کالمزناصف اعوان

عوامی راج اور روایتی سیاسی جماعتیں……ناصف اعوان

کہا جاتا ہے کہ طالع آزماؤں کی حکومتوں میں کافی ترقی ہوئی عوام کو بہت سے ریلیف ملے

جب بھی ملک میں عام انتخابات ہوئے رولا ضرور پڑا ۔پھر جب حکومت وجود میں آئی تو حزب اختلاف نے اس کے خلاف کمر کس لی کہ حکومت کو کام نہیں کرنے دینا یوں اسے قدم قدم پر مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اس نے بمشکل اپنے دور اقتدار میں کچھ منصوبے مکمل کیے تو انگلی حکومت نے ان منصوبوں کو غیر فعال بنانے کی پوری کوشش کی۔ اس کے جو منصوبے ادھورے رہ گئے ان پر کام روک دیا گیا ۔
یہ نہیں خیال رکھا گیا کہ اس سے قومی دولت ضائع ہو گی اور عوام کو کس قدر تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا مگر چونکہ مقصد پچھلی حکومت کو غیر مقبول اور نا اہل ثابت کرنا ہوتا لہذا اس کے ہر ایک کام کو بے کار اور بے سود بنانےکی سعی کی جاتی ۔ اس سیاسی سوچ نے اب تک ملک کو بے حد و حساب نقصان پہنچایا ہے جس سے عوام کی حالت بہتری کے بجائے ابتری کی طرف ہی گئی ہے ۔ غربت کی لکیر کے نیچے تیزی سے لوگ آتے گئے ہیں ۔ اِس وقت پیدا ہونے والا ہر بچہ قریباً تین لاکھ کا مقروض ہے اور اس میں دھیرے دھیرے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے کیونکہ ملکی نظم و نسق چلانے کے لئے ملک کے اندر سے مطلوبہ رقوم حاصل نہیں ہو رہی لہذا عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ لینا پڑ رہا ہے اس کے باوجود لوگوں کے مسائل جوں کے توں ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ طالع آزماؤں کی حکومتوں میں کافی ترقی ہوئی عوام کو بہت سے ریلیف ملے۔ یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان حکومتوں نے وہ منصوبے پایہ تکمیل کو نہیں پہنچائے جو ملک کو خود کفالت کی سیڑھی ہے چڑھا سکتے تھے قرضوں سے چھٹکارا دلا سکتے تھے ان کے ادوار میں جو بھی کام ہوا وہ سطحی تھا۔ اسی طرح کا منتخب حکومتوں کا بھی طرز عمل رہا ۔ انہیں تو سب سے زیادہ اپنی کُرسی کی فکر ہوتی کہ کہیں وہ چِِھن نہ جائے لہذا آج صورت حال انتہائی مخدوش ہے ۔ معاشی طور سے بھی اور سماجی طور سے بھی مگر حیران کُن حد تک اقتدار والوں کی حالت بہتر ہی نہیں بہترین ہے وہ کروڑ پتی تھے تو کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ ملک کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور لوگ دہائی دے رہے ہیں۔ یہ لوگ بے دریغ عوامی سرمایے کا استعمال کر رہے ہیں۔ بدعنوانی کے نئے ریکارڈز قائم ہو رہے ہیں مگر انہیں کوئی خوف نہیں کوئی احساس نہیں اگر ایسا ہوتا تو ملک میں بے روزگاری غربت بیماری جہالت اور ناانصافی نہ ہوتے۔ انہوں نے عوام کا ہمدرد و غم خوار ہونے کا کبھی بھی ثبوت پیش نہیں کیا۔ چالاکیاں اور ہوشیاریاں ہی دکھائی گئی ہیں ۔ ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے اختیار کیے گئے ہیں۔ عوام کی کبھی بھی نہیں مانی گئی مگر آئی ایم نے جو کہا اس کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا گیا۔
بہرحال آج معاشی بحران خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے اس طرح سیاسی بحران بھی‘ مگر مجال ہے حکمرانوں کے دل میں کوئی ہمدردانہ لہر ابھری ہو وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ملکوں ملکوں گھوم پھر رہے ہیں اور کہہ یہ رہے ہیں کہ وہ عوام کی بہتری کے لئے دورے کر رہے ہیں مگر جب واپس لوٹتے ہیں تو ہاتھ خالی ہوتے ہیں کیونکہ کوئی بھی ملک امداد یا فنڈز دینے کو تیار نہیں انہیں معلوم ہے کہ یہ لوگ اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ انہیں شاید یہ معلوم نہیں ہو گا کہ اب جب عام آدمی آگاہی رکھتا ہے تو دوسرے ملکوں کے حکمران کیوں نہیں جانتے ہوں گے کہ ان کی بھیجی گئیں رقوم کا استعمال متعلقہ مصوبوں پر نہیں ہو تا جو ہوتا بھی ہے وہ معمولی اور اس میں گھپلے بھی ہوتے ہیں ؟
اس صورت میں حکومتی عہدیدار جتنے مرضی یورپی یا مغربی ملکوں کے دورے کریں ان کا کوئی فائدہ نہیں الٹا خزانے پر بوجھ بڑھتا ہے کیونکہ خصوصی جہازوں سے جب جایا جاتا ہے تو بہت خرچ آتا ہے پھر جو لوگ کثیر تعداد میں ہمراہ ہوتے ہیں ان کے اخراجات بھی کافی ہوتے ہیں انہوں نے خریدو فروخت بھی کرنا ہوتی ہے جو مہنگائی کے مارے لوگوں کے ٹیکسوں سے کی جاتی ہے لہذا دورہ تب کیا جائے جب کچھ حاصل ہونے کی امید ہو اور کسی دورے میں چند افراد ہونے چائیں مگر بچت پالیسی پر کہاں عمل کیا جاتا ہےکیونکہ عوام کی خدمت کا جذبہ ہی جب دل کی نگری سےرخصت ہو چکا ہے تو بچت پالیسی کیسی ؟
ایسے اللوں تللوں کی وجہ سے ہی معیشت کا بیڑہ غرق ہوا ہے۔ اس حوالے سے ہماری جو حزب اختلاف کی جماعتیں ہیں بہت کم اپنی آواز بلند کرتی ہیں ان کا مقصد صرف حکومتوں کو اقتدار سے الگ کرنا ہوتا ہے لہذا وہ اس کے لئے کانفرنسیں کرتی ہیں میٹنگیں کرتی ہیں اور جلسے کرتی ہیں مگر ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ موجودہ حزب اختلاف بھی حکومت کو محروم اقتدار کرنا چاہتی ہے لہذا اس نے دوڑ دھوپ شروع کر دی ہے اس میں وہ جماعت بھی شامل ہے جسے اپنے قائد کو رہا کروانا ہے باقی معاملات بعد میں دیکھے گی جبکہ اسے چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے لئے بھی شور مچائے تاکہ حکومت کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ٹیکسوں کی بھر مار سے ہاتھ پیچھے کھینچ لے۔ مہنگائی کو قابو کرنے کی کوشش کرے۔ اصل میں جب کسی جماعت کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اس کی حق تلفی ہوئی ہے تو وہ دوسرے پہلوؤں کو ایک طرف رکھ دیتی ہے اب بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اسی گھن چکر میں اناسی برس بیت گئے ہیں کہ حکومتیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں کبھی بھی مل کر نہیں بیٹھیں لہذا معاشی و سیاسی حالات تبدیل نہیں ہو سکے اور اس وقت صورت حال بڑی تکلیف دہ نظر اتی ہے اور لوگ کہنے لگے ہیں کہ اب یہ حکومت گھر چلی جائے کیونکہ وہ ان کی زندگی کو پُر آسائش نہیں بنا سکی مگر جو آئے گی وہ بھی ایسی ہی ہو گی وہی چہرے وہی سوچ ہو گی کیونکہ دونوں طرف کی جماعتیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں‘ جو سٹیٹس کو کے خلاف نہیں ہوتیں اور عوام کو دھوکا دیتی ہیں بیوقوف بناتی ہیں اندھیرے میں رکھتی ہیں عوام کو اپنے پیچھے لگا کر اصل مقصد سے دور کرتی ہیں۔ اس وقت جو جماعتیں بر سر اقتدار ہیں اور جو ان کے سامنے دوسری جانب کھڑی ہیں سب ہی عوام کو فریب دے رہی ہیں کیونکہ ان میں سے جو بھی آئندہ اقتدار میں آئیں گی وہ دودھ کی نہریں نہیں بہا سکیں گی کیونکہ یہ نظام جس کے تحت ائیں گی وہ انہیں ہلنے نہیں دے گا دیکھ لیجئے اب تک وہ ترقی نہیں ہو سکی جس کی عوام نے خواہش کی ۔ وجہ یہی ہے کہ اُنہوں نے حالات کو تبدیل نہیں کرنا ہوتا ‘ اپنی گرفت مضبوط کرنا ہوتی ہے لہذا اناسی برس سے وہ کھیل جاری ہے۔جو تب ختم ہو گا جب لوگوں میں یہ احساس گہرا ہو جائے گا کہ اب انہیں روایتی جماعتوں پر انحصار بند کردینا چاہیے کہ وہ سب کی سب دولت اور شہرت کی بھوکی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button