
پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ
''انفراسٹرکچر کو اور بہتر کرنے سے مزید غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔‘‘
عثمان چیمہ
غیر ملکی سیاحوں نے مقامی لوگوں کے لیے کیا کچھ بدلا؟
سیاحتی شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں نہ صرف ملکی سیاحوں کی آمد بڑھی ہے بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی لوگوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
سکردو کے مقامی رہائشی اور ایک تھری سٹار ہوٹل کے جنرل مینیجر سید حامد علی شاہ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد سے مقامی لوگوں کی آمدنی بڑھی ہے۔ ان کے مطابق بہت سے افراد رہائش اور ہوٹلنگ کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ علاقے میں زمین کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھی ہیں۔ حامد علی شاہ کے مطابق، ”بیرونی سرمایہ کاروں کی آمد سے اب زیادہ تر مقامی لوگ زمین خریدنے کی استطاعت کھو چکے ہیں۔‘‘

غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کن مقامات میں؟
گلگت بلتستان پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش علاقوں میں شامل ہے، خاص طور پر پہاڑوں، ٹریکنگ اور ایڈونچر ٹورزم میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے۔ ہنزہ، سکردو، خپلو، گلگت اور درہ خنجراب خطے کے معروف سیاحتی مقامات میں شامل ہیں، جبکہ کے ٹو، نانگا پربت اور دیگر بلند پہاڑ دنیا بھر سے کوہ پیماؤں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کے سیکرٹری سیاحت اسد ہارون کے مطابق خطے میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2022 میں 17,451 تھی اور 2025 میں بڑھ کر 240,116 ہو چکی تھی۔ ان کے مطابق اس اضافے کی ایک بڑی وجہ بہتر تشہیر اور ملائیشیا، تھائی لینڈ، سنگاپور، انڈونیشیا اور چین سمیت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے سیاحوں کو راغب کرنے کی کوششیں ہیں۔
اسد ہارون کہتے ہیں، ”انفراسٹرکچر کو اور بہتر کرنے سے مزید غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔‘‘

سیاحت کے مزید فروغ کی راہ میں حائل مشکلات
اگرچہ مقامی افراد، کاروباری طبقہ اور سیاحت سے وابستہ حلقے غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہیں، تاہم ملک کی سکیورٹی صورت حال اور دیگر مسائل کو لے کر اسی سلسلے میں خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ سیاحت سے وابستہ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان مسائل پر قابو نہ پایا گیا، تو مستقبل میں یہ شعبہ منفی طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔
سید حامد علی شاہ کے مطابق غیر ملکی سیاحوں کے لیے سکیورٹی کے حوالے سے کئی پابندیاں اور انتظامات موجود ہیں۔ ان کے لیے مخصوص ہوٹلوں کی ایک فہرست طے شدہ ہے، ایئر پورٹ پر رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا پڑتا ہے، جبکہ نقل و حرکت کے دوران بھی انہیں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی یا نگرانی کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے کئی غیر ملکی سیاح شکایت بھی کرتے ہیں۔
شاہ کے مطابق سیاحت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ خود کو آزاد محسوس کریں اور بغیر غیر ضروری پابندیوں کے گھوم پھر سکیں۔ ”ہم جب کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں، تو خود کو آزاد محسوس کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے گھومتے پھرتے ہیں۔ اگر پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کو بھی ایسا ماحول فراہم کرنا ہے، تو سکیورٹی کے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہو گا، ورنہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں فارن ٹورزم کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔‘‘

ٹورسٹ گائیڈ کے تجربات
گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ بطور گائیڈ کام کرنے والے استاد اور ایم فل اسکالر منظور امین سدپارہ بھی سکیورٹی کے بعض انتظامات کو غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک ضلع یا علاقے سے دوسرے میں داخل ہوتے وقت غیر ملکی سیاحوں کے دستاویزات کی چیکنگ کے لیے قائم پولیس ناکوں سے انہیں اکثر شکایت رہتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاح عموماً خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، لیکن بار بار کی چیکنگ انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ شاید وہ کسی ایسے علاقے میں ہیں، جہاں انہیں خطرات کا سامنا ہے۔
منظور امین سدپارہ کے مطابق سیاحت کے لیے بنیادی سہولیات کی کمی بھی ایک مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے، ”گلگت بلتستان کے بعض علاقوں میں بجلی کی مناسب فراہمی نہ ہونے کے باعث رات بھر جنریٹر چلتے ہیں۔ ان کا شور اور دھواں ان علاقوں کے قدرتی حسن، پرسکون ماحول اور فضا کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ غیر ملکی سیاح ایسے شور کو خاص طور پر ناپسند کرتے ہیں۔‘‘

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے اعزازی کوآرڈینیٹر/ مشیر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان کے مطابق پاکستان میں سیاحت کی ترقی میں سکیورٹی کوئی بنیادی رکاوٹ نہیں بلکہ ملک کا عالمی تاثر، تشہیر اور سیاحتی مقامات کی مؤثر مارکیٹنگ بڑے چیلنج ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی مذہبی، طبی اور ایڈونچر ٹورزم کی صلاحیت کو بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے، بین الاقوامی سطح پر مؤثر تشہیر میں اضافے اور سیاحوں کے لیے سفر میں مزید آسانیاں پیدا کرنے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
گلگت بکلتستان میں سہولیات کی صورت حال
اس کے علاوہ گلگت بلتستان حکومت کی سطح پر بھی یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو غیر ملکی سیاحت میں مزید اضافے کے لیے کئی طرح کے مسائل پر قابو پانا ہوگا۔
اسد ہارون کے مطابق غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافے کی راہ میں بہت سے ممالک کی طرف سے اپنے شہریوں کو جاری کردہ منفی سفری ہدایات، پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر موجود بعض غلط تصورات اور انفراسٹرکچر کی کمی بڑی رکاوٹیں ہیں۔

ان کے مطابق، ”گلگت بلتستان میں ہوائی اڈوں، سڑکوں، بجلی کی ترسیل اور ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ خراب موسم کی وجہ سے تجارتی پروازوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو بھی دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘



