کالمزحیدر جاوید سید

کنٹرولڈ طبقاتی جمہوریت کا ” فیضِ عام ” …….حیدر جاوید سید

کڑواسچ یہ ہے کہ کنٹرولڈ طبقاتی نظام اور مارشل لاوں کے بھونپووں نے ایک آدھ برس کم آٹھ دہائیوں کے دوران بے اعتباری کی فصلیں کاشت کروائیں

سانحہ پمز اسپتال کی ابتدائی رپورٹ پر کوئی بھی یقین کرنے کو تیار نہیں بالکل اسی طرح جیسے بعض دیگر افسوسناک واقعات پر ( ان میں پھلجڑی برانڈ واقعات بھی شامل ہیں ) کیوں ؟ یہ کیوں بہت اہم ہے اس کے ساتھ یہ عرض کردیا جانا ازبس ضروری ہے کہ پمز اسپتال سانحہ کے حوالے سے ارب ہا روپے کے سالانہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اشتہارات ڈکارنے اور گٹر سیاست کو آزادی صحافت بناکر پیش کرنے والے میڈیا ہاوسز کیلئے بھی عوام میں بداعتمادی مزید بڑھ گئی ، کیوں ؟ یہ پہلی کیوں کی طرح قابل غور ہے ، پمز اسپتال سانحہ میں 14 معصوم بچے جان سے گئے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گردش کرتی خبروں کو
” واٹ از دہ ربش ” کہہ کر بابو شاہی آگے بڑھ سکتی ہے مگر سوشل میڈیا کے ذریعے ہی بین کرتی ماوں اور سوگوار خاندانوں کے ” نالے ” کیسے نظر انداز ہو پائیں گے ؟ حکومتِ وقت پمز اسپتال انتظامیہ اور گٹر سیاست کھیلنے والے میڈیا ہاوسز کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے ؟
پمز سانحہ کی ابتدائی رپورٹ بارے بالائی سطور میں عرض کیا کہ ” کوئی بھی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں اس بے اعتباری کا ایک مظاہرہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی پمز اسپتال میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ہوئی گفتگو اور سوالات سے بنے ماوحول سے دیکھنے میں آیا لیکن کیا اس سے کوئی فرق پڑے گا اصلاح احوال کیلئے سوچا جائے گا ؟ ہمارا جواب نفی میں ہے ، ایسا نہیں کہ سانحہ پمز کی ابتدائی رپورٹ بے اعتباری کا شکار ہے آپ 14 اگست 1947 کے بعد سے آج تک کے سانحات کو ایک ایک کرکے دیکھ لیجے اور ان کی رپورٹس کو بھی ایک بھی پبلش ہوئی رپورٹ ایسی نہیں جس بارے آپ کہہ سکیں کہ اس پر رائے عامہ نے اعتبار کیا ، یہ اعتباری راتوں رات ہرگز پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کی تاریخ بھی ملکی تاریخ کے ماہ و سال جتنی ہے ، بے اعتباری کے جنم لینے پھلنے پھولنے کی درجنوں وجوہات ہیں اور لکھی بھی جاسکتی ہیں لیکن حب الوطنی مشکوک ہوجانے کا ڈر ہے اس کے باوجود اس بے اعتباری کی ایک وجہ کا آئندہ سطور میں ذکر کرتا ہوں آگے اللہ مالک ہے
کڑواسچ یہ ہے کہ کنٹرولڈ طبقاتی نظام اور مارشل لاوں کے بھونپووں نے ایک آدھ برس کم آٹھ دہائیوں کے دوران بے اعتباری کی فصلیں کاشت کروائیں جھوٹ کی ناو چلائی ایک وفاقی محکمے اور اس کے درباریوں کے سوا سب کو ناقابلِ اعتبار یہاں تک کہ ملک دشمن یہودوہنود کا ایجنٹ تک کہا لکھا منوایا گیا کنٹرولڈ طبقاتی نظام کے فیض یافتگان اور ہمدرد ہمیں بتاتے سمجھاتے رہے کہ یہ ملک اللہ کے نام پر بنا ہے نبی کریمؐ نے خواب میں بشارت دی تھی یہ عالم اسلام کا قلعہ ہے ، جس کسی نے بٹوارے کی حقیقی وجوہات پر بات کرنے کی کوشش کی وہ رائندہ درگاہ ٹھہرا خیر چھوڑیں یہ ایک لمبی کہانی ہے ہم صرف اس پہ بات کرتے ہیں کہ بے اعتباری کی فصلیں بونے بوانے والوں نے جو فصلیں بوائیں وہ آج خود انہیں تو کاٹنا ہی پڑرہی ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس بھی کاٹ کھا رہے ہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کنٹرول طبقاتی نظام کے حاشیہ برداروں سے ایک دوسرے کے کپڑے بیچ بازاروں کے اتروائے گئے جمہوری سیاست کو دستیاب ہر گالی دلوائی گئی نجات دہندہ تراشے گئے اور پھر نجات دہندہ رسوا کروائے گئے ستر برس والے سنگ میل سے ایک ڈیڑھ سنگ میل کی دوری پر چلتے اس مسافر نے کھلی آنکھوں سے بہت کچھ دیکھا کانوں سے سنا چاراور ہوتی باتیں کانوں کے راستے دماغ میں اتریں کتابوں کے اوراق پلٹے لیکن سچ یہ ہے کہ خواب ، عالمِ اسلام کا قلعہ کنٹرولڈ طبقاتی نظام سول ملٹری اشرافیہ اور بھاڑے کی حب الوطنی آج بھی مرغوب کھابے ہیں انہتر برسوں میں جس ملک میں انسان سازی کا ایک ادارہ نہ بن سکا ہو وہاں یہی کچھ بنتا بکتا ہے جو ہمارے چار اور بن بک رہا ہے کاش ہمارے بڑوں نے بے اعتباری کی فصلیں کاشت کرنے کرانے والوں کے خلاف اجتماعی مزاحمت کی ہوتی ، اب یہ مت پوچھ لیجے گا کہ کیسے کرتے بات پمز اسپتال کے المناک سانحہ سے شروع ہوئی عرض کیا تھا کہ ابتدائی رپورٹ بے اعتباری کا شکار ہے ٹوٹے پھوٹے لفظوں بے اعتباری کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک پہ بات کرنے کی کوشش کی یہ احساس دامن گیر ہے کہ کھل کے بات کی نہ پوری بات ، وجہ یہی ہے کہ کنٹرول طبقاتی نظام چلانے چلوانے والوں سے ” ڈر ” لگتا ہے آپ اگر پمز اسپتال سانحہ کی ابتدائی رپورٹ پر بے اعتباری پیدا ہونے کی وجہ کو سمجھنا چاہتے ہیں تو چنددن پہلے اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں رونما ہوئے ایک واقع اور اس کی ابتدائی رپورٹ پر لوگوں کے تاثرات کی روشنی میں جاننے کی کوشش کیجے یاد رہے لوگوں کے تاثرات لکھا ہے مخصوص فہم کے کی بورڈ واریئرز کی کی نہیں جنکی نوے فیصد تعداد کنٹرولڈ طبقاتی نظام کے مالکان کے اصطبلوں اور لیباٹریز میں تیار ہوئی وہی جن کے بارے میں ہمزاد فقیرراحموں کا قولِ صادق ہے کہ ” دیکھو تو تخلیق خالقوں کے گریبان سے کھیل رہی ہے ” ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ خالقوں کو ہمیشہ اپنی تخلیقوں کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا آپ نرم الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ انکار کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ انکار اقرار کی میٹھی میٹھی تمناوں کی سُروں سے عبارت ہے بارِ دیگر معاف کیجئے گا کہ بات دوسری سمت نکل گئی اصل بات یہ ہے کہ بے اعتباری اعتبار کے وجود پر کنٹرولڈ طبقاتی نظام کے مالکان کے پرانے لشکروں کی چاند ماری سے پھلی پھولی رہی سہی کسر تازہ پیادوں کی بونگیوں نے پوری کردی سو اب پچھتائے کیا ہو کچھ بھی نہیں خلیل خان ہے چڑیا نہ دانا دُنکا ، حبس ایسا ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ ، خوابوں دعاوں دعووں اور بے اعتباری کی فصلوں کے سوا کچھ بھی دستاب نہیں سیاست نالی موری کے ٹھیکیداروں ففتھ جنریشن وار والے لشکریوں فتنہ پرستوں اور گٹر گٹر کھیلتے کرداروں کے ہاتھ چڑھ گئی ہے اس پہ ستم یہ کہ جھوٹ اور سچ بھی اپنا اپنا ہے جیسے ظالم اور مظلوم اپنے اپنے ہوتے ہیں ہمارے یہاں دور در دور اور نسل در نسل یہی سب کچھ ہے بات تلخ ہے مگر عرض تو کرنا ہی پڑے گی کہ بے اعتباری کی بدقسمتی ریاست کے ماتھے کا جھومر ہے اور اس صورتحال کی ذمہ دار تجربوں کی شوقین ریاست خود ہے اس کی لیباٹریوں اور اصطبلوں میں تیار ہوئے سارے لشکر خود اس کے گلے پڑے پر اس نے سبق نہیں سیکھا نتائج رعایا بھگت رہی ہے ،
کالم کی آخری سطور میں مختصراً ایک دو اور خبروں پر بات کرلیتے ہیں پہلی خبر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں میں سے ایک ٹیکنو کریٹ کی نشست پر جیتنے والے افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کردیا گیا ہے افتخار گیلانی عام انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے اور ٹیکنو کریٹ نشست پر اسمبلی میں پہنچ گئے یہ جاتی امرا رائے ونڈ روڈ لاہور اور وائٹ ہاوس مظفرآباد آزاد کشمیر کی مشترکہ پیشکش ہیں جاتی امرا رائے ونڈ روڈ لاہور بس تبرکاً سمجھ لیجے باقی آپ خود سمجھدار ہیں راجہ فاروق حیدر اپنی بدزبانی کی وجہ سے نظر انداز ہوئے اور شاہ غلام قادر کیوں نظرانداز ہوئے اس بارے دو آرا ہیں اولاً یہ کہ وہ لائی لگ ٹائپ آدمی ہیں اپنے کیئے وعدوں اور فیصلوں پر کھڑے نہیں رہتے ثانیاً ایک دو سکینڈلز کا بتایا جارہا ہے ثانیاً والی بات دل ہے کہ مانتا نہیں کیونکہ سکینڈلز کا ہونا ایسی بات نہیں تھی کہ پارٹی کے ریاستی چیپٹر کا سربراہ ہونے کے باوجود نظر انداز ہوجاتے دوسری بات یہ ہے کہ جمیعت علمائے اسلام ف باضابطہ طور پر متحدہ پارلیمانی حزب اختلاف کا حصہ بن گئی ہے اچھی بات ہے ہم تو نصف صدی سے کہہ لکھ رہے ہیں کہ سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button