کاروبارتازہ ترین

18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے سے سالانہ 5 سے 6 ٹریلین روپے کے ممکنہ نقصان کا انکشاف

کمیٹی کی نشاندہی میں صحت، تعلیم، قومی غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، پٹرولیم، منصوبہ بندی و ترقی، ریلوے اور واپڈا سمیت مختلف شعبے شامل بتائے گئے ہیں۔

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد، 26 اگست 2026: پاکستان میں سرکاری اخراجات میں مسلسل اضافے، بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور بیرونی قرضوں پر انحصار کے درمیان سینیٹ کی ڈیولوشن سے متعلق ذیلی کمیٹی نے وفاقی حکومت کے انتظامی ڈھانچے اور آئینی اختیارات کی منتقلی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

کمیٹی کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جانے والے بعض اختیارات، وزارتیں، ادارے اور فرائض اب بھی وفاقی سطح پر برقرار ہیں، جس کے نتیجے میں حکومتی اخراجات میں غیر ضروری اضافہ ہورہا ہے۔

ذیلی کمیٹی نے ابتدائی طور پر اندازہ لگایا ہے کہ اگر 18ویں ترمیم پر مکمل اور مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے تو وفاقی حکومت کے اخراجات میں سالانہ 5 سے 6 ٹریلین روپے تک کمی ممکن ہوسکتی ہے۔

اگر یہ تخمینہ تفصیلی مالی اور انتظامی جانچ پڑتال میں درست ثابت ہوتا ہے تو اسے پاکستان کے موجودہ معاشی حالات میں ایک انتہائی اہم مالیاتی معاملہ قرار دیا جاسکتا ہے۔


25 وزارتوں اور اداروں کی نشاندہی

سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے مبینہ طور پر 25 وزارتوں، اداروں اور متعلقہ شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں اس کا مؤقف ہے کہ انہیں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل یا مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ کار میں لایا جانا چاہیے تھا۔

کمیٹی کی نشاندہی میں صحت، تعلیم، قومی غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، پٹرولیم، منصوبہ بندی و ترقی، ریلوے اور واپڈا سمیت مختلف شعبے شامل بتائے گئے ہیں۔

کمیٹی کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ اختیارات کی آئینی تقسیم کے باوجود وفاقی حکومت میں متعدد ایسے انتظامی ڈھانچے برقرار ہیں جو صوبائی سطح پر منتقل کیے جانے تھے یا جن کی ذمہ داریاں آئینی طور پر مختلف سطحوں پر تقسیم کی جاچکی ہیں۔


18ویں ترمیم اور اختیارات کی منتقلی کا پس منظر

پاکستان میں 18ویں آئینی ترمیم کو وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔

2010 میں منظور ہونے والی اس ترمیم کے نتیجے میں آئینی طور پر متعدد شعبوں میں صوبوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ اس عمل کا بنیادی مقصد مرکزیت کم کرکے صوبوں کو زیادہ انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات دینا تھا۔

اختیارات کی منتقلی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ مرحلہ وار طریقہ کار اختیار کیا گیا اور اس سلسلے میں مختلف وزارتوں اور محکموں کے کردار کا ازسرنو تعین کیا گیا۔

تاہم سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کا مؤقف ہے کہ عملی سطح پر وفاقی حکومت کا انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر اس آئینی تبدیلی کے مطابق نہیں ڈھل سکا۔


اصل سوال: اختیارات منتقل ہونے کے باوجود ادارے کیوں برقرار رہے؟

کمیٹی کی نشاندہی کے بعد سب سے اہم سوال یہی سامنے آتا ہے کہ اگر بعض ذمہ داریاں آئینی طور پر صوبوں کو منتقل کی جاچکی تھیں تو وفاقی سطح پر متعلقہ وزارتیں، ادارے یا ان کے بعض شعبے اب تک کیوں موجود ہیں؟

یہ سوال صرف انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ براہ راست قومی خزانے سے بھی جڑا ہوا ہے۔

اگر ایک ہی نوعیت کا کام وفاق اور صوبے دونوں سطحوں پر کیا جارہا ہو تو اس سے انتظامی تکرار پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں سرکاری عمارتوں، ملازمین، بجٹ، گاڑیوں، دفاتر اور دیگر انتظامی وسائل پر اضافی اخراجات کا امکان بڑھ جاتا ہے۔


سالانہ 5 سے 6 ٹریلین روپے کی ممکنہ بچت

کمیٹی کی جانب سے پیش کیا جانے والا سب سے بڑا دعویٰ سالانہ 5 سے 6 ٹریلین روپے کی ممکنہ بچت سے متعلق ہے۔

یہ رقم اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ وفاقی حکومت پہلے ہی مالی دباؤ، قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر لازمی اخراجات کے باعث محدود مالی گنجائش کا سامنا کررہی ہے۔

اگر وفاقی اداروں کے غیر ضروری اخراجات میں واقعی کئی ٹریلین روپے سالانہ کی کمی لائی جاسکتی ہے تو اس سے حکومت کی مالی پوزیشن پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

تاہم اتنے بڑے تخمینے کی حتمی حیثیت کے لیے وزارت بہ وزارت اور ادارہ بہ ادارہ مالیاتی تجزیہ ضروری ہوگا۔


تقریباً 19 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ کے تناظر میں معاملہ

مالی سال 2026-27 کے تقریباً 19 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ کے تناظر میں 5 سے 6 ٹریلین روپے کی ممکنہ بچت کا دعویٰ معمولی نوعیت کا نہیں۔

اگر کمیٹی کا تخمینہ مکمل طور پر درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وفاقی اخراجات کا ایک قابلِ ذکر حصہ ایسے انتظامی ڈھانچوں سے منسلک ہے جن کے کردار اور آئینی حیثیت پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا پالیسی سوال بھی پیدا کرتی ہے کہ جب مالی وسائل محدود ہیں تو کیا موجودہ حکومتی ڈھانچے کو اسی شکل میں برقرار رکھنا معاشی طور پر قابلِ جواز ہے؟


قرضوں اور اخراجات کے درمیان تضاد

پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے مالی خسارے پورے کرنے اور بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ملکی و غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت ایک طرف اخراجات کم کرنے، کفایت شعاری اور سرکاری اداروں کی رائٹ سائزنگ کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف سینیٹ کی کمیٹی نے ایسے اداروں اور ذمہ داریوں کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ انہیں پہلے ہی وفاقی ڈھانچے سے منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔

یہی تضاد اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے کہ پاکستان کے مالی مسائل صرف آمدنی بڑھانے سے حل ہوں گے یا حکومتی اخراجات اور انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں بھی ضروری ہیں۔


رائٹ سائزنگ اور سرکاری ڈھانچے کی اصلاح کا چیلنج

وفاقی حکومت گزشتہ برسوں میں سرکاری مشینری کو محدود کرنے، اداروں کی تنظیم نو اور غیر ضروری عہدوں میں کمی کے اقدامات کا اعلان کرتی رہی ہے۔

لیکن ڈیولوشن سے متعلق کمیٹی کی حالیہ نشاندہی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حکومتی اصلاحات کا ایک اہم پہلو اب بھی حل طلب ہے۔

صرف ملازمین کی تعداد کم کرنا یا چند محکموں کو ضم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت یہ طے کرنے کی ہے کہ کون سا کام کس حکومتی سطح کی آئینی ذمہ داری ہے۔

اگر کسی شعبے کی ذمہ داری صوبوں کو منتقل ہوچکی ہے تو وفاقی حکومت کے کردار کی واضح حدود مقرر کرنا بھی ضروری ہوگا۔


بیوروکریسی اور ادارہ جاتی جمود

پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی راہ میں بیوروکریٹک اور ادارہ جاتی مزاحمت کا مسئلہ نئی بات نہیں۔

کسی وزارت یا ادارے کے خاتمے، انضمام یا اختیارات کی منتقلی سے صرف بجٹ ہی نہیں بلکہ ملازمتیں، انتظامی اختیار، وسائل اور ادارہ جاتی اثر و رسوخ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے اصلاحات کے اعلانات کے باوجود پرانے انتظامی ڈھانچے اکثر کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہتے ہیں۔

18ویں ترمیم کے بعد بھی اگر وفاقی سطح پر ایسے ادارے موجود ہیں جن کی ذمہ داریاں منتقل ہوجانی چاہییں تھیں تو یہ انتظامی اصلاحات کے عمل میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔


سیاسی حکومتوں کے لیے بڑا سوال

کمیٹی کی رپورٹ نے ماضی اور موجودہ دونوں حکومتوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے۔

اگر 2010 کے بعد اختیارات کی منتقلی کا آئینی عمل شروع کیا گیا تھا تو گزشتہ 16 برس کے دوران وفاقی اداروں کی مکمل تنظیم نو کیوں نہیں ہوسکی؟

یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں اخراجات کم کرنے، حکومتی اداروں کو مؤثر بنانے اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے وعدے کرتی رہی ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف نئی اصلاحات کا اعلان کرنے کے بجائے پہلے سے موجود آئینی فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے۔


مشترکہ مفادات کونسل کا کردار

کمیٹی نے بعض امور کو مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کے دائرہ کار سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ نوعیت کے معاملات کے حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل ایک اہم آئینی فورم ہے۔

اگر بعض شعبوں میں مکمل طور پر وفاقی یا صوبائی اختیار ممکن نہ ہو تو آئینی طریقہ کار کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان ذمہ داریوں اور اختیارات کی واضح تقسیم ضروری ہوجاتی ہے۔

اس حوالے سے اداروں کے کردار کی ازسرنو وضاحت انتظامی تکرار کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔


کیا 5 سے 6 ٹریلین روپے واقعی بچائے جاسکتے ہیں؟

یہ اس معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔

کمیٹی کے تخمینے کو حتمی حقیقت سمجھنے سے پہلے آزادانہ اور تفصیلی مالیاتی جانچ ضروری ہے۔ ہر وزارت اور ادارے کے اخراجات کو الگ کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ:

  • کون سے فرائض آئینی طور پر وفاق کے پاس نہیں رہے؟
  • کون سے ادارے حقیقتاً وہی کام کررہے ہیں جو صوبائی محکمے بھی انجام دے رہے ہیں؟
  • وفاقی سطح پر ان اداروں کا سالانہ بجٹ کتنا ہے؟
  • ملازمین اور پنشن کے اخراجات کتنے ہیں؟
  • عمارتوں، انتظامی سہولیات اور دیگر اخراجات کی لاگت کیا ہے؟
  • منتقلی کے بعد صوبوں پر اضافی مالی بوجھ کتنا پڑے گا؟
  • اور حقیقی خالص بچت کتنی ہوگی؟

ان سوالات کے جواب کے بغیر 5 سے 6 ٹریلین روپے کی مکمل بچت کا دعویٰ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوسکتا۔


لیکن اگر دعویٰ درست نکلا تو؟

اگر تفصیلی آڈٹ اور مالیاتی تجزیہ کمیٹی کے تخمینے کی بڑی حد تک تصدیق کردے تو حکومت کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہوجائیں گی۔

ایسی صورت میں ہر وزارت اور ادارے کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے کر اسے منتقل، ضم، ازسرنو تشکیل یا ختم کرنے کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جاسکتی ہے۔

اس عمل میں ملازمین کے مستقبل، پنشن، اثاثوں، جاری منصوبوں اور صوبائی حکومتوں کی انتظامی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔


مالی ذمہ داری کا تعین بھی ضروری

اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ برسوں سے ایسے اخراجات جاری رکھے گئے جو آئینی اختیارات کی منتقلی کے بعد ختم یا کم کیے جاسکتے تھے تو اس کے انتظامی اور مالی ذمہ داروں کا تعین بھی ضروری ہوگا۔

صرف ادارے کو بند یا منتقل کردینا کافی نہیں ہوگا۔

ریاستی وسائل کے استعمال، بجٹ کی منظوری اور آئینی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے حوالے سے ذمہ داری کا واضح تعین مستقبل میں ایسی صورتحال کی روک تھام کے لیے اہم ہوگا۔


حکومت کے لیے اصلاحات کا نیا امتحان

حالیہ معاملہ حکومت کے کفایت شعاری پروگرام کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔

اگر وفاقی حکومت واقعی مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے صرف عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے یا بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے انتظامی اخراجات میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد اسی وسیع تر اصلاحاتی عمل کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔


شفافیت اور پارلیمانی نگرانی ضروری

اس معاملے میں پارلیمنٹ کا کردار بھی انتہائی اہم ہوگا۔

حکومت کو چاہیے کہ کمیٹی کے دعووں اور سفارشات کو وزارت بہ وزارت پارلیمانی جائزے کے لیے پیش کرے اور ہر ادارے کے اخراجات اور آئینی حیثیت کو عوام کے سامنے واضح کرے۔

اسی طرح آڈیٹر جنرل، متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں اور مالیاتی ماہرین کی مدد سے ایک جامع جائزہ لیا جاسکتا ہے تاکہ سیاسی دعووں کے بجائے دستاویزی اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔


آئینی عملدرآمد میں مزید تاخیر کیوں نہیں؟

18ویں آئینی ترمیم کو منظور ہوئے ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس لیے اب یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ اگر اختیارات کی منتقلی کا مقصد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں کو واضح کرنا تھا تو اس عمل کو مکمل طور پر عملی شکل دینے میں اتنا وقت کیوں لگا؟

اصلاحات کے لیے نئی کمیٹیاں اور نئی تاریخیں مقرر کرنے کے بجائے اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔


ٹیکس دہندگان کے پیسے کا سوال

اس پورے معاملے کا مرکز بالآخر عوامی خزانہ ہے۔

پاکستانی شہری ٹیکس، بجلی، پٹرول، اشیائے ضروریہ اور دیگر ذرائع سے ریاست کو مالی وسائل فراہم کرتے ہیں۔ اگر حکومتی نظام میں ایسے اخراجات موجود ہیں جنہیں آئینی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے تو ان کی نشاندہی اور خاتمہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے۔

خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک قرضوں، مالی خسارے اور محدود وسائل کے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے، ہر غیر ضروری اخراجات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔


آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟

ماہرین اور کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حکومت کے لیے ایک ممکنہ لائحہ عمل یہ ہوسکتا ہے کہ:

  1. 25 نشاندہی شدہ وزارتوں اور اداروں کا جامع آئینی و مالیاتی آڈٹ کیا جائے۔
  2. ہر ادارے کے فرائض اور وفاقی و صوبائی ذمہ داریوں کی واضح فہرست تیار کی جائے۔
  3. سالانہ اخراجات اور ممکنہ بچت کو ادارہ وار عوام کے سامنے لایا جائے۔
  4. غیر ضروری تکراری محکموں کو مرحلہ وار منتقل یا ختم کیا جائے۔
  5. ملازمین اور پنشن کے معاملات کے لیے واضح منتقلی کا منصوبہ بنایا جائے۔
  6. مشترکہ نوعیت کے معاملات کو آئینی فورمز کے ذریعے حل کیا جائے۔
  7. اصلاحات کے لیے مقررہ مدت اور باقاعدہ پارلیمانی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔
  8. جہاں مالی بے ضابطگی یا اختیارات کے غلط استعمال کے شواہد ملیں وہاں ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

نتیجہ

سینیٹ کی ڈیولوشن سے متعلق ذیلی کمیٹی کی جانب سے وفاقی حکومت کے سالانہ 5 سے 6 ٹریلین روپے کے ممکنہ اضافی اخراجات کی نشاندہی نے پاکستان کے مالی اور انتظامی نظام میں موجود ایک بڑے سوال کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔

یہ دعویٰ اپنی غیر معمولی نوعیت کے باعث مزید آزادانہ اور تفصیلی تصدیق کا متقاضی ہے، لیکن اگر اس کا بڑا حصہ درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ محض انتظامی ناکامی نہیں رہے گا بلکہ قومی خزانے اور آئینی عملدرآمد کا اہم مسئلہ بن جائے گا۔

پاکستان ایک طرف مالی وسائل کی کمی، قرضوں اور بجٹ خسارے سے نمٹنے کے لیے مشکل فیصلے کررہا ہے، جبکہ دوسری طرف اگر وفاقی سطح پر ایسے ادارے اور ذمہ داریاں برقرار ہیں جو آئینی طور پر منتقل ہوجانی چاہییں تھیں تو اس تضاد کو مزید نظرانداز کرنا مشکل ہوگا۔

اب حکومت کے سامنے بنیادی سوال یہی ہے: کیا ریاست مزید قرض لے کر اپنے اخراجات پورے کرتی رہے گی، یا پہلے اپنے آئینی اور انتظامی ڈھانچے کی مکمل اصلاح کرکے غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کی طرف عملی قدم اٹھائے گی؟

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button