی تکلیف دیکھ رہے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ ملک کس طرح جدوجہد کر رہا ہے اور ہم اس کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘‘
جرمن وزیر خارجہ نے کہا، ’’ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ اس فوجی تصادم میں کامیاب ہوگا۔‘‘
انہوں نے فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد جنگ کے پانچویں موسم سرما کی تیاری کرنے والے یوکرین کے لیے مزید مدد کا وعدہ کیا۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید روسی حملوں کا خدشہ ہے۔
وادیفول کے مطابق یوکرین کو فوجی اور مالی امداد فراہم کرنے میں جرمنی کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ سرمایہ خرچ کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ
مہینوں میں سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے باوجود روس کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے گا۔



