مشرق وسطیٰتازہ ترین

جنگ کے چھ ماہ بعد ایرانی قیادت میں سخت گیر حلقوں کا غلبہ

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اقتصادی دباؤ اور پابندیاں بڑھائیں تو جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

اے پی کے ساتھ

ایران کی موجودہ صورتحال امریکی صدر کی ان ابتدائی امیدوں کے بالکل برعکس ہے، جن کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کو توقع تھی کہ ایرانی قیادت میں ایسے افراد سامنے آئیں گے، جو واشنگٹن کے ساتھ سمجھوتے کے لیے تیار ہوں گے۔

یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ابتدائی امیدوں کے بالکل برعکس ہے۔ ٹرمپ کو توقع تھی کہ اسلامی جمہوریہ کی حکومت تبدیل ہونے سے ایسے رہنما سامنے آئیں گے، جو امریکہ کے ساتھ سمجھوتے کے لیے زیادہ تیار ہوں گے۔

لیکن ایران کی نئی قیادت کو ٹرمپ کے ساتھ کسی معاہدے پر زیادہ اعتماد نہیں رہا۔

بسیج ملیشیا کے رضاکار سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک ہیں
ایران میں بسیج ملیشیا کا ملک بھر میں رضاکاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے، جو سڑکوں، سرکاری دفاتر اور ثقافتی مراکز میں موجود رہتا ہے اور حکومت احکامات کے نفاز کو یقینی بناتا ہےتصویر: Majid Asgaripour/WANA/REUTERS

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوران دو مرتبہ امریکی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ امریکہ اپنے میزائل شکن نظام کے ذخائر دوبارہ بھرنے کے بعد ایک اور حملہ کر سکتا ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اقتصادی دباؤ اور پابندیاں بڑھائیں تو جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری محسن رضائی نے گزشتہ ہفتے کہا، ”اگر ٹرمپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہم زلزلہ خیز انداز میں جواب دیں گے۔‘‘

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ اگر اقتصادی جنگ جاری رہی تو ”خلیج فارس سے تیل کا ایک قطرہ بھی برآمد نہیں ہوگا۔‘‘

ایران اندرونی بے چینی روکنے کے لیے تیار

ایران کی نئی اعلیٰ قیادت کا باقاعدہ اعلان حال ہی میں سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے احکامات کے ذریعے کیا گیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے والد سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، اور اعلیٰ ایرانی قیادت کے کئی ارکان 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی بمباری میں مارے گئے تھے۔

نئی تقرریوں میں سب سے زیادہ توجہ پاسدارانِ انقلاب کی رضاکار فورس بسیج کے سربراہ کی تعیناتی پر ہے۔ یہ ذمہ داری سخت گیر مذہبی رہنما حسین طائب کو دی گئی ہے، جو طویل عرصے تک ایرانی انٹیلی جنس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

طائب نے 2009 میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی دوبارہ اہم ذمہ داری پر واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ ایرانی قیادت ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی کے باعث کسی نئی عوامی تحریک کو ابتدا ہی میں روکنا چاہتی ہے۔

تہران میں لگائے گئے ایک  امریکہ مخالف بل بورڈ کے سامنے روز مرہ ٹریفک رواں دواں ہے
ایران میں اس وقت نئی عوامی احتجاجی تحریک کے کوئی واضح آثار نہیں ہیں، لیکن مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث لوگوں کے لیے روزمرہ کی بنیادی اشیا خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہےتصویر: Atta Kenare/AFP

سخت گیر رہنماؤں کا مضبوط حلقہ

11 اور 12 اگست کو کی جانے والی تقرریوں کے بعد سپریم لیڈر نے اپنے گرد کئی دیرینہ اور سخت گیر ساتھی جمع کر لیے ہیں۔ بحرین میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے تجزیہ کار ساشا برُخمان کے مطابق، ”ایسا لگتا ہے کہ اندرونی اتحاد پر زور دیا جا رہا ہے اور سخت گیر افراد کو قیادت کے اندرونی حلقے میں شامل کیا جا رہا ہے۔‘‘

71 سالہ محسن رضائی ماضی میں کئی برس تک پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ رہ چکے ہیں، جبکہ 68 سالہ بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی کو بھی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت سونپی گئی ہے۔

کیا ایران جنگ مزید بڑھائے گا؟

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ میں مزید شدت لانا لازمی نہیں۔

عالمی تجارتی معلومات فراہم کرنے والے ادارے Kpler سے وابستہ ایک  تجزیہ کار ہمایوں فلک شاہی کے مطابق نئی تقرریاں ”زیادہ سخت مؤقف رکھنے والے حکام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ‘‘ کی نشاندہی کرتی ہیں۔

لیکن ان کے بقول ایران کے لیے ایسی سطح تک جنگ بڑھانا مشکل ہوگا، جہاں وہ اپنی دفاعی طاقت بحال کر سکے، مگر امریکہ کی جانب سے ایسے جوابی حملے کا خطرہ بھی رہے جو ایران کو مزید کمزور کر دے۔

جون میں ہونے والی جنگ بندی بھی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی اور دونوں جانب سے حملوں کے تبادلے کے بعد ختم ہوگئی۔

صدر پزشکیان مذاکرات کے حامی

ایران میں اب بھی صدر مسعود پزشکیان مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دینے والی اہم آواز ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جنگ جاری رکھنے سے ایران کی پہلے ہی مشکلات کا شکار معیشت مزید کمزور ہوسکتی ہے۔

پزشکیان نے گزشتہ ہفتے کہا، ”جنگ ختم کرنا بہتر ہوگا، کیونکہ آج ہمارے پاس طاقت اور وقار ہے، پوری دنیا نے ہماریفتح کو تسلیم کیا ہے اور امریکہ سے نفرت کی جاتی ہے۔‘‘

انہوں نے جون کی جنگ بندی کا بھی دفاع کیا، حالانکہ سخت گیر حلقے اسے امریکہ کے سامنے ضرورت سے زیادہ رعایت قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب محسن رضائی نے بھی مکمل طور پر مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پہلے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا اور جنگ بندی کی شرائط پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان مذاکرت کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دے رہے ہیںتصویر: Iranian Presidential Office/AFP

بسیج کی بڑھتی ہوئی اہمیت

ایران میں اس وقت نئی عوامی احتجاجی تحریک کے کوئی واضح آثار نہیں ہیں، لیکن مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث لوگوں کے لیے روزمرہ کی بنیادی اشیا خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

تجزیہ کار ساشا برُخمان کے مطابق حسین طائب کو بسیج کا سربراہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ قیادت کسی بھی ممکنہ احتجاج کو ”شروع ہونے سے پہلے ہی روکنا‘‘ چاہتی ہے۔ بسیج کا ملک بھر میں رضاکاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے، جو سڑکوں، سرکاری دفاتر اور ثقافتی مراکز میں موجود رہتا ہے اور حکومت سے وفاداری یقینی بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے طائب کو بسیج کی سماجی موجودگی مزید بڑھانے، نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور بیرونِ ملک بھی اس کی سرگرمیاں بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

طائب نے حالیہ تقریر میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ کا مقصد ملک میں تقسیم پیدا کرنا ہے۔

ان کے بقول، ”اگر مسجد محلے کا مرکز بن جائے، تو قوم اپنے اتحاد کی حفاظت کرے گی اور یہ کسی بھی میزائل سے بڑا عنصر ہوگا۔‘‘

مجموعی طور پر ایران کی موجودہ سمت یہ دکھاتی ہے کہ جنگ نے ملکی قیادت کو مزید سخت گیر فوجی اور مذہبی حلقوں کے گرد متحد کر دیا ہے، جبکہ اندرونی اختلافات اور عوامی بے چینی کو قابو میں رکھنا بھی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button