بین الاقوامیتازہ ترین

جنوبی کوریا: خواتین کی لازمی فوجی بھرتی کی حمایت میں اضافہ

اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی اور فوج کے لیے دستیاب نوجوانوں کی تعداد میں تیزی سے کمی ہے۔

جولیئن رائیل

آبادی میں مسلسل کمی اور فوج میں بھرتی کے لیے نوجوانوں کی گھٹتی تعداد جنوبی کوریا میں خواتین کی لازمی فوجی خدمت سے متعلق تصور اب بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس وقت ہزاروں خواتین جنوبی کوریا کی فوج میں رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ لیکن خواتین کے لیے لازمی فوجی سروس کا معاملہ اب دوبارہ زیرِ بحث ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی اور فوج کے لیے دستیاب نوجوانوں کی تعداد میں تیزی سے کمی ہے۔

ایک جنوبی کوریائی خاتون فوجی
ایک حالیہ سروے میں تقریباً 60 فیصد افراد نے خواتین کے لیے بھی فوجی لازمی سروس کی حمایت کی۔ جبکہ 34 فیصد نے اس کی مخالفت کیتصویر: Xinhua/IMAGO

دوسری جانب بعض نوجوان مردوں کا کہنا ہے کہ اگر معاشرے میں مرد اور خواتین کو برابر حقوق اور مواقع حاصل ہیں، تو ملک کی دفاعی ذمہ داری بھی صرف مردوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

فوج میں نوجوانوں کی کمی

جنوبی کوریا میں اس وقت تمام صحت مند مردوں کے لیے کم از کم 18 ماہ اور بعض صورتوں میں 21 ماہ تک فوجی سروس لازمی ہے۔

لیکن فوج میں بھرتی کے اہل نوجوان مردوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں تقریباً 3 لاکھ 32 ہزار مرد لازمی فوجی سروس کے اہل تھے۔

2022 میں یہ تعداد کم ہو کر 2 لاکھ 57 ہزار رہ گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ 2043 تک یہ تعداد صرف ایک لاکھ 20 ہزار رہ جائے گی۔

سروے میں کیا سامنے آیا؟

20 اگست کو جاری ہونے والے ایک حالیہ سروے میں تقریباً 60 فیصد افراد نے خواتین کے لیے بھی لازمی قومی سروس کی حمایت کی۔ جبکہ 34 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔

مردوں میں حمایت تقریباً 65 فیصد تھی۔ 20 اور 30 کی دہائی کے مردوں میں یہ شرح بڑھ کر 71.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ خواتین میں بھی لازمی فوجی سروس کی حمایت 54.5 فیصد تک دیکھی گئی۔

جنوبی کوریائی باشندے ایک ٹی وی اسکرین پر پیانگ یانگ کی جانب سے کیا جانے والا میزائل تجربہ دیکھتے ہوئے
جنوبی کوریا کو سب سے بڑا خطرہ اس کے ہمسایہ ملک اور دیرینہ حریف شمالی کوریا سے ہےتصویر: Greg Baker/AFP

ماہرین کی رائے

سیول کی سوگانگ یونیورسٹی کی پروفیسر ہائوبِن لی کے مطابق جنوبی کوریا میں لازمی فوجی سروس روایتی طور پر مردوں کی ذمہ داری سمجھی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ”مردوں سے ملک اور خاندان کے دفاع کی توقع کی جاتی رہی ہے جبکہ خواتین سے بچوں کی پیدائش، پرورش اور گھر کی ذمہ داری سنبھالنے کی۔‘‘

ان کے مطابق اب صنفی مساوات پر بڑھتی بحث نے بھی اس معاملے کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ لیکن وہ خبردار کرتی ہیں کہ خواتین پر بھی 18 ماہ یا اس سے زیادہ کی لازمی فوجی سروس عائد کرنا الٹا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق جنوبی کوریا میں اب بھی حمل، بچوں کی پیدائش اور نگہداشت کی ذمہ داری خواتین پر زیادہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ لازمی فوجی سروس شادی اور بچوں کی پیدائش میں مزید تاخیر کا باعث بھی بن سکتی ہے جبکہ ملک پہلے ہی دنیا کی انتہائی کم شرحِ پیدائش والے ممالک میں شامل ہے۔

Südkorea | Straßenszene in Seoul
ناقدین کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے لازمی فوجی سروس شادی اور بچوں کی پیدائش میں مزید تاخیر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔تصویر: Anthony Wallace/AFP/Getty Images

کیا خواتین کو محاذ پر بھیجا جائے گا؟

اس تجویز کے ناقدین کا کہنا ہے کہ خواتین کو لازمی طور پر محاذ پر بھیجنے کے بجائے جنوبی کوریا کو اپنی فوج کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا چاہیے۔

سیول میں مقیم ماہر اور انسانی حقوق کے کارکن سونگ یونگ چے خود فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہمیں اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ڈرونز، روبوٹس اور جدید فوجی ٹیکنالوجی میں کہیں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔‘‘

فوجی نظام میں اصلاحات

جنوبی کوریا کی حکومت نے 2025 میں ملکی دفاعی پالیسی پر نظرثانی کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی۔ فوج کو جدید بنانا اور 1950ء کی دہائی میں متعارف کرائے گئے لازمی فوجی سروس کے نظام میں اصلاحات اس عمل کا اہم حصہ ہیں۔

ملٹری مین پاور کمشنر ہونگ سو ینگ نے بھی ملک کو درپیش ”آبادی کے بحران‘‘ پر خبردار کیا ہے۔ تاہم خواتین کے لیے لازمی فوجی سروس کے بارے میں حکومت نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button