
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (EDF) کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی برآمدات بڑھانے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو سہولیات فراہم کرنے، ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس کی رسائی وسیع کرنے، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں اصلاحات اور ملکی معیشت کو برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (EXIM Bank of Pakistan) کی جانب سے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے برآمدی انشورنس کوریج فراہم کرنے کے اقدام کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ SMEs ملکی معیشت، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں عالمی منڈیوں تک رسائی اور برآمدی سرگرمیوں کے لیے ضروری مالیاتی و انشورنس سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
SMEs کے لیے 3 ارب روپے کا رسک پول
اجلاس میں بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے 3 ارب روپے کا رسک پول قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس تک رسائی کو وسعت دینا اور ایسے کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات متعارف کرانے یا موجودہ برآمدات میں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ اس اقدام سے کاروباری برادری کو اپنی برآمدات کا حجم بڑھانے میں سہولت ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان کو عالمی تجارت میں مختلف مالیاتی اور کاروباری خطرات کا سامنا رہتا ہے، اس لیے انشورنس کوریج کی دستیابی انہیں زیادہ اعتماد کے ساتھ بین الاقوامی مارکیٹ میں داخل ہونے اور نئے کاروباری مواقع تلاش کرنے میں مدد دے گی۔
وزیراعظم نے 3 ارب روپے کے رسک پول کو خاص طور پر SMEs کے لیے ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو برآمدی شعبے میں آگے لانے کے لیے انہیں مالیاتی سہولیات، انشورنس کوریج، تحقیق، تربیت اور بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں SMEs کے فروغ کے لیے یہ انتہائی خوش آئند اقدام ہے اور اس کے ذریعے کاروباری طبقے کے لیے برآمدات بڑھانے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں اصلاحات
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی تنظیم نو اور اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم نے ملکی معیشت کو تقویت دینے اور برآمدات کے فروغ کے لیے EDF میں اصلاحات پر فنڈ کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی تنظیم نو اور اصلاحات کا بنیادی مقصد اس کے وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں کاروباری برادری کی ضروریات کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ان کے مطابق اصلاحات کے بعد EDF کی قیادت نجی شعبے کے ماہرین کے سپرد کی گئی ہے تاکہ کاروباری دنیا کے تجربات، مارکیٹ کی ضروریات اور برآمدی شعبے کے عملی تقاضوں کو فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر طریقے سے شامل کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ EDF کے پاس موجود تمام سرمایہ کاروباری برادری کی سہولت کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے اور فنڈ کے وسائل کو ایسے اقدامات کے لیے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جو ملکی معیشت، برآمدات اور کاروباری مسابقت میں بہتری کا باعث بنیں۔
EDF کے 24 ارب روپے کاروباری برادری کی سہولت کے لیے مختص
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے پاس موجود 24 ارب روپے مکمل طور پر کاروباری برادری کی سہولت کے لیے سرمایہ کاری کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق EDF کے وسائل کو نئی ترجیحات کے تحت ایسے شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے جن سے ملک کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہو، کاروباری اداروں کی استعداد بہتر ہو اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت مضبوط ہو۔
اس سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ مزید انفراسٹرکچر کی مد میں کسی قسم کا خرچہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ موجودہ وسائل کو کاروباری شعبے کی عملی ضروریات پوری کرنے اور برآمدی استعداد بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ EDF کے تحت ملکی معیشت کی ترقی اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تحقیق، اسکلز ڈویلپمنٹ اور مسابقت میں اضافے سے متعلق مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تحقیق اور اسکلز ڈویلپمنٹ پر توجہ
حکومت کی جانب سے برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی میں تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عالمی تجارت میں کامیابی کے لیے پاکستانی کاروباری اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، نئی پیداواری تکنیکوں، بین الاقوامی معیار، پیکیجنگ، مارکیٹنگ اور عالمی صارفین کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔
اسی مقصد کے تحت EDF کے وسائل کو تحقیق اور اسکلز ڈویلپمنٹ کے منصوبوں میں استعمال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ پاکستانی صنعت اور کاروباری ادارے عالمی سطح پر موجود مسابقت کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
SMEs کے لیے تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے اقدامات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ چھوٹے کاروباری اداروں کے پاس بڑے کاروباری گروپس کے مقابلے میں مالی، تکنیکی اور مارکیٹنگ کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان اداروں کو زیادہ مؤثر سہولیات فراہم کرنے سے برآمدی شعبے میں نئے کاروباری اداروں کی شمولیت بڑھنے کی توقع ہے۔
برآمدات پر مبنی معیشت حکومت کی ترجیح
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے یہ تمام اقدامات ملکی معیشت کو فروغ دینے اور پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے عزم کے عکاس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی معیشت کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے جس میں برآمدات کو بنیادی اہمیت حاصل ہو، کیونکہ برآمدات میں اضافہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کے حصول، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع اور مجموعی اقتصادی استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے اپنے عزم کی تکمیل کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے اور کاروباری طبقے کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں پاکستان عالمی سطح پر سرمایہ کاری کا مرکز بن سکتا ہے اور ملکی صنعت و تجارت کو بین الاقوامی منڈیوں میں مزید بہتر انداز میں جگہ بنانے کا موقع ملے گا۔
EXIM Bank کا کردار مزید اہم
اجلاس میں ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ بالخصوص SMEs کے لیے برآمدی انشورنس کوریج کی فراہمی سے چھوٹے کاروباری اداروں کو بین الاقوامی تجارت سے وابستہ خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
برآمدی انشورنس کی سہولت کاروباری اداروں کو بیرون ملک خریداروں کے ساتھ تجارت کرتے ہوئے ممکنہ مالی خطرات سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس سہولت کو SMEs تک وسعت دینے سے مزید کاروباری اداروں کے لیے عالمی منڈی میں قدم رکھنے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
یورپی مارکیٹ تک رسائی کے لیے GSP Plus پر اقدامات
اجلاس میں پاکستان کی یورپی مارکیٹ تک رسائی کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے لیے خصوصی مراعاتی تجارتی نظام GSP Plus Status میں توسیع کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یورپی مارکیٹ پاکستان کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، اس لیے GSP Plus سے متعلق پیش رفت کو برآمدی شعبے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ اس سلسلے میں حکومت کی کوششوں کا مقصد پاکستانی مصنوعات کے لیے یورپی منڈی میں موجود مواقع کو برقرار رکھنا اور مستقبل میں برآمدات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینا ہے۔
GSP Plus کے حوالے سے اقدامات کو پاکستان کی وسیع تر برآمدی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت پاکستانی کاروباری اداروں کو بڑی عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے، برآمدی مسابقت بڑھانے اور ملکی مصنوعات کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
کاروباری برادری کے لیے اصلاحات کا مقصد
حکومت کا کہنا ہے کہ EDF کی تنظیم نو کا مقصد محض ادارہ جاتی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے وسائل اور سرگرمیوں کو کاروباری برادری کی عملی ضروریات سے جوڑنا ہے۔ نجی شعبے کے ماہرین کی شمولیت کے ذریعے ایسے منصوبوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو براہِ راست برآمدات، پیداوار، تحقیق، مہارتوں اور مسابقت میں اضافے کا باعث بن سکیں۔
اس حوالے سے وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری وسائل کو مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے اور ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جو ملکی معیشت پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کریں۔
سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کی حکمت عملی
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملکی معیشت کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا، نجی شعبے کو زیادہ مؤثر کردار دینا اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک بنانے کے لیے اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ کاروباری سہولیات میں بہتری بھی ضروری ہے۔ اسی تناظر میں برآمد کنندگان، صنعت کاروں اور SMEs کو سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں اہم حکومتی و متعلقہ حکام کی شرکت
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر جام کمال خان، وفاقی وزیر احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے بورڈ کے چیئرمین عمر سعید اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں EDF کی تنظیم نو، اس کے مالی وسائل کے استعمال، SMEs کے لیے ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس، 3 ارب روپے کے رسک پول، تحقیق و ترقی، اسکلز ڈویلپمنٹ، کاروباری مسابقت میں اضافے اور یورپی مارکیٹ تک رسائی سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
برآمدی معیشت کے لیے نئی سمت
مجموعی طور پر ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے حوالے سے وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس کو پاکستان کی برآمدی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 24 ارب روپے کے موجودہ وسائل کو کاروباری برادری کی سہولت کے لیے مختص کرنے، 3 ارب روپے کے رسک پول کے ذریعے SMEs کے لیے ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس کی رسائی بڑھانے اور EDF کی قیادت نجی شعبے کے ماہرین کے سپرد کرنے جیسے اقدامات کا بنیادی مقصد برآمدی شعبے کو زیادہ مؤثر اور مسابقتی بنانا ہے۔
حکومت کی حکمت عملی کا مرکز یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کو صرف داخلی کھپت تک محدود رکھنے کے بجائے برآمدات، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، مہارتوں اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے پائیدار بنیاد فراہم کی جائے۔
اگر ان اقدامات پر مؤثر اور مسلسل عملدرآمد یقینی بنایا جاتا ہے تو SMEs کے لیے نئے برآمدی مواقع پیدا ہونے، کاروباری خطرات میں کمی، عالمی منڈیوں تک رسائی میں بہتری اور پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے، برآمدات بڑھانے، کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے اور ملک کو عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی۔
حکومتی پالیسی کا بنیادی ہدف ایک ایسی مضبوط اور برآمدات پر مبنی معیشت کی تشکیل ہے جو نہ صرف ملکی زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرے بلکہ پاکستان کو عالمی تجارتی نظام میں ایک زیادہ مسابقتی، مستحکم اور قابلِ اعتماد معاشی شراکت دار کے طور پر بھی سامنے لائے۔



