یورپتازہ ترین

سیوتا میں جھڑپیں، تارکین وطن کا کیمپ نذر آتش

اب بھی کئی ہزار افراد سیوتا میں موجود ہیں اور سڑکوں یا ساحل کے قریب عارضی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اے ایف پی، ڈی پی اے | ادارت 

شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی خودمختار علاقے سیوتا میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ کچھ مشتعل افراد نے تارکین وطن کے ایک کیمپ کو آگ لگا دی۔

ایک ماہ قبل مراکش سے تارکین وطن کی بڑی تعداد کے سیوتا پہنچنے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جا رہی تھی اور حالیہ بدامنی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی خودمختار علاقے سیوتا میں جمعرات کے روز مظاہرین نے تارکین وطن کے ایک کیمپ کو آگ لگا دی جبکہ  مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ یہ تازہ کشیدگی ایک ماہ قبل مراکش سے بڑی تعداد میں تارکین وطن کی سیوتا آمد کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

ہسپانوی ٹی وی پر نشر ہونے والی رپورٹوں میں مظاہرین کے ایک گروہ کو ساحل پر آگ کے قریب اشیا پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا جبکہ تارکین وطن ایک گھاٹ کی طرف فرار ہو گئے۔

سیوتا پولیس کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسی روز تقریباً 70 افراد نے ایک فوجی گاڑی پر پتھراؤ کیا۔

مقامی لوگوں نے ریڈ کراس کی گاڑیوں کو ساحل تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی، جہاں تارکین وطن میں خوراک تقسیم کی جا رہی تھی۔ ہسپانوی پرچم اٹھائے یہ مظاہرین ”انہیں یہاں سے جانا چاہیے‘‘ اور ”ریڈ کراس واپس جاؤ‘‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

سیوتا میں کتنے تارکین وطن اب بھی موجود ہیں؟

جولائی میں 70 ہزار سے زائد تارکین وطن بغیر سفری دستاویزات سیوتا میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، جن میں سے اکثریت بعد ازاں مراکش واپس چلی گئی۔

تاہم اب بھی کئی ہزار افراد سیوتا میں موجود ہیں اور سڑکوں یا ساحل کے قریب عارضی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اسپین، سیوتا 2026 | تارکین وطن کی آمد کے خلاف مظاہرہ، مہاجر کیمپ کو آگ27 اگست 2026 کو ہسپانوی شمالی افریقی انکلیو سیوٹا میں تارکین وطن کی آمد کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ مظاہرین نے تارکین وطن کے ایک کیمپ کو آگ لگا دی، مہاجرین کی فوری طور پر مراکش واپسی کا مطالبہ کیا اور تارکین وطن کے لیے خوراک اور پانی لے جانے والی ریڈ کراس کی گاڑیوں کا راستہ روکنے کی کوشش بھی کی۔فوٹو: dpa
تارکین وطن کی آمد کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کچھ مقامی لوگوں نے تارکین وطن کے ایک کیمپ کو آگ لگا دی، 27 اگست 2026تصویر: Marcos Moreno/EUROPA PRESS/dpa/picture alliance

ہسپانوی حکومت کے مطابق سیوتا میں تارکین وطن کی تعداد سات ہزار سے کم ہے جبکہ سیوتا میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کم از کم 10 ہزار ہے۔ اس ہسپانوی علاقے کی مجموعی آبادی تقریباً 84 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

میڈرڈ پر بڑھتا ہوا دباؤ

سیوتا کی صورتحال پر ہسپانوی حکومت کو بڑھتی ہوئی سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔ قدامت پسند حزب اختلاف وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی بائیں بازو کی حکومت پر الزام عائد کر رہی ہے کہ وہ مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے اور سیوتا کے رہائشیوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ہسپانوی حکومت نے حالیہ دنوں میں مہاجرین اور تارکین وطن کی شناخت کا عمل تیز کرنے اور ان کے کیسز کا جائزہ لینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ساتھ ہی بغیر سرپرست کے آنے والے کم عمر بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

یہ بحران ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب اسپین میں اگلے سال عام انتخابات متوقع ہیں۔ سیوتا میں ہونے والی اس پیش رفت نے اسپین میں سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں مائیگریشن کے معاملے پر زیادہ سخت پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

جولائی میں سیوتا پہنچنے والے افراد کی بڑی تعداد نے یورپی یونین کے اندر بھی اس بحران سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بحث اور اختلافات کو جنم دیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button