کالمزپیر مشتاق رضوی

نئے صوبے بیڈ گڈگورننس کا حل ؟……پیر مشتاق رضوی

میاں نواز شریف نے متعدد بار کہا کہ اگر جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کی عوام نیا صوبہ چاہتی ہے تو وہ اس کے خلاف نہیں ہیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے "نئے صوبوں” کے قیام کا مطالبہ وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے۔ کبھی جنوبی پنجاب، کبھی بہاولپور، کبھی ہزارہ اور کبھی کراچی صوبے کی بات ہوتی ہے۔نئے صوبوں کے حوالے سے بڑے سیاسی رہنماؤں کے بیانات میڈیا اور اسمبلی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کا موقف وقت کے ساتھ تھوڑا بہت بدلتا بھی رہا ہےپاکستان میں نئے صوبوں کے قیام پر مختلف ادوار میں مختلف رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور 1999ءسے 2008ء میں سب سے پہلے "انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے” بنانے کی بات سنجیدگی سے سامنے آئی۔ مشرف کا کہنا تھاکہ موجودہ بڑے صوبے ناقابلِ انتظام ہو چکے ہیں اور گورننس بہتر بنانے کے لیے چھوٹے صوبے ناگزیر ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ان کے دور میں "جنوبی پنجاب صوبہ” اور "ہزارہ صوبہ” کا تصور مقبول ہوا۔ 2006ءمیں انہوں نے "صوبوں کی از سرِ نو تشکیل” کے لیے ایک کمیشن بھی قائم کیا تھا تاہم اس کمیشن کی رپورٹ کبھی پبلک نہیں کی گئی۔مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کا موقف اصولی طور پر نئے صوبوں کے حق میں رہا ہے لیکن انہوں نے ہمیشہ "اتفاقِ رائے” کی شرط عائد کی ہے۔ میاں نواز شریف نے متعدد بار کہا کہ اگر جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کی عوام نیا صوبہ چاہتی ہے تو وہ اس کے خلاف نہیں ہیں ، بشرطیکہ تمام صوبے اور سیاسی جماعتیں اس پر متفق ہوں اور آئین کا دو تہائی اکثریت والا راستہ اختیار کیا جائے۔ 2018ء کے عام انتخابات کے منشور میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن نے "جنوبی پنجاب صوبہ” بنانے کا واضح وعدہ کیا تھا۔
ان کے چھوٹے بھائی اور موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نئے صوبوں کے معاملے میں زیادہ دو ٹوک موقف رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے انہوں نے دو مرتبہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ قائم کیا اور 2022ء سے 2024ء تک وزیراعظم رہنے کے دوران بھی متعدد بار کہا کہ وہ "جنوبی پنجاب صوبے کے لیے سنجیدہ ہیں”۔ تاہم عملی طور پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے آئینی ترمیم کا بل پیش نہیں کیا جا سکا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور موجودہ صدر آصف علی زرداری نے 2012ء میں کہا تھا کہ "انتظامی بنیادوں پر 3 سے 4 نئے صوبے بننے چاہییں”۔ زرداری صاحب نے واضح کیا کہ وہ لسانی بنیاد پر صوبے بنانے کے خلاف ہیں۔ ان کی حمایت "جنوبی پنجاب” اور "جنوبی خیبر پختونخوا” کے لیے رہی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے بہت بڑے ہو گئے ہیں اور اختیارات عوام کی دہلیز تک نہیں پہنچ رہے۔پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس مطالبے کو مزید آگے بڑھایا۔ 2018ء کے انتخابات سے قبل بہاولپور میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ "پیپلز پارٹی اقتدار میں آ کر بہاولپور صوبہ اور جنوبی پنجاب صوبہ دونوں بنائے گی”۔ بلاول کا کہنا ہے کہ وسیب کے لوگوں کو ان کا تاریخی اور آئینی حق ملنا چاہیے اور یہ پیپلز پارٹی کا انتخابی وعدہ ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے 2018ء کے منشور میں "جنوبی پنجاب اور جنوبی خیبر پختونخوا” کو صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ اور جنوبی کے پی کے سیکریٹریٹ قائم کیے اور 2021ء میں قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کا بل بھی پیش کیا گیا۔ تاہم پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باعث وہ بل منظور نہ ہو سکا۔ عمران خان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ نئے صوبے گورننس کی بہتری اور عوامی سہولیات کی فوری فراہمی کے لیے ضروری ہیں۔
اگر ان تمام رہنماؤں کے موقف کا خلاصہ کیا جائے تو ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ 2018ء سے 2023ءتک پارلیمنٹ کی تینوں بڑی جماعتوں پی ایم ایل این، پی پی پی اور پی ٹی آئی نے اصولی طور پر نئے صوبوں کی حمایت کی ہے۔ جنرل مشرف اور زرداری انتظامی بنیادوں پر صوبے چاہتے تھے جبکہ نواز شریف، شہباز شریف، بلاول اور عمران خان کا فوکس بنیادی طور پر جنوبی پنجاب پر رہا ہے۔ بلاول زرداری نے اس میں بہاولپور کا اضافہ کیا اور پی ٹی آئی نے جنوبی کے پی کے کا مطالبہ کیا۔ تاہم تمام رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ نیا صوبہ آئینی طریقے سے اور اتفاقِ رائے سے بنایا جائے۔ اس کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونے کی بڑی وجہ آئین کا آرٹیکل 239 ہے جس کے تحت متاثرہ صوبے کی دو تہائی اسمبلی اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور یہ شرط آج تک کسی بھی تجویز کے لیے پوری نہیں ہو سکی۔حالیہ دنوں میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان نے کہ "انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے اور کوئی فرد یا سیاسی جماعت اسے نہیں روک سکتی” اس بحث کو ایک بار پھر گرم کر دیا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ملک کا موجودہ انتظامی نظام "ناکام” ہو چکا ہے اور گورننس بہتر بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹ ناگزیر ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ان یونٹوں کو صوبے کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے، مقصد عوام کو سہولیات کی فوری فراہمی ہونا چاہیے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا موجودہ انتظامی نظام ناکام ہو چکا ہے اور گورننس بہتر بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹ بنانا ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان یونٹوں کو صوبے کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے، اصل مقصد عوام تک سہولیات کی فوری رسائی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ "یہ بن کر رہیں گے” اور کوئی ایک فرد یا سیاسی جماعت عوام کی مرضی کے خلاف اس عمل کو نہیں روک سکتی۔ محسن نقوی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر اس سمیت تمام قومی مسائل کو حل کریں کیونکہ موجودہ نظام سے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا ردعمل دو حصوں میں سامنے آیا۔ مجموعی طور پر پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس وقت انتظامی یونٹوں پر مزید بحث کو آگے نہ بڑھایا جائے کیونکہ حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی ٹھوس تجویز یا آئینی مسودہ پیش نہیں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے کہا کہ آئینی اصلاحات ضروری ہیں لیکن ان پر جامع مشاورت کے بعد ہی فیصلہ ہونا چاہیے۔ پارٹی کےسیکرٹری جنرل نیر بخاری نے واضح کیا کہ نئے صوبے صرف آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے تحت ہی بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر سے کوئی انتظامی یونٹ نہیں بن سکتا بلکہ اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پھر پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ پیپلز پارٹی سندھ نے وفاقی وزراء کے بیانات کو صوبے کی آئینی حیثیت میں "غیر آئینی مداخلت” قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔سندھ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف بہت سخت ہے۔ سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کر کے صوبے کی تقسیم، حدود کی تبدیلی یا کسی بھی نئے انتظامی یونٹ کے قیام کی ہر تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ "سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا” اور کہا کہ صوبے محض انتظامی اکائیاں نہیں ہوتے بلکہ ان کی اپنی تاریخ، شناخت، ثقافت اور زبان ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے "کراچی صوبہ” بنانے کے مطالبے کو بھی "سیاسی مایوسی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔تاہم جنوبی پنجاب کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا موقف مختلف ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ اصولی طور پر”جنوبی پنجاب صوبے” کی حمایت کرتی ہے لیکن اس کے لیے بھی آئینی طریقہ کار اپنانا لازمی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ماضی میں بھی بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور پارٹی اب بھی اسے اپنے منشور کا حصہ قرار دیتی ہے۔دیگر سیاسی جماعتوں کا موقف بھی اس بحث میں اہم ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن طویل عرصے سے نئے صوبوں کی حامی رہی ہے اور شہباز شریف کے دور میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا۔ تاہم پارٹی کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس وقت حکومت کے پاس نئے صوبے بنانے کا کوئی فوری پلان موجود نہیں ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کھل کر حمایت کرتی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف اضافی انتظامی یونٹوں کے حق میں ہے لیکن اس کے ساتھ سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی عمل کو بھی ضروری سمجھتی ہے۔جبکہ محسن نقوی کے مطابق انتظامی اصلاحات کے ذریعے نئے یونٹ بنانا چاہتے ہیں اور اسے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کا موقف دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک طرف وہ جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتے ہیں لیکن صرف آئین کے مطابق، اور دوسری طرف وہ سندھ کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے سخت خلاف ہیں اور اسے غیر آئینی مداخلت سمجھتے ہیں۔ اس پورے معاملے کا حتمی حل آئین پاکستان کا آرٹیکل 239 ہی ہے۔ جب تک متاثرہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کی جاتی، کوئی بھی "دو ٹوک” اعلان عملی طور پر ممکن نہیں ہو سکتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے محسن نقوی کے بیان کو "آئینی حدود میں مداخلت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے صرف آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق ہی بن سکتے ہیں۔پیپلز پارثی کی مرکزی قیادت نے معاملہ اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو بھیج دیا ہے جبکہ سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کی ہر تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ پیپلز پارثی کا دو ٹوک موقف ہے کہ وہ جنوبی پنجاب صوبے کی اصولی حمایت کرتے ہیں لیکن سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پی ایم ایل-این طویل عرصے سے نئے صوبوں کی حامی رہی ہے اور شہباز شریف کے دور میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اپنے 2018ء کے منشور میں جنوبی پنجاب اور جنوبی کے پی کے صوبے کا وعدہ کیا تھا جبکہ ایم کیو ایم کراچی صوبے کی بات کرتی ہے۔ سابق صدر جنرل مشرف بھی "انتظامی بنیادوں پر” نئے صوبوں کے حامی تھے۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 239 نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار واضح کرتا ہے۔اس کے مطابق کسی نئے صوبے کے لیے سب سے پہلے متاثرہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کروانا لازمی ہے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے الگ الگ دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کا بل پاس کرنا ہوگا۔ اس کے بعد صدر کی توثیق سے ہی نیا صوبہ وجود میں آئے گا۔ اسلام آباد کے معاملے میں چونکہ یہ کسی صوبے کا حصہ نہیں اس لیے اسے صوبہ بنانے کے لیے صرف پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ لیکن عملی سیاست میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی دو تہائی اکثریت اور متاثرہ صوبے کی رضامندی ہے جس کی وجہ سے آج تک کوئی نیا صوبہ نہیں بن سکا۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بنانا ہی مسائل کا حل ہے؟ معروف تجزیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے کہ”بیڈ گورننس صوبوں کی کمی سے نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ کی خرابی سے ہے”۔ یہ بات حقائق سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ ہم آج بھی 1860ء کے تعزیرات پاکستان، 1861 کے پولیس ایکٹ اور 1908ء کے سول پروسیجر جیسے انگریز دور کے قوانین پر چل رہے ہیں۔ یہ قوانین 4 صوبوں کی 50 سالہ قانون سازی سے تبدیل نہیں ہوئےاس کامطلب واضح ہے کہ مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ قانون سازوں کی ترجیحات اور نظام کی نیت ہے۔اسی تناظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں کی بحث سے پہلے "گڈ گورننس ریفارمز” کا ایک جامع چارٹرنافذ کیا جائے۔راقم نے قبل ازیں اپنے کالم میں تجزیہ پیش کرتے ہوۓ کہا تھا کہ فی الحال نئے صوبے بنانے کی بجائے ہمیں آئین پاکستان پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے ممبران پارلیمنٹ کو ان کے آئینی کردار تک محدود کیا جائے۔ ترقیاتی فنڈز کا نظام ختم کیاجائے کیونکہ یہی کرپشن، اقربا پروری اور بیڈ گورننس کی جڑ ہے۔ جب ایم این اے اور ایم پی اے ٹھیکیدار بن جائیں گے تو اسمبلی میں بیٹھ کر قانون سازی کون کرے گا؟دوسرا اہم نکتہ عدلیہ کی مکمل آزادی اور خود مختاری ہے۔ انصاف کی فوری فراہمی کے بغیر کوئی ریاست ترقی نہیں کر سکتی۔ تیسرا تمام ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ مقنہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کا تصادم ختم کر کے باہمی احترام کی فضا پیدا کرنا ہوگی۔ چوتھا اور سب سے ضروری نکتہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کا مکمل خاتمہ ہے۔ جب تک منتخب حکومتوں کو پانچ سال پورے کرنے نہیں دیے جائیں گے، کوئی طویل المدتی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔جبکہ سب سے اہم اصلاح بلدیاتی نظام کی ہے۔ ملک بھر میں باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور اختیارات، فنڈز اور انتظامی امور گلی محلے کی سطح تک منتقل کیے جائیں۔ پانی، صفائی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کا حل اسلام آباد یا لاہور میں نہیں بلکہ یونین کونسل کی سطح پر ہے۔
نئے صوبے علامتی حل ہو سکتے ہیں لیکن اصل علاج نظام کی اصلاح ہے۔ اگر آئین پر عمل ہو، ادارے اپنی حدود میں رہیں، پارلیمنٹ قانون سازی کرے اور بلدیات بااختیار ہوں تو 4 صوبے بھی بہترین گورننس دے سکتے ہیں۔ اور اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو 8 یا 20 صوبے بنانے سے بھی فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان کو اب "صوبوں کی تعداد” نہیں بلکہ آئین کی مکمل عملداری کے تحٹ "گورننس کا معیار” بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button