
اپنے آپ سے سچ بولیے……علی عباس کاظمی
اگر انسان یہ مان لے کہ ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی، میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی، میں نے غصے میں غلط فیصلہ کیا
ہم دوسروں سے جھوٹ بولنے کے عادی ہو چکے ہیں، مگر شاید سب سے خطرناک جھوٹ وہ ہے جو انسان اپنے آپ سے بولتا ہے۔ دوسروں کو دھوکا دینے والا شخص کم از کم یہ جانتا ہے کہ وہ حقیقت چھپا رہا ہے، لیکن جو شخص اپنے ہی سامنے اپنی غلطیوں کا دفاع کرنے لگے، وہ آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنی غلطی بھی درست دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہی خود فریبی انسان کے اندر وہ دیوار کھڑی کر دیتی ہے جس کے دوسری طرف حقیقت کھڑی ہوتی ہے اور انسان پوری زندگی اس دیوار کو حقیقت سمجھ کر جیتا رہتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنی ناکامیوں کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور تلاش کر لیتے ہیں۔ کبھی حالات ذمہ دار ٹھہرتے ہیں، کبھی زمانہ، کبھی دوست، کبھی خاندان اور کبھی قسمت۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان اپنی کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے میں دیر نہیں کرتا، لیکن ناکامی کا بوجھ اٹھانے کے لیے اسے ہمیشہ کسی دوسرے کندھے کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک ایسا پہلو ہے جو ہمیں وقتی طور پر مطمئن ضرور کرتا ہے، مگر اصلاح کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ جس دن ہم نے اپنی ہر شکست کا ذمہ دار کسی دوسرے کو بنا دیا، اسی دن ہم نے اپنے اندر بہتری کی گنجائش بھی ختم کر دی۔
اپنی غلطی تسلیم کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے انسان کو اپنے بنائے ہوئے کردار سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ ہمیں اپنے بارے میں ایک خوب صورت تصور پسند ہوتا ہے۔ ہم خود کو مخلص، سمجھ دار، مظلوم، حق پرست اور دوسروں سے بہتر دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر کبھی حقیقت اس تصور کے خلاف کھڑی ہو جائے تو ہم حقیقت بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، خود کو نہیں۔ انسان اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلائل تراشتا ہے، اپنی زیادتیوں کو مجبوری کا نام دیتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو حالات کی پیداوار قرار دے دیتا ہے۔
لیکن اپنی ذات کا احتساب کسی عدالت کی سزا نہیں بلکہ علاج کا پہلا مرحلہ ہے۔ اگر انسان یہ مان لے کہ ہاں، مجھ سے غلطی ہوئی، میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی، میں نے غصے میں غلط فیصلہ کیا، میں نے کسی کا حق مارا، میں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی یا میں نے اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا تو اس اعتراف سے اس کی عزت کم نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس یہی اعتراف اسے اندر سے مضبوط بناتا ہے۔ غلطی مان لینے والا شخص شکست خوردہ نہیں ہوتا، وہ اصلاح کے راستے پر پہلا قدم رکھ چکا ہوتا ہے۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کے کردار کا حساب بہت جلد شروع کر دیتے ہیں۔ فلاں جھوٹا ہے، فلاں خود غرض ہے، فلاں منافق ہے، فلاں بے حس ہے۔ ہم لوگوں کے عیب دیکھنے میں ایسی مہارت حاصل کر لیتے ہیں کہ اپنی شخصیت کا آئینہ دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ دوسروں کی خامیاں دیکھنا آسان ہے اور اپنی خامیوں کا سامنا کرنا تکلیف دہ۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے ہمیں ایک عجیب سا اخلاقی اطمینان ملتا ہے، جیسے دوسرے کے عیب کی نشاندہی کرتے ہی ہماری اپنی کمزوریاں ختم ہو گئی ہوں۔ حالانکہ انسان کی اصل آزمائش دوسروں کو درست ثابت کرنا نہیں بلکہ اپنے اندر موجود خرابی کو پہچاننا ہے۔
خود احتسابی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہر وقت اپنے آپ کو مجرم سمجھتا رہے۔ اپنے ساتھ سچ بولنے کا مطلب اپنی خوبیوں سے انکار کرنا بھی نہیں۔ انسان میں کمزوریاں ہیں تو صلاحیتیں بھی ہیں، غلط فیصلے ہیں تو اچھے فیصلوں کی گنجائش بھی ہے۔ اپنی خامیوں کو پہچاننا ضروری ہے مگر اپنی خوبیوں کو نظر انداز کرنا بھی خود سے ناانصافی ہے۔ اصل توازن یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں کو چھپائے نہیں اور اپنی صلاحیتوں پر غرور بھی نہ کرے۔ جو خوبی موجود ہے اسے بہتر بنائے اور جو خامی موجود ہے اسے آہستہ آہستہ کم کرنے کی کوشش کرے۔
یہ عمل ایک دن میں مکمل نہیں ہوتا۔ انسان برسوں میں ایک خاص مزاج بناتا ہے، اس لیے اسے بدلنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ لیکن تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ایک چھوٹے سے اعتراف سے ہوتا ہے۔ کبھی صرف اتنا مان لینا کافی ہوتا ہے کہ میری سوچ غلط تھی۔ کبھی کسی سے معذرت کر لینا انسان کے اندر برسوں سے جمع بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔ کبھی یہ فیصلہ کافی ہوتا ہے کہ اگلی بار میں غصے میں وہ بات نہیں کہوں گا جو بعد میں پچھتاوے کا سبب بنتی ہے۔ اصلاح ہمیشہ بڑے اعلانات سے نہیں آتی۔۔۔ اکثر خاموش فیصلوں سے آتی ہے۔
اپنے ساتھ سچ بولنے کا سب سے بڑا فائدہ شاید یہ ہے کہ انسان دوسروں کی منظوری کا محتاج کم ہونے لگتا ہے۔ پھر اسے ہر وقت یہ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ وہ اچھا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے، کہاں کمزور ہے اور کہاں بہتر ہو سکتا ہے۔ ایسے انسان کے اندر ایک عجیب سا سکون پیدا ہوتا ہے کیونکہ اسے اپنی حقیقت چھپانے کے لیے مسلسل کہانیاں نہیں بنانا پڑتیں۔ جھوٹ یاد رکھنا پڑتا ہے، حقیقت کو یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ظاہری تاثر اکثر حقیقت سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اچھا دکھائی دینے کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں، مگر اچھا بننے کے لیے اتنی محنت نہیں کرتے۔ ہماری توجہ کردار سے زیادہ شہرت پر، اصلاح سے زیادہ نمائش پر اور حقیقت سے زیادہ تاثر پر مرکوز ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے انسان دوسروں کے سامنے اپنی شخصیت سنوارنے میں مصروف رہتا ہے مگر اپنے اندر کے اندھیروں کو دیکھنے سے گھبراتا ہے۔ حالانکہ زندگی کا اصل معیار یہ نہیں کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم تنہائی میں اپنے بارے میں کیا جانتے ہیں۔
اگر ہر شخص دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی عادت ڈال لے تو شاید بہت سے گھریلو جھگڑے، رشتوں کی تلخیاں، سماجی تنازعات اور اخلاقی شکایات خود بخود کم ہونے لگیں۔ معاشرہ آخر افراد ہی سے بنتا ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے کی خواہش تو کرتے ہیں جہاں سب سچ بولیں، انصاف کریں اور ذمہ داری نبھائیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اجتماعی تبدیلی کا پہلا میدان ہماری اپنی ذات ہے۔
شاید ہمیں روزانہ چند لمحے اپنے لیے نکالنے چاہییں اور خاموشی سے اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ آج میں نے کہاں درست کیا اور کہاں غلط۔ کس کا دل دکھایا، کس کے ساتھ ناانصافی کی، کہاں اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کیا اور کہاں اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیا۔ یہ سوال کسی دوسرے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے اپنے لیے ہیں۔ کیونکہ جس دن انسان اپنے اندر کے سچ سے نظریں ملانا سیکھ لیتا ہے، اسی دن بیرونی دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنی دنیا بدلنے کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
زندگی شاید کبھی مکمل طور پر بے عیب نہ ہو، مگر انسان دیانت داری کے ساتھ بہتر ضرور ہو سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اپنے کردار کی حفاظت کے لیے حقیقت کو قربان نہ کرے۔ اپنے آپ سے سچ بولنا بظاہر ایک معمولی عادت لگتی ہے، مگر یہی عادت انسان کو خود فریبی سے خود آگہی، بے سکونی سے اطمینان اور غلطی کے دفاع سے اصلاح کی طرف لے جا سکتی ہے۔ آخر میں رہ جاتا ہے تو صرف ایک آئینہ۔۔۔ اور فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم اس میں اپنا چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں یا اپنی بنائی ہوئی تصویر۔



