
دفاعِ وطن سے تعمیرِ وطن تک…….علی عباس کاظمی
شہادت کا اصل احترام شاید یہی ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کردار میں ذمہ داری پیدا کریں۔ ایک استاد ایمانداری سے پڑھائے
چھ ستمبر کی تاریخ ہمیں ایک ایسے وقت کی یاد دلاتی ہے جب ملک کی سرحدوں پر خطرہ موجود تھا اور فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کو ڈھال بنا کر وطن کے دفاع کا فریضہ انجام دیا۔ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کے پیچھے عزم، نظم، قربانی اور قومی یکجہتی کی وہ قوت ہوتی ہے جو ایک قوم کو مشکل ترین حالات میں بھی قائم رکھتی ہے۔ ہمارے شہداء اسی اجتماعی قوت کی علامت ہیں۔ انہوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ وطن محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، یہ ان لوگوں کی امانت بھی ہے جو آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا آج قربان کر دیتے ہیں۔
مگر وقت گزرنے کے ساتھ یادیں بھی رسموں میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ ہمیں خطرہ ہے کہ شہادت بھی کہیں ایک سالانہ تقریب کا عنوان نہ بن جائے۔ ہم ایک دن شہداء کے لیے دعائیں کریں، چند تقریریں سنیں، پرچم لہرائیں اور پھر اگلے دن اسی معاشرتی بے حسی میں واپس چلے جائیں جس میں قانون کی خلاف ورزی معمول، قومی وسائل کا ضیاع معمول، بدعنوانی قابل قبول اور اپنی ذمہ داری سے فرار ایک ذہانت سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی شہداء کی قربانیوں کو سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔ وطن کا دفاع صرف بندوق اٹھانے والے سپاہی کی ذمہ داری نہیں، ہر شہری اپنے کردار کے ذریعے اس دفاع میں شریک ہوتا ہے۔
سرحد پر کھڑا سپاہی دشمن کی گولی کا سامنا کرتا ہے، مگر معاشرے کے اندر ایک اور طرح کی جنگ جاری رہتی ہے۔ جہالت، کرپشن، نفرت، تعصب، جھوٹ، عدم برداشت، قانون شکنی اور قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینا بھی کسی ملک کو اندر سے کمزور کرتے ہیں۔ بیرونی دشمن کی نشاندہی آسان ہوتی ہے، مگر اندرونی کمزوریوں کو پہچاننا مشکل۔ شاید اسی لیے ہم اکثر سرحدوں کی حفاظت کا جشن مناتے ہیں مگر ان رویوں پر خاموش رہتے ہیں جو قوم کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔
شہادت کا اصل احترام شاید یہی ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کردار میں ذمہ داری پیدا کریں۔ ایک استاد ایمانداری سے پڑھائے، ایک طالب علم علم کو محض امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہ سمجھے، ایک تاجر دیانت کو نقصان کا سودا نہ جانے، ایک سرکاری ملازم اپنے منصب کو ذاتی فائدے کی سیڑھی نہ بنائے اور ایک عام شہری قانون کو صرف دوسروں کے لیے ضروری نہ سمجھے۔ اگر ہر شخص اپنے حصے کا فرض ادا کرے تو یہی قومی خدمت ہے۔ وطن سے محبت کا سب سے معتبر ثبوت جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ذمہ دارانہ عمل ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ نئی نسل کو شہداء کی کہانی کس انداز میں سنائی جا رہی ہے۔ اگر ہم انہیں صرف جنگ کے واقعات، ہتھیاروں اور فتح کے قصے سنائیں گے تو شاید وہ شہادت کی گہرائی کو پوری طرح محسوس نہ کر سکیں۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ شہید کے پیچھے ایک خاندان بھی ہوتا ہے، ایک ماں کی دعائیں ہوتی ہیں، ایک باپ کی امیدیں ہوتی ہیں، بہن بھائیوں کے خواب ہوتے ہیں اور بچوں کی وہ زندگی ہوتی ہے جس میں باپ کی غیر موجودگی ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ شہادت صرف میدان میں ہونے والا ایک واقعہ نہیں، یہ ایک خاندان کی پوری زندگی پر ثبت ہو جانے والی قربانی ہے۔
اسی لیے شہداء کے خاندانوں کا احترام صرف تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ کسی قوم کی اخلاقی قوت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کے خاندانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ اگر کسی شہید کے اہل خانہ کو اپنے جائز حقوق کے لیے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ شہید کا خاندان اپنے عزیز کی قربانی کو فخر سمجھتے ہوئے یہ محسوس بھی کرے کہ قوم اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
چھ ستمبر ہمیں دشمن کے مقابلے میں اتحاد کا سبق بھی دیتا ہے۔ مشکل وقت میں قومیں اپنے اختلافات سے اوپر اٹھتی ہیں، مگر افسوس کہ معمول کے دنوں میں ہم چھوٹی چھوٹی تقسیموں میں بٹ جاتے ہیں۔ زبان، علاقے، جماعت، برادری، مسلک اور ذاتی مفادات ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیتے ہیں۔ جس وطن کی حفاظت کے لیے کسی سپاہی نے اپنی جان دی، اگر اسی وطن کے شہری ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تو ہمیں اپنی قومی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ دشمن صرف سرحد کے اُس پار نہیں ہوتا، کبھی کبھی ہماری نفرتیں بھی دشمن کا کام آسان کر دیتی ہیں۔
آج دفاع وطن کا مفہوم بھی وسیع ہو چکا ہے۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے مگر اس کے ساتھ فکری، معاشی، اخلاقی اور تعلیمی بنیادوں کو مضبوط کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ایک کمزور تعلیمی نظام، غیر ذمہ دار میڈیا، جھوٹی معلومات، انتہا پسندانہ سوچ، معاشی ناانصافی اور اداروں پر عدم اعتماد کسی بھی قوم کے لیے سنجیدہ خطرات بن سکتے ہیں۔ جدید دور میں کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ توپ اور ٹینک ضروری نہیں ہوتے، جھوٹ، انتشار اور بداعتمادی بھی وہ کام کر دیتے ہیں جو ہتھیار نہیں کر پاتے۔
شاید اسی لیے چھ ستمبر کو صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ وطن سے محبت صرف پرچم لہرانے، ملی نغمہ سننے یا سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام لکھ دینے کا نام نہیں۔ محبت وہ ہے جو انسان کو اپنے فرائض دیانت سے ادا کرنے پر مجبور کرے، جو اسے غلط کے خلاف کھڑا کرے، جو اسے اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کا بھی خیال سکھائے اور جو اسے یہ احساس دے کہ ملک کی تعمیر بھی دفاع ہی کی ایک شکل ہے۔
شہداء واپس نہیں آ سکتے، مگر ان کی قربانیاں ہمارے رویوں میں زندہ رہ سکتی ہیں۔ ہر بار جب ہم قانون کی پاسداری کرتے ہیں، کسی کا حق نہیں مارتے، جھوٹ سے بچتے ہیں، اپنے کام کو دیانت سے انجام دیتے ہیں، کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامتے ہیں اور اپنی ذات سے اوپر قومی مفاد کو رکھتے ہیں تو ہم دراصل اس وطن کے دفاع میں اپنا چھوٹا سا حصہ ادا کرتے ہیں۔ شاید چھ ستمبر کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ شہداء کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ ان کے لیے صرف آنکھ نم کرنا نہیں بلکہ اپنے کردار کو ایسا بنانا ہے جس پر وہ قربانی فخر کر سکے۔


