صحتتازہ ترین

بھارت میں پیکٹ بند خوراک پر ہیلتھ وارننگ کا تنازع

بھارتی صارفین میں صحت کے حوالے سے آگاہی بڑھ رہی ہے اور سوشل میڈیا پر سرگرم ورکر مختلف مصنوعات کے بھارتی اور غیرملکی نسخوں کا موازنہ کر رہے ہیں

روئٹرز کے ساتھ | ادارت |سید عاطف ندیم

بھارت میں پیکٹ بند خوراک اور مشروبات پر واضح ہیلتھ وارننگ لکھنے کے معاملے پر فوڈ انڈسٹری، ہیلتھ ورکرز اور ریگولیٹر کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

روئٹرز نے فانٹا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ لندن میں فروخت ہونے والے ایک کین میں 63 کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ بھارت میں اسی برانڈ کے مشروب میں تقریباً تین گنا زیادہ چینی موجود ہے۔ بھارتی فانٹا میں ایک مصنوعی رنگ بھی استعمال ہوتا ہے، جس کی موجودگی پر یورپ میں نمایاں ہیلتھ وارننگ ضروری ہے، جبکہ بھارت میں اس کا ذکر کین کے پچھلے حصے پر انتہائی چھوٹے حروف میں کیا جاتا ہے۔

ایک انڈین سپر مارکیٹ
بھارت میں نوڈلز بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں مختلف تیل سے تیارکردہ فروخت کیے جاتے

بھارت کی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی ایف ایس ایس اے آئی نے اگست میں پیکٹ کے سامنے رنگوں پر مبنی وارننگ متعارف کرانے کی کوشش ترک کر دی تھی۔ اس کے بجائے چینی، چکنائی اور نمک کی مقدار ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹیبل میں دکھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ریگولیٹر کا مؤقف ہے کہ عالمی معیار کو بھارت پر براہ راست لاگو کرنا مشکل ہے کیونکہ بھارتی کھانوں کے ذائقے مغربی خوراک کے مقابلے میں زیادہ تیز ہوتے ہیں۔

تاہم اب بھارتی سپریم کورٹ اس فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے۔ صحت عامہ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ واضح لیبلنگ اس لیے ضروری ہے کیونکہ ایک تحقیق کے مطابق2050  تک تقریباً 45 کروڑ بھارتی شہری موٹاپے یا زائد وزن کا شکار ہو سکتے ہیں۔

روئٹرز کو ملنے والی مارچ کے ایک اجلاس کی ریکارڈنگ کے مطابق بڑی کمپنیوں کے نمائندوں نے رنگوں پر مبنی وارننگ کی شدید مخالفت کی۔ کوکا کولا انڈیا کی ایک سینیئر عہدیدار نے موقف اختیار کیا کہ محض کسی علامت یا وارننگ سے صارف کی غذائی عادات میں نمایاں تبدیلی آنے کا تصور بہت سادہ ہے۔ صنعت نے اس کے بجائے کھانے کی مقدار، یعنی پورشن کنٹرول، پر توجہ دینے کی تجویز دی۔

ایک بھارتی سپر مارکیٹ میں موجود کوکا کولا کے کین
سوڈا ڈرنکس میں بھی چینی کا تناسب دیگر ممالک کے مقابلے میں مختلف ہےتصویر: Depositphotos/IMAGO

دلچسپ بات یہ ہے کہ کوکا کولا یورپ کے تقریباً دو درجن ممالک میں رضاکارانہ طور پر ٹریفک لائٹ طرز کے غذائی لیبل استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح نیسلے بھارت میں ایسی تجاویز کی مخالفت کرنے والی صنعتی تنظیموں کا حصہ رہی ہے، لیکن برطانیہ میں 2013 سے اسی نوعیت کے واضح غذائی لیبل استعمال کر رہی ہے۔

صنعتی اندازوں کے مطابق بھارت کی 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی پیکٹ بند خوراک اور مشروبات کی مارکیٹ میں تقریباً 80 فیصد مصنوعات ایسی ہو سکتی ہیں جن میں چینی، نمک یا چکنائی کی مقدار زیادہ ہے۔ صنعت کا کہنا ہے کہ اگر رنگوں پر مبنی نظام نافذ کیا گیا تو بڑی تعداد میں مصنوعات پر سرخ وارننگ دکھائی دے گی۔

دوسری جانب بھارتی صارفین میں صحت کے حوالے سے آگاہی بڑھ رہی ہے اور سوشل میڈیا پر سرگرم ورکر مختلف مصنوعات کے بھارتی اور غیرملکی نسخوں کا موازنہ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت میں فروخت ہونے والی کٹ کیٹ میں کوکو سالڈز 4.5 فیصد ہیں، جبکہ آسٹریلوی ورژن کی ملک چاکلیٹ میں کم از کم 22 فیصد کوکو ہوتا ہے۔ اسی طرح بھارت میں میگی نوڈلز پام آئل سے تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ برطانیہ میں فروخت ہونے والے کئی ورژنز میں نسبتاً مہنگا سورج مکھی کا تیل استعمال ہوتا ہے۔

فوڈ انفلوئنسر ریونت ہمت سنگکا، المعروف فوڈ فارمر کا کہنا ہے کہ بھارتی صارفین میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ انہیں بعض اوقات دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم معیار کی مصنوعات فروخت کی جا رہی ہیں۔

تاہم صارفین کے دباؤ کے کچھ اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ نیسلے نے 2024 میں بھارت میں بغیر اضافی چینی کے سیریلیک متعارف کرانے کا اعلان کیا، جبکہ اس سے قبل کارکن شکایت کرتے رہے تھے کہ کمپنی دوسرے ممالک میں بغیر چینی والا سیریلیک فروخت کرتی ہے لیکن بھارت میں طویل عرصے تک چینی والا ورژن ہی دستیاب تھا۔

یہ تنازعہ اب بنیادی طور پر اس سوال پر مرکوز ہے کہ کیا بھارتی صارف کو پیکٹ کے سامنے ہی واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ کسی خوراک میں چینی، نمک یا چکنائی کی مقدار زیادہ ہے، یا موجودہ غذائی معلومات کافی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button