یورپتازہ ترین

آئس لینڈ کا یورپی یونین میں شمولیت سے انکار

یورپی یونین کی رکنیت سے ملکی خودمختاری اور ماہی گیری کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

 روئٹرزکے ساتھ l سید عاطف ندیم-ادارت

تقریباً چار لاکھ آبادی والے آئس لینڈ میں یورپی یونین کی رکنیت پر کئی دہائیوں سے بحث جاری ہے۔ اب تازہ ریفرنڈم کے نتائج آنے کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر پس منظر میں چلا گیا ہے۔

آئس لینڈ کے قریب پانیوں میں ماہی گیری کے لیے جانے والی ایک کشتی
یورپی یونین میں شمولیت کے مخالفین نے خبردار کیا ہےکہ یورپی یونین کی رکنیت سے ملک اپنے ماہی گیری کے پانیوں پر مکمل اختیار کھو سکتا ہےتصویر: Leonhard Foeger/REUTERS

کچھ ووٹوں کی گنتی ابھی باقی ہے، تاہم ان سے نتیجہ تبدیل ہونے کی توقع نہیں۔ تقریباً چار لاکھ آبادی والے آئس لینڈ میں یورپی یونین کی رکنیت پر کئی دہائیوں سے بحث جاری ہے۔ ہفتے کے روز کرائے گئے اس ریفرنڈم میں حکومت کا مؤقف تھا کہ یورپی یونین میں شمولیت سے ملک کو تجارتی جنگوں اور آرکٹک خطے میں بڑھتی کشیدگی کے مقابلے میں زیادہ تحفظ مل سکتا ہے۔

لیکن مخالفین کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی رکنیت سے ملکی خودمختاری اور ماہی گیری کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہی گیری کا معاملہ اہم

آئس لینڈ کی معیشت میں ماہی گیری کا اہم کردار ہے، اسی لیے اس کے سمندری پانیوں پر کنٹرول ریفرنڈم کی مہم کا مرکزی موضوع رہا۔ ‘نہیں‘ کے حامیوں نے خبردار کیا کہ یورپی یونین کی رکنیت سے ملک اپنے ماہی گیری کے پانیوں پر مکمل اختیار کھو سکتا ہے۔

جبکہ ‘ہاں‘ کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے قواعد کے تحت بھی آئس لینڈ اپنے پانیوں پر خاصا کنٹرول برقرار رکھ سکتا ہے۔

معاشی مشکلات بھی بحث کا مرکز

آئس لینڈ اس وقت مہنگائی اور بلند شرح سود کا سامنا کر رہا ہے۔ ملک کے مرکزی بینک کی شرح سود 8 فیصد ہے، جبکہ یورپی مرکزی بینک کی شرح سود 2.25 فیصد ہے۔

آئس لینڈ ریفرنڈم میں ایک شخص اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے
آئس لینڈ میں ریفرنڈم کے نتائج کو یورپی یونین کے لیے بھی ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہےتصویر: Leonhard Foeger/REUTERS

یورپی یونین کے حامیوں کا کہنا تھا کہ رکنیت اور ممکنہ طور پر یورو اپنانے سے قرضوں اور شرح سود میں کمی آ سکتی ہے۔ لیکن مخالفین کے مطابق ملک کے معاشی مسائل کا حل برسلز کے پاس نہیں، بلکہ آئس لینڈ کی اپنی حکومت کے پاس ہے۔

یورپی یونین کے لیے دھچکا

آئس لینڈ کے’نہیں‘ کے ووٹ کو برسلز کے لیے بھی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی حکام آئس لینڈ کو یورپی یونین کی توسیع کے حوالے سے نسبتاً آسان اور کم خطرے والا معاملہ سمجھتے تھے۔ آئس لینڈ نے پہلی بار 2009 میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی، تاہم 2013 میں مذاکرات روک دیے گئے تھے۔

اب تازہ ریفرنڈم کے نتیجے کے بعد یورپی یونین میں شمولیت کا معاملہ ایک بار پھر پسِ منظر میں چلا گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button