
تبدیلی ہم سے……..علی عباس کاظمی
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ بھی ہے کہ ہم ہر سیاسی تبدیلی کو نظام کی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا
ہماری سیاسی یادداشت شاید دنیا کی سب سے مختصر یادداشت ہے۔ ہم کل کے وعدے آج بھول جاتے ہیں، آج کے دعوے کل بھول جائیں گے، مگر ہر انتخاب سے پہلے ایک بار پھر امید باندھ لیتے ہیں کہ اس مرتبہ کچھ مختلف ہوگا۔ نیا چہرہ سامنے آتا ہے، نئے الفاظ بولتا ہے، پرانے دکھوں کو اپنی تقریروں کا ایندھن بناتا ہے اور ہم اس کے نعروں میں اپنے مستقبل کی تصویر تلاش کرنے لگتے ہیں۔ چند ماہ بعد جب وہی مہنگائی، وہی بے روزگاری، وہی بجلی کے بل اور وہی دفتروں کے چکر ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں تو ہم مایوس ضرور ہوتے ہیں، مگر اپنی مایوسی کی اصل وجہ تلاش نہیں کرتے۔ پھر اگلے انتخاب میں ایک نیا چہرہ ہماری امیدوں کا وارث بن جاتا ہے۔
یہاں سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ شاید سیاست دان نہیں، ہماری سیاسی نفسیات بھی ہے۔ ہم رہنما کو اس کی کارکردگی سے نہیں، اس کے نعرے سے پہچانتے ہیں۔ ہمیں منشور سے زیادہ شخصیت متاثر کرتی ہے، دلیل سے زیادہ جذبات، اور کردار سے زیادہ جماعتی وابستگی۔سیاسی وابستگی ہمیں یہاں تک لے جاتی ہے کہ رہنما کا غلط فیصلہ بھی ہمیں درست اور اس کی ناکامی بھی قابلِ دفاع محسوس ہوتی ہے۔ وہ غلط فیصلہ کرے تو ہم جواز تلاش کرتے ہیں، وعدہ پورا نہ کرے تو حالات کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اگر کوئی اس پر تنقید کرے تو اسے اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ یوں سیاست اقتدار کے احتساب کے بجائے شناخت کی جنگ بن جاتی ہے۔
اس رویے کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جو عوامی جذبات کو سیاسی سرمایہ بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ انتخابی مہم میں عام آدمی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی تقدیر بدلنے والی ہے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد فیصلوں کی دنیا بدل جاتی ہے۔ وہاں نعرے نہیں، مفادات، معاشی دباؤ، طاقت کے مراکز، ادارہ جاتی کمزوریاں اور سیاسی سمجھوتے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت ان پیچیدہ حقیقتوں سے نمٹنے کی بجائے صرف مخالفین کو شکست دینے میں اپنی توانائی صرف کرے تو اقتدار تبدیلی کا ذریعہ نہیں رہتا، محض کرسی کے تحفظ کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ بھی ہے کہ ہم ہر سیاسی تبدیلی کو نظام کی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا۔ اگر فیصلہ سازی کے اصول وہی ہوں، اداروں کی کمزوریاں وہی رہیں، احتساب کا معیار سیاسی وابستگی سے طے ہو، ٹیکس کا بوجھ ایک محدود طبقے کے بجائے عام شہری اٹھاتا رہے، تعلیم قابلیت پیدا کرنے کے بجائے صرف اسناد بانٹتی رہے اور روزگار میرٹ کے بجائے تعلقات کا محتاج ہو تو حکمران بدلنے سے عوام کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کیسے آئے گی؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے پرانی عمارت پر نیا رنگ کر کے اسے نئی عمارت قرار دے دیا جائے۔
تعلیم کا بحران اس سیاسی بیماری کی جڑوں میں کہیں زیادہ گہرا دکھائی دیتا ہے۔ جو معاشرہ بچوں کو سوال کرنے کے بجائے صرف جواب یاد کرنے کی تربیت دے، وہاں آنے والی نسلیں باشعور شہری نہیں بلکہ ہدایات پر چلنے والے افراد بنتی ہیں۔ رٹا ہوا طالب علم امتحان پاس کر سکتا ہے، مگر زندگی کے پیچیدہ سوالات کا سامنا نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان ڈگریاں لے کر بھی سمت تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ قابلیت موجود ہے، محنت کا جذبہ موجود ہے، مگر ایسا ماحول کم ہے جہاں ذہانت کو راستہ اور میرٹ کو موقع مل سکے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس نوجوان کو ملک کی تعمیر میں حصہ لینا چاہیے تھا، وہ اپنی صلاحیت کے لیے کسی دوسرے ملک میں جگہ تلاش کرنے لگتا ہے۔
ہجرت صرف ہوائی اڈے سے گزرنے کا نام نہیں۔ جب ایک نوجوان اپنے ملک میں مستقبل کا تصور چھوڑ دیتا ہے تو دراصل معاشرہ اس کا ایک خواب کھو دیتا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان، ماہرِ ٹیکنالوجی اور کاروباری ذہن جب بہتر امکانات کی تلاش میں باہر جاتے ہیں تو صرف افراد نہیں جاتے، ان کے ساتھ سرمایۂ فکر بھی نکل جاتا ہے۔ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ ملک میں بہترین لوگ کیوں نہیں بچتے۔ شاید ہمیں کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نے بہترین لوگوں کے لیے بچنے کی کتنی وجوہات پیدا کی ہیں؟
دوسری طرف عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہر پانچ سال بعد صرف سیاست دانوں کو موردِ الزام ٹھہرانا آسان ہے، مگر ووٹ دیتے وقت ہم خود کیا دیکھتے ہیں؟ کیا ہم امیدوار کی دیانت، اہلیت، سابقہ کارکردگی اور مقامی مسائل پر اس کے موقف کا جائزہ لیتے ہیں؟ یا صرف برادری، تعلق، شخصیت، جذبات اور سوشل میڈیا کے شور سے فیصلہ کرتے ہیں؟ ہم اگر ووٹ کو قومی امانت کے بجائے ذاتی وفاداری بنا دیں تو پھر شکایت کا حق بھی محدود ہو جاتا ہے۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔۔۔ یہ ووٹ کے بعد سوال کرنے، حساب مانگنے اور غلطی تسلیم کرنے کا شعور بھی چاہتی ہے۔
سیاسی اختلاف بھی ہمارے ہاں عجیب صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہم اپنے پسندیدہ رہنما کی خاطر دوستیاں ختم کر لیتے ہیں، خاندانوں میں تلخی پیدا کر لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو غدار، جاہل یا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کے سیاسی مفادات کے لیے ہم لڑتے ہیں، وہ ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے سے مذاکرات بھی کر لیتے ہیں۔ اس تضاد پر ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔ اگر سیاست دان اختلاف کے باوجود مفاد کے مقام پر بات کر سکتے ہیں تو عوام اختلاف کے باوجود شائستگی کیوں نہیں بچا سکتے؟ کیا سیاسی وابستگی نے ہمیں شہری ہونے سے پہلے جماعتی کارکن بنا دیا ہے؟
اس پورے منظرنامے میں میڈیا اور سوشل میڈیا بھی ایک طاقتور کردار ادا کرتے ہیں۔ خبر اب صرف خبر نہیں رہی،وہ ایک جذباتی ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔ ایک ویڈیو، ایک جملہ یا ایک من گھڑت دعویٰ چند گھنٹوں میں لاکھوں ذہنوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہم تحقیق سے پہلے یقین کر لیتے ہیں، دلیل سے پہلے فیصلہ اور حقیقت سے پہلے غصہ۔ یوں سیاسی شعور کے بجائے سیاسی شور بڑھتا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں معلومات بہت ہوں مگر تصدیق کا شعور کم ہو، وہاں عوام کو گمراہ کرنا مشکل نہیں رہتا۔
اس چکر کو توڑنے کے لیے کسی ایک نجات دہندہ کا انتظار شاید سب سے بڑی غلطی ہے۔ حقیقی تبدیلی اس وقت شروع ہوگی جب ووٹر اپنے ووٹ کو شخصیت کی محبت سے نکال کر قومی ذمہ داری سمجھے گا، جب استاد سوال کرنے والا ذہن پیدا کرے گا، جب صحافت شور کے بجائے تحقیق کو ترجیح دے گی، جب ادارے افراد کے بجائے قانون کے تابع ہوں گے اور جب سیاست دان یہ سمجھیں گے کہ اقتدار انعام نہیں، عوامی امانت ہے۔ تبدیلی کسی جلسے کے اسٹیج پر پیدا نہیں ہوتی۔۔۔ وہ گھر، اسکول، دفتر، عدالت، بازار اور ووٹ کے کمرے میں روزانہ کے چھوٹے فیصلوں سے جنم لیتی ہے۔
شاید ہمیں ہر انتخاب سے پہلے صرف یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ کون ہمیں کیا دینے کا وعدہ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ ہمیں کس قسم کا شہری بنانا چاہتا ہے۔ ایسا شہری جو تالیاں بجائے، یا ایسا شہری جو سوال کرے؟ ایسا ووٹر جو شخصیت کا محافظ بنے، یا ایسا انسان جو اپنے ووٹ کا محافظ ہو؟ تاریخ ہمیشہ یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ کون جیتا تھا،کبھی کبھی وہ یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ جیتنے والوں سے عوام نے کتنا حساب مانگا تھا۔ اگر ہم ہر بار اپنی امید کسی نئے چہرے کے حوالے کرتے رہیں گے تو شاید چہرے بدلتے رہیں گے، مگر ہماری کہانی وہی رہے گی۔ اصل تبدیلی شاید اس دن شروع ہوگی جب ہم کسی مسیحا کے انتظار کے بجائے اپنی سیاسی بصیرت کو بیدار کرنے کا فیصلہ کریں گے، کیونکہ قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں۔۔۔ اپنے شہریوں کے شعور سے بنتی ہیں۔


