پاکستانتازہ ترین

دی یونیورسٹی آف لاہور میں زیرِ آب خودکار گاڑیوں کے ڈیزائن کا پہلا قومی مقابلہ، نوجوان انجینئرز کی جدید ٹیکنالوجی میں صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ

کمانڈر نیوی وار کالج و کمانڈر سینٹرل پنجاب ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی بطور مہمانِ خصوصی شریک؛ پنجاب یونیورسٹی نے پہلی، نسٹ نے دوسری اور یو ای ٹی ٹیکسلا نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی

سید عاطف ندیم-ادارت

دی یونیورسٹی آف لاہور (UOL) میں قومی سطح پر زیرِ آب خودکار گاڑیوں (Autonomous Underwater Vehicles) کے ڈیزائن کا پہلا قومی مقابلہ منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی سرکاری اور نجی جامعات سے تعلق رکھنے والے نوجوان انجینئرز اور طلبہ نے اپنی جدید انجینئرنگ، روبوٹکس اور آٹومیشن کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔

یہ منفرد قومی مقابلہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، زیرِ آب انجینئرنگ، روبوٹکس اور خودکار نظاموں کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک جدید اور مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنے کے مقصد سے منعقد کیا گیا۔

تقریب میں کمانڈر پاکستان نیوی وار کالج اور کمانڈر سینٹرل پنجاب (COMCEP)، ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

قومی سطح کے اس اہم مقابلے کا انعقاد انٹیگریٹڈ انجینئرنگ سینٹر آف ایکسی لینس (IECE)، مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (MED) اور مکینیکل انجینئرنگ سوسائٹی (MES) کے باہمی اشتراک سے کیا گیا۔

تقریب نے نہ صرف نوجوان انجینئرز کو اپنے تکنیکی منصوبے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا بلکہ جامعات، دفاعی اداروں، حکومتی محکموں، صنعت اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر بھی اکٹھا کیا۔

نوجوان انجینئرز دفاعی اور تکنیکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی نے نوجوان انجینئرز کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نوجوان گہرے پانیوں کی انجینئرنگ، روبوٹکس اور جدید آٹومیشن کے شعبوں میں جدت لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان انجینئرز ایسے جدید اور مقامی حل تیار کر سکتے ہیں جو مستقبل میں دفاعی شعبے کو درپیش ابھرتے ہوئے تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوں۔

ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی کا کہنا تھا کہ جدید دور میں ٹیکنالوجی اور دفاع کے درمیان تعلق تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے اور روبوٹکس، آٹومیشن، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام مستقبل کے دفاعی اور سائنسی میدانوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو قومی ترقی اور دفاعی ضروریات کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جامعات میں ہونے والی تحقیق اور نوجوان طلبہ کی اختراعی سوچ پاکستان کے لیے مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

زیرِ آب خودکار گاڑیوں کے جدید ڈیزائنز کو سراہا گیا

مہمانِ خصوصی نے مختلف جامعات کے طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے زیرِ آب خودکار گاڑیوں کے ڈیزائنز کا تفصیلی جائزہ لیا اور نوجوان انجینئرز کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔

ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی نے کہا کہ طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبوں میں مزید ترقی اور بہتری کی وسیع گنجائش موجود ہے جبکہ ان منصوبوں کو مستقبل میں قومی مفاد کے مختلف شعبوں میں استعمال کرنے کی نمایاں صلاحیت بھی موجود ہے۔

انہوں نے یونیورسٹی آف لاہور کے سوئمنگ پول میں زیرِ آب خودکار گاڑیوں کے منصوبوں کا براہِ راست عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔

اس موقع پر مختلف ٹیموں نے اپنی تیار کردہ خودکار زیرِ آب گاڑیوں کی کارکردگی، ڈیزائن، نقل و حرکت اور دیگر تکنیکی خصوصیات کا عملی مظاہرہ کیا۔

مہمانِ خصوصی نے ان منصوبوں کے بنیادی تصورات، تکنیکی ڈیزائن اور ممکنہ عملی استعمال سے متعلق موضوعاتی بریفز کا بھی جائزہ لیا۔

عملی مظاہرے کے دوران نوجوان انجینئرز نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی جدید ٹیکنالوجی مستقبل میں مختلف قومی ضروریات کے لیے مؤثر حل فراہم کر سکتی ہے۔

ملک کی معروف جامعات کی 14 ٹیموں نے مقابلے میں حصہ لیا

قومی سطح کے اس مقابلے میں ملک کے مختلف معروف تعلیمی اداروں کی 14 ٹیموں نے شرکت کی۔

مقابلے میں شامل نمایاں جامعات اور اداروں میں:

  • انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (IST)
  • نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)
  • یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا (UET Taxila)
  • پنجاب یونیورسٹی (PU)
  • یونیورسٹی آف لاہور (UOL)

سمیت دیگر نمایاں تعلیمی اداروں کی ٹیموں نے شرکت کی۔

مختلف ٹیموں نے زیرِ آب خودکار گاڑیوں کے ایسے ڈیزائن اور ماڈلز پیش کیے جن میں انجینئرنگ، مکینیکل ڈیزائن، الیکٹرانکس، روبوٹکس، سینسر ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کے مختلف پہلو شامل تھے۔

یہ مقابلہ اس اعتبار سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس نے ملک کی مختلف جامعات کے طلبہ کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

اسٹیک ہولڈرز فورم میں دفاعی، سائنسی اور حکومتی اداروں کی شرکت

تقریب کے دوران منعقد ہونے والے اسٹیک ہولڈرز فورم میں مختلف اہم قومی، سائنسی، تکنیکی اور حکومتی اداروں کے ماہرین اور نمائندگان نے بھی شرکت کی۔

فورم میں شریک نمایاں اداروں میں:

  • پاکستان نیوی وار کالج (PNWC)
  • سپارکو (SUPARCO)
  • پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)
  • محکمہ آبپاشی پنجاب
  • محکمہ تحفظ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی پنجاب
  • پاکستان محکمہ موسمیات
  • LUMS-WIT

اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین شامل تھے۔

فورم کے دوران ماہرین نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے مواقع اور مستقبل میں درپیش چیلنجز کے حوالے سے اپنی مہارت اور بصیرت کا اظہار کیا۔

شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔

ماہرین نے بین الشعبہ جاتی تحقیق، جدید انجینئرنگ، روبوٹکس، آٹومیشن اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز کو قومی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔

جامعات، صنعت اور حکومتی اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت

تقریب کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کو فروغ دینے کے لیے جامعات، صنعت، حکومتی اداروں اور دفاعی تنظیموں کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں۔

یونیورسٹی آف لاہور کی جانب سے مستقبل میں عملی بنیادوں پر انجینئرنگ کی تعلیم کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

تقریب میں بین الشعبہ جاتی تعاون، جدت اور تحقیق کو مزید فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بامعنی روابط کو آسان بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے مقابلے اور فورمز نوجوان انجینئرز کو محض نظریاتی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے عملی مسائل کے حل کی طرف راغب کرتے ہیں۔

اس طرح طلبہ کو ایسے منصوبوں پر کام کرنے کا موقع ملتا ہے جنہیں مستقبل میں قومی سطح پر مختلف شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پانی کے انتظام، ماحولیات، بحری آپریشنز اور دفاع میں جدید ٹیکنالوجی کے مواقع

زیرِ آب خودکار گاڑیوں اور آٹومیشن سے متعلق تحقیق کو مستقبل میں مختلف شعبوں میں اہم قرار دیا گیا۔

تقریب کے شرکا کے مطابق اس شعبے میں ہونے والی تحقیق نوجوان انجینئرز کو مقامی سطح پر جدید اور مؤثر حل تیار کرنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

ان ٹیکنالوجیز کا ممکنہ استعمال مستقبل میں:

  • پانی کے انتظام
  • ماحولیاتی نگرانی
  • بحری آپریشنز
  • دفاعی ضروریات
  • سائنسی تحقیق
  • زیرِ آب مشاہدے
  • قدرتی وسائل کے مطالعے

سمیت مختلف شعبوں میں کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے مقامی سطح پر تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی پاکستان کی مجموعی تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی

قومی سطح کے اس مقابلے میں مختلف جامعات کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

نتائج کے مطابق پنجاب یونیورسٹی نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ NUST اسکول آف مکینیکل انجینئرنگ نے دوسری پوزیشن اپنے نام کی۔

اسی طرح یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا کی ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

مہمانِ خصوصی ریئر ایڈمرل سہیل احمد اعظمی نے کامیاب ٹیموں اور دیگر شرکا میں ان کی بہترین کاوشوں، تکنیکی مہارت اور کامیابیوں کے اعتراف میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔

تقریب کے اختتام پر نوجوان انجینئرز کی صلاحیتوں کو پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت قرار دیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی میں نوجوانوں کی سرمایہ کاری قومی ترقی کی ضمانت

ماہرین اور شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوان انجینئرز میں جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے اور اگر انہیں تحقیق، تجربات، جدید لیبارٹریوں اور عملی منصوبوں کے لیے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔

زیرِ آب خودکار گاڑیوں کے ڈیزائن کا یہ قومی مقابلہ پاکستان میں روبوٹکس اور آٹومیشن کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس اقدام سے نہ صرف مختلف جامعات کے درمیان تکنیکی اور تحقیقی تعاون کو فروغ ملنے کی توقع ہے بلکہ جامعات، صنعت، حکومتی اداروں، دفاعی تنظیموں اور دیگر ٹیکنالوجی سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مستقبل کے تعاون کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔

تقریب کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ایسے مقابلے مستقبل میں پاکستان میں تحقیق، جدت اور مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے نئے راستے کھولیں گے اور نوجوان انجینئرز کو قومی اور عالمی سطح پر درپیش پیچیدہ مسائل کے جدید حل تیار کرنے کے قابل بنائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button