مشرق وسطیٰتازہ ترین

داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کے بارے میں معلومات پر 80 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان

امریکی حکام کے مطابق اس کی سرگرمیوں میں مسلح حملوں، خودکش دھماکوں اور دیگر پیچیدہ نوعیت کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی شامل رہی ہے۔

مدثر احمد – ادارت
امریکی وزارتِ خارجہ نے داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر 80 لاکھ ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان امریکی حکومت کے "انعام برائے انصاف” (Rewards for Justice) پروگرام کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایسے افراد کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات حاصل کرنا ہے جو دہشت گردی کی کارروائیوں یا دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ثناء اللہ غفاری، جو شہاب المہاجر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، داعش خراسان کا اہم ترین رہنما ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ تنظیم کی افغانستان میں کارروائیوں، حملوں کی منظوری اور مالی وسائل کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

ثناء اللہ غفاری کون ہے؟

امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق ثناء اللہ غفاری 1994 میں افغانستان میں پیدا ہوا اور بعد ازاں داعش خراسان میں ایک اہم مقام تک پہنچا۔

غفاری کو جون 2020 میں داعش کی مرکزی قیادت کی جانب سے داعش خراسان کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ امریکی حکومت کے مطابق تنظیم میں اعلیٰ قیادت سنبھالنے سے قبل وہ کابل میں سرگرم تھا اور مختلف مسلح کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری میں ملوث رہا۔

امریکی حکام کے مطابق اس کی سرگرمیوں میں مسلح حملوں، خودکش دھماکوں اور دیگر پیچیدہ نوعیت کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی شامل رہی ہے۔

داعش خراسان کیا ہے؟

داعش خراسان، جسے عام طور پر داعش-کے یا ISIS-K بھی کہا جاتا ہے، داعش کا علاقائی دھڑا ہے جو بنیادی طور پر افغانستان اور خطے کے بعض دیگر علاقوں میں سرگرمیوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

تنظیم نے افغانستان میں مختلف نوعیت کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ماضی میں افغان اور غیر ملکی اہداف کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنانے والے حملوں سے اس کا نام جوڑا جاتا رہا ہے۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی داعش خراسان کو ایک اہم عسکری اور سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

امریکہ نے انعام کا اعلان کیوں کیا؟

امریکی وزارتِ خارجہ کے Rewards for Justice پروگرام کے تحت جاری کردہ اعلان کا بنیادی مقصد غفاری کے بارے میں ایسی معلومات حاصل کرنا ہے جو اس کی شناخت یا گرفتاری میں مدد دے سکیں۔

امریکی حکومت نے اس کے لیے 80 لاکھ ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کی ہے۔

اس قسم کے انعامات امریکی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے اہم رہنماؤں کے بارے میں ایسی معلومات حاصل کی جائیں جو عام ذرائع سے دستیاب نہ ہوں۔

ان معلومات میں کسی مطلوب شخص کے ٹھکانے، شناخت، نقل و حرکت یا اس سے متعلق دیگر قابلِ اعتماد معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔

غفاری پر حملوں کی منظوری کا الزام

امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق ثناء اللہ غفاری داعش خراسان کے حملوں کی منظوری دینے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے اس نے افغانستان میں داعش خراسان کی کارروائیوں کی نگرانی کی اور تنظیم کی عسکری سرگرمیوں سے متعلق اہم فیصلوں میں کردار ادا کیا۔

واشنگٹن کے مطابق غفاری کا کردار صرف حملہ آوروں کی قیادت تک محدود نہیں بلکہ تنظیم کے مالی معاملات سے بھی منسلک رہا ہے۔

مالی وسائل کی نگرانی بھی اہم ذمہ داری

امریکی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ غفاری داعش خراسان کے مالی وسائل کی نگرانی کا ذمہ دار بھی رہا ہے۔

دہشت گرد تنظیموں کے لیے مالی وسائل ان کی کارروائیوں کے تسلسل میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ رقم کے ذریعے جنگجوؤں کی مدد، نقل و حرکت، سازوسامان، افرادی قوت اور دیگر آپریشنل سرگرمیوں کو سہارا دیا جاسکتا ہے۔

اسی وجہ سے امریکی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی میں دہشت گرد تنظیموں کے مالی نیٹ ورک کو کمزور کرنا بھی اہم ترجیح ہے۔

کابل میں سرگرمیوں کا پس منظر

امریکی حکومت کے مطابق داعش خراسان کی قیادت سنبھالنے سے پہلے غفاری کابل میں سرگرم تھا۔

واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ اس عرصے میں وہ مسلح حملوں، خودکش دھماکوں اور دیگر پیچیدہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری میں ملوث رہا۔

یہی سابقہ سرگرمیاں بعد میں اسے داعش خراسان کی اعلیٰ قیادت تک پہنچانے میں اہم ثابت ہوئیں۔

جون 2020 میں تنظیم کی قیادت

امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق جون 2020 میں داعش کی مرکزی قیادت نے ثناء اللہ غفاری کو داعش خراسان کا سربراہ مقرر کیا۔

اس تقرری کے بعد افغانستان میں تنظیم کی سرگرمیوں کے حوالے سے غفاری کو مرکزی شخصیت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

داعش خراسان کی قیادت سنبھالنے کے بعد اس کے خلاف مختلف ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے سکیورٹی اقدامات اور پابندیوں میں بھی اضافہ ہوا۔

افغانستان میں سکیورٹی صورتحال

داعش خراسان کی موجودگی افغانستان میں سکیورٹی کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔

اگرچہ طالبان حکام متعدد مواقع پر داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں اور تنظیم کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، تاہم تنظیم کے حملوں اور اس کے ارکان کی موجودگی سے متعلق رپورٹس مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔

داعش خراسان افغانستان کے اندر اپنی موجودگی کے ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک کے لیے بھی خطرے کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔

خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی تشویش

داعش خراسان کی سرگرمیاں صرف افغانستان تک محدود نہیں سمجھی جاتیں۔ تنظیم کے بارے میں پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے بعض ممالک میں بھی سکیورٹی خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال، سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت اور مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی نے خطے میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اسی وجہ سے ثناء اللہ غفاری جیسے اہم رہنماؤں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا امریکی اور علاقائی سکیورٹی اداروں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

80 لاکھ ڈالر کا انعام کس مقصد کے لیے؟

امریکی حکومت کی جانب سے مقرر کیا گیا 80 لاکھ ڈالر تک کا انعام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن غفاری کو داعش خراسان کے ڈھانچے میں ایک انتہائی اہم شخصیت سمجھتا ہے۔

Rewards for Justice پروگرام کے ذریعے امریکی حکومت پہلے بھی دہشت گرد تنظیموں کے اہم ارکان کے بارے میں معلومات دینے پر مالی انعامات کا اعلان کرتی رہی ہے۔

ایسے پروگرام کا مقصد عام شہریوں، مقامی ذرائع اور دیگر افراد کو ترغیب دینا ہوتا ہے کہ وہ ایسی معلومات فراہم کریں جو حکومت کے لیے کسی مطلوب شخص تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

امریکی پالیسی میں مطلوب افراد کی اہمیت

امریکہ کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی میں دہشت گرد تنظیموں کے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانا ایک اہم پہلو رہا ہے۔

تنظیمی سربراہوں کے خلاف کارروائی یا ان کی گرفتاری سے تنظیم کی قیادت، مالیاتی نظام، حملوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔

اسی تناظر میں غفاری کے بارے میں معلومات کے لیے بڑا انعام مقرر کیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر داعش خراسان پر نظر

داعش خراسان کو کئی ممالک اور عالمی ادارے ایک خطرناک عسکریت پسند تنظیم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تنظیم نے افغانستان میں متعدد مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس کے ممکنہ نیٹ ورک اور بیرونِ ملک حملوں کی صلاحیت کے بارے میں بھی سکیورٹی ادارے مسلسل جائزہ لیتے رہے ہیں۔

افغانستان میں داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کے باوجود تنظیم کا مکمل خاتمہ ایک مشکل چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

طالبان حکومت کے لیے بھی بڑا چیلنج

افغانستان میں داعش خراسان کی موجودگی طالبان حکومت کے لیے بھی ایک اہم سکیورٹی چیلنج ہے۔

طالبان حکام کا مؤقف رہا ہے کہ انہوں نے داعش خراسان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں اور تنظیم کے متعدد ارکان کو گرفتار یا ہلاک کیا ہے۔

تاہم مختلف حملوں کے بعد یہ سوال بھی اٹھتا رہا ہے کہ آیا داعش خراسان افغانستان میں اپنی تنظیمی صلاحیت کو مکمل طور پر برقرار رکھنے میں کامیاب ہے یا نہیں۔

غفاری کی تلاش میں نئی پیش رفت؟

امریکی حکومت کی جانب سے 80 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ثناء اللہ غفاری اب بھی واشنگٹن کی انسدادِ دہشت گردی ترجیحات میں شامل ہے۔

تاہم امریکی حکام نے اس اعلان کے ساتھ غفاری کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں کوئی ایسی تفصیل فراہم نہیں کی جس سے اس کی موجودہ جغرافیائی موجودگی یقینی طور پر معلوم ہوسکے۔

اسی طرح انعام کے اعلان سے یہ بھی لازماً ثابت نہیں ہوتا کہ امریکی حکام کو اس کے موجودہ مقام کے بارے میں کوئی مخصوص معلومات حاصل ہیں۔

انعام برائے انصاف پروگرام کیا ہے؟

امریکی وزارتِ خارجہ کا Rewards for Justice پروگرام دہشت گردی اور دیگر سنگین سکیورٹی خطرات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے ذریعے امریکی حکومت ایسے افراد کے بارے میں معلومات کے عوض مالی انعامات کا اعلان کرتی ہے جن کے بارے میں خیال ہو کہ وہ دہشت گرد حملوں، دہشت گرد تنظیموں یا ان کے مالی و انتظامی نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

پروگرام کا مقصد امریکی حکومت کو ایسی معلومات تک رسائی فراہم کرنا ہے جو روایتی انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کرنا مشکل ہوسکتی ہیں۔

انعام کے اعلان کا علاقائی اثر

ماہرین کے لیے یہ اعلان اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ داعش خراسان افغانستان میں موجود ایک ایسے گروہ کے طور پر سامنے آتی رہی ہے جس کی سرگرمیاں خطے کی سرحدوں سے آگے اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔

اگر غفاری کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات حاصل ہوتی ہیں تو اس سے داعش خراسان کے تنظیمی ڈھانچے، مالی ذرائع اور آپریشنل سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

اہم نکات ایک نظر میں

  • امریکہ نے ثناء اللہ غفاری کے بارے میں معلومات پر 80 لاکھ ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
  • غفاری کو شہاب المہاجر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
  • امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ داعش خراسان کا سربراہ ہے۔
  • اسے جون 2020 میں داعش کی مرکزی قیادت نے داعش خراسان کا سربراہ مقرر کیا تھا۔
  • امریکی حکام کے مطابق وہ افغانستان میں حملوں کی منظوری اور منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
  • واشنگٹن کے مطابق غفاری تنظیم کے مالی وسائل کی نگرانی میں بھی ملوث رہا ہے۔
  • امریکی حکام کے مطابق وہ پہلے کابل میں داعش خراسان کی سرگرمیوں سے وابستہ تھا۔
  • داعش خراسان افغانستان اور خطے میں سرگرم داعش کا علاقائی دھڑا ہے۔
  • امریکی انعام کا مقصد غفاری کی شناخت یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات حاصل کرنا ہے۔
  • غفاری کا موجودہ ٹھکانہ امریکی اعلان میں واضح نہیں کیا گیا۔

نتیجہ

امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کے بارے میں 80 لاکھ ڈالر تک کے انعام کا اعلان افغانستان اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف امریکی پالیسی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ واشنگٹن غفاری کو داعش خراسان کے تنظیمی، عسکری اور مالی ڈھانچے میں ایک مرکزی شخصیت قرار دیتا ہے اور اس کی شناخت یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔

غفاری کے بارے میں امریکی الزامات میں افغانستان میں حملوں کی منظوری، کارروائیوں کی نگرانی اور تنظیم کے مالی وسائل کا انتظام شامل ہے۔ دوسری جانب داعش خراسان کی مسلسل موجودگی افغانستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے لیے سکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے۔

اب امریکی حکام کی توجہ اس بات پر ہوگی کہ آیا انعام کے اعلان کے بعد غفاری کے بارے میں ایسی قابلِ اعتماد معلومات سامنے آتی ہیں جو امریکی یا علاقائی اداروں کو اس تک پہنچنے میں مدد دے سکیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button