کالمزعلی عباس کاظمی

معاوضہ زندگی کا نعم البدل نہیں….. علی عباس کاظمی

اصل سوال آگ کا نہیں، اس تیاری کا ہے جو آگ سے پہلے ہونی چاہیے تھی۔ آگ کہیں بھی لگ سکتی ہے۔ بجلی کا نظام فیل ہو سکتا ہے

ایک نومولود کی موت پر ماں صرف روتی نہیں، اس کے اندر پوری دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔ وہ بچہ جسے ابھی ماں کی گود کی حرارت بھی پوری طرح نصیب نہیں ہوئی، جس نے ابھی باپ کی انگلی مضبوطی سے تھامی بھی نہیں، جس کے مستقبل کے لیے ابھی کوئی خواب ترتیب نہیں پایا تھا، اگر اسی جگہ دم توڑ دے جہاں اسے زندگی کی حفاظت ملنی تھی تو اسے محض حادثہ کہہ دینا شاید انسانی احساس کی توہین ہے۔ اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری اسپتال کی نرسری میں چودہ نومولود بچوں کا جاں بحق ہونا صرف ایک خبر نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے دروازے پر دستک ہے۔
ذرا تصور کیجیے ان ماؤں کا جو اپنے بچوں کو اسپتال کی نرسری میں چھوڑ کر باہر آئی ہوں گی۔ کسی نے شاید جاتے ہوئے اپنے بچے کا ماتھا چوما ہوگا، کسی نے نرس سے بار بار کہا ہوگا کہ بچے کا خیال رکھیے گا، کسی باپ نے شاید چند لمحوں کے لیے شیشے کے پار اپنے بچے کو دیکھا ہوگا اور دل ہی دل میں مستقبل کے خواب سجائے ہوں گے۔ کسی نے نام سوچ رکھا ہوگا، کسی نے پہلی تصویر محفوظ کرنے کا خواب دیکھا ہوگا۔ لیکن پھر ایک آگ بھڑکی اور ان خوابوں کو بھی اپنے ساتھ جلا گئی۔ ایسے سانحے کے بعد کسی ماں کو پچاس لاکھ روپے دیے جائیں یا پانچ کروڑ، اس کی گود کا خلا رقم سے نہیں بھرا جا سکتا۔
ہماری ریاست کا المیہ یہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد ہمیں اس کی قیمت یاد آتی ہے۔ زندہ انسان کے لیے حفاظتی نظام مہنگا محسوس ہوتا ہے، مگر موت کے بعد معاوضہ منظور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ آگ بجھانے کے آلات لگانا شاید بجٹ کا مسئلہ بن جاتا ہے، ہنگامی راستے کھلے رکھنا شاید انتظامی ترجیح نہیں رہتا، عملے کو باقاعدہ تربیت دینا شاید اضافی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، لیکن جب چند معصوم جانیں چلی جائیں تو فوراً معاوضے کی رقم کا اعلان ہو جاتا ہے۔ کیا ہم نے انسانی زندگی کو بھی ایک مالی پیکیج میں تبدیل کر دیا ہے؟
اصل سوال آگ کا نہیں، اس تیاری کا ہے جو آگ سے پہلے ہونی چاہیے تھی۔ آگ کہیں بھی لگ سکتی ہے۔ بجلی کا نظام فیل ہو سکتا ہے، شارٹ سرکٹ ہو سکتا ہے، کوئی مشین خراب ہو سکتی ہے۔ دنیا کے محفوظ ترین ادارے بھی حادثات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ مگر ذمہ دار نظام وہ ہوتا ہے جو حادثے کے امکان کو جانتا ہے اور اس کے لیے پہلے سے تیار رہتا ہے۔ اگر ایمرجنسی راستے بند ہوں، حفاظتی آلات ناکارہ ہوں، عملے کو معلوم نہ ہو کہ بحران کی صورت میں کیا کرنا ہے اور چند منٹوں کی تاخیر زندگی اور موت کے درمیان فرق بن جائے تو پھر یہ صرف بدقسمتی نہیں رہتی، یہ انتظامی ناکامی بن جاتی ہے۔
ہم نے اپنے اداروں میں ایک عجیب روایت پیدا کر لی ہے۔ ہر چیز کاغذی کاروائی میں مکمل ہوتی ہے۔ معائنہ بھی ہوتا ہے، رپورٹ بھی بنتی ہے، دستخط بھی ہوتے ہیں اور فائل بھی بند ہو جاتی ہے۔ مگر جب حقیقت کسی حادثے کی شکل میں سامنے آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس نظام کوکاغذی کاروائی میںمضبوط سمجھا جا رہا تھا، وہ حقیقت میں اندر سے کھوکھلا تھا۔ سوال یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کی نگرانی کس نے کی؟ کتنی بار کی؟ کس معیار کے مطابق کی؟ اگر خامی موجود تھی تو اسے دور کیوں نہ کیا گیا؟ اور اگر سب کچھ درست تھا تو پھر چند لمحوں میں ایک نرسری زندگی کے بجائے موت کا منظر کیوں بن گئی؟
حادثے کے بعد معطلیاں اور تحقیقات اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی افسر کو ہٹا دینا اور نظام کو درست کر دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر ایک شخص کو ذمہ دار قرار دے کر پورا ادارہ بری الذمہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نظام میں خامی کسی فرد کی ذاتی ملکیت تھی اور اس کے جاتے ہی مسئلہ بھی ختم ہو گیا۔اگر حفاظتی نظام کی ایک کمزوری چودہ زندگیاں نگل سکتی ہے تو پھر انگلی صرف ایک فرد کی طرف نہیں، اس پورے انتظامی ڈھانچے کی طرف اٹھنی چاہیے جس نے اس کمزوری کو برقرار رہنے دیا۔
اور پھر یہ سوال صحت کے پورے نظام تک پہنچتا ہے۔ ہم نے بڑے اسپتال تو بنا لیے، مگر کیا ہم نے وہ بنیادی صحت کا نظام بھی قائم رکھا جو بڑے اسپتالوں کا بوجھ کم کرتا ہے؟ کبھی مقامی سطح پر طبی مراکز اور ڈسپنسریاں اس لیے اہم سمجھی جاتی تھیں کہ ہر معمولی بیماری کے لیے مریض کو بڑے اسپتال نہ جانا پڑے۔ ایک ڈاکٹر، چند تربیت یافتہ نرسیں اور بنیادی ادویات بہت سے مسائل کو محلے کی سطح پر حل کر دیتی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ تصور کمزور ہوا، نجی شعبہ بڑھا، بڑے اسپتالوں پر دباؤ بڑھا اور سرکاری صحت کے ادارے مریضوں کے ایک ایسے ہجوم میں گھر گئے جسے سنبھالنا خود ایک مستقل چیلنج بن گیا۔
بڑے اسپتالوں کو ہم نے ایسا ادارہ بنا دیا ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے مریض، تیماردار، ڈاکٹر، نرسیں، مشینیں، ایمرجنسی اور انتظامی مسائل سب جمع ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ایک ہی نظام سب کچھ سنبھال لے گا۔ پھر جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ اتنی بڑی عمارت میں انتظام کیوں ناکام ہو گیا۔ شاید مسئلہ عمارت کا نہیں، ہماری منصوبہ بندی کا ہےبڑے اسپتال صحت کے نظام کا صرف ایک حصہ ہیں، اصل طاقت اس پورے ڈھانچے میں ہوتی ہے جو گلی، محلے اور بنیادی مرکزِ صحت سے شروع ہو کر بڑے طبی اداروں تک پہنچتا ہے۔
اس سانحے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات شاید یہ نہیں کہ چودہ بچے چلے گئے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ان کی موت کے بعد پھر وہی روایتی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ نوٹس، اجلاس، کمیٹی، معطلی، بیان، معاوضہ اور پھر خاموشی۔ چند دن میڈیا پر شور ہوگا، پھر کوئی نئی سیاسی خبر آ جائے گی، کوئی نیا تنازع پیدا ہوگا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ واقعہ بھی خبروں کی بھیڑ میں کہیں گم ہو جائے گا۔ لیکن جن گھروں میں یہ بچے نہیں لوٹیں گے وہاں کوئی نئی خبر اس خلا کو پُر نہیں کر سکے گی۔
یہاں میڈیا، سیاست اور معاشرہ سب اپنی اپنی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ ہمیں سانحے کو صرف جذباتی خبر نہیں بنانا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلا، ذمہ داری کس پر عائد ہوئی، حفاظتی نظام میں کیا تبدیلیاں آئیں اور کیا واقعی ان اصلاحات پر عمل ہوا۔ ورنہ ہماری صحافت بھی صرف لاشوں کی گنتی اور بیانات کی سرخیاں بنانے تک محدود رہ جائے گی۔ صحافت کا اصل کام شور پیدا کرنا نہیں، خاموش رہ جانے والے سوالوں کو زندہ رکھنا ہے۔
ریاست کے لیے بھی یہ لمحہ صرف انتظامی کارروائی کا نہیں، خود احتسابی کا ہے۔ اگر ایک سرکاری اسپتال میں نومولود بچے محفوظ نہیں تو یہ سوال صرف وزارت صحت سے نہیں بلکہ پورے حکومتی ڈھانچے سے ہے۔ صحت کے اداروں کی نگرانی کون کرتا ہے؟ حفاظتی معیارات کون طے کرتا ہے؟ ان پر عمل درآمد کون یقینی بناتا ہے؟ بجٹ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا کسی افسر کے لیے انسانی جان واقعی اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کی کرسی اور عہدہ؟
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ریاست اکیلی قصوروار نہیں۔ معاشرہ بھی ذمہ دار ہے۔ ہم معمولی خرابی کو معمول سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ خراب تار دیکھ کر گزر جاتے ہیں، بند راستہ دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، ناقص انتظام دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہاں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ یہی چھوٹی چھوٹی خاموشیاں ایک دن بڑے سانحے میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ہر حادثے کے بعد کسی ایک شخص کو مجرم تلاش کرنا آسان ہے، لیکن اپنے اجتماعی رویے میں موجود بے حسی کو مجرم ماننا بہت مشکل۔
چودہ بچے واپس نہیں آ سکتے۔ یہ حقیقت ہماری تمام بحثوں سے بڑی ہے۔ لیکن اگر ان کی موت کے بعد بھی حفاظتی نظام صرف کاغذی کاروائی میں درست ہوتا رہا، اگر بنیادی صحت کا ڈھانچہ اسی طرح کمزور رہا، اگر تحقیقات چند دنوں بعد بھلا دی گئیں اور اگر ہم نے پھر کسی اگلے سانحے کا انتظار شروع کر دیا تو ان معصوم جانوں کی موت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
کسی معاشرے کی اصل ترقی اس کی بلند عمارتوں، بڑی سڑکوں اور جدید مشینوں سے نہیں ناپی جاتی۔ اس کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین انسان کی حفاظت کس قدر کرتا ہے۔ ایک نومولود اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کی حفاظت ریاست، ادارے اور معاشرہ کرتے ہیں۔ اگر ہم وہاں بھی ناکام ہو جائیں جہاں ایک بچے کو صرف سانس لینے کے لیے محفوظ جگہ درکار ہے تو پھر ہمیں اپنی ترقی کے دعووں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
آگ نرسری میں لگی تھی، مگر سوال ہمارے سسٹم کے ہر دروازے تک پہنچ گیا ہے۔ چودہ ننھی جانیں خاموش ہو گئی ہیں، مگر ان کی خاموشی ہم سے بہت کچھ پوچھ رہی ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف یہ نہ دیکھیں کہ کس کی کرسی گئی، کس نے استعفیٰ دیا اور کتنے روپے کا معاوضہ ملا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا واقعی وہ نظام بدلے گا جس نے ان بچوں کو بچانے میں ناکامی دکھائی۔ کیونکہ اصل انصاف تب ہوگا جب کسی دوسری ماں کو اپنے بچے کو اسپتال کے حوالے کرتے ہوئے یہ خوف محسوس نہ ہو کہ کہیں وہ زندگی کی امید لے کر نہ آئے اور موت کی خبر لے کر واپس نہ جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button