
روئٹرزکے ساتھ l سید عاطف ندیم-ادارت

کچھ ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے، تاہم ان سے نتیجہ تبدیل ہونے کی توقع نہیں۔ تقریباً چار لاکھ آبادی والے آئس لینڈ میں یورپی یونین کی رکنیت پر کئی دہائیوں سے بحث جاری ہے۔ ہفتے کے روز کرائے گئے اس ریفرنڈم میں حکومت کا مؤقف تھا کہ یورپی یونین میں شمولیت سے ملک کو تجارتی جنگوں اور آرکٹک خطے میں بڑھتی کشیدگی کے مقابلے میں زیادہ تحفظ مل سکتا ہے۔
لیکن مخالفین کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی رکنیت سے ملکی خودمختاری اور ماہی گیری کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہی گیری کا معاملہ اہم
آئس لینڈ کی معیشت میں ماہی گیری کا اہم کردار ہے، اسی لیے اس کے سمندری پانیوں پر کنٹرول ریفرنڈم کی مہم کا مرکزی موضوع رہا۔ ‘نہیں‘ کے حامیوں نے خبردار کیا کہ یورپی یونین کی رکنیت سے ملک اپنے ماہی گیری کے پانیوں پر مکمل اختیار کھو سکتا ہے۔
جبکہ ‘ہاں‘ کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے قواعد کے تحت بھی آئس لینڈ اپنے پانیوں پر خاصا کنٹرول برقرار رکھ سکتا ہے۔
معاشی مشکلات بھی بحث کا مرکز
آئس لینڈ اس وقت مہنگائی اور بلند شرح سود کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے مرکزی بینک کی شرح سود 8 فیصد ہے، جبکہ یورپی مرکزی بینک کی شرح سود 2.25 فیصد ہے۔

یورپی یونین کے حامیوں کا کہنا تھا کہ رکنیت اور ممکنہ طور پر یورو اپنانے سے قرضوں اور شرح سود میں کمی آ سکتی ہے۔ لیکن مخالفین کے مطابق ملک کے معاشی مسائل کا حل برسلز کے پاس نہیں، بلکہ آئس لینڈ کی اپنی حکومت کے پاس ہے۔
یورپی یونین کے لیے دھچکا
آئس لینڈ کے’نہیں‘ کے ووٹ کو برسلز کے لیے بھی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی حکام آئس لینڈ کو یورپی یونین کی توسیع کے حوالے سے نسبتاً آسان اور کم خطرے والا معاملہ سمجھتے تھے۔ آئس لینڈ نے پہلی بار 2009 میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی، تاہم 2013 میں مذاکرات روک دیے گئے تھے۔
اب تازہ ریفرنڈم کے نتیجے کے بعد یورپی یونین میں شمولیت کا معاملہ ایک بار پھر پسِ منظر میں چلا گیا ہے۔



