
پاکستان سے 3 لاکھ سے زائد افغان شہری رواں سال وطن واپس جا چکے، یو این ایچ سی آر
ابتدائی سات ماہ میں 3 لاکھ 7 ہزار 500 افغانوں کی واپسی ریکارڈ، 1 لاکھ 87 ہزار 547 افراد سہولت کردہ جبکہ 1 لاکھ 19 ہزار 953 افغان اچانک واپس گئے؛
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے ابتدائی سات ماہ کے دوران 3 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان سے افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان افغان شہریوں کی وطن واپسی کے لیے جاری مہم کو مرحلہ وار آگے بڑھا رہا ہے۔
یو این ایچ سی آر کے 31 جولائی تک کے آبادی کے جائزے کے مطابق رواں سال اب تک پاکستان سے 1 لاکھ 87 ہزار 547 افغان شہریوں کی سہولت کردہ واپسی جبکہ 1 لاکھ 19 ہزار 953 افراد کی اچانک واپسی ریکارڈ کی گئی۔ یوں مجموعی طور پر افغانستان واپس جانے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ 7 ہزار 500 تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے صرف پہلے سات ماہ میں واپس جانے والے افغان شہریوں کی تعداد گزشتہ سال کے پورے عرصے میں ریکارڈ کی گئی مجموعی واپسی کے قریب پہنچ چکی ہے، جس سے پاکستان سے افغانستان جانے والے افراد کی واپسی کی رفتار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں افغانوں کی طویل میزبانی
پاکستان نے افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ اور عدم استحکام کے دوران بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو پناہ فراہم کی ہے۔ خصوصاً 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد لاکھوں افغان پاکستان منتقل ہوئے اور مختلف ادوار میں یہاں مقیم رہے۔
2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان پہنچی، جبکہ پہلے سے موجود افغان آبادی بھی ملک میں مقیم رہی۔
دہائیوں پر محیط اس میزبانی کے نتیجے میں افغان آبادی پاکستان کے مختلف شہروں، اضلاع اور صوبوں میں معاشرتی اور اقتصادی زندگی کا حصہ بن گئی۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو پاکستان میں کئی نسلوں سے رہ رہے ہیں۔
2023 میں وطن واپسی کی ملک گیر مہم کا آغاز
پاکستان نے 2023 کے آخر میں غیر ملکی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے ملک گیر مہم شروع کی تھی۔ ابتدائی طور پر توجہ ان افغان شہریوں پر مرکوز تھی جن کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے مطلوبہ قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
بعد ازاں حکومت نے اس پالیسی کا دائرہ ان افغان شہریوں تک بھی بڑھایا جن کے پاس افغان سٹیزن کارڈز (ACC) موجود تھے اور جو ماضی میں پاکستانی حکام کے ذریعے رجسٹرڈ کیے گئے تھے۔
یوں وطن واپسی کا عمل صرف غیر دستاویزی افغان شہریوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف قانونی اور دستاویزی حیثیت رکھنے والے افغان شہری بھی اس پالیسی کے دائرے میں آتے گئے۔
پاکستان میں افغان آبادی کے مختلف قانونی زمرے
یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں موجود افغان آبادی مختلف قانونی اور دستاویزی زمروں میں تقسیم ہے۔
ان میں ایک اہم گروپ ان افغان شہریوں کا ہے جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈز ہیں۔ یہ دستاویز پاکستانی حکومت کی جانب سے بطور مہاجر رجسٹرڈ افغان شہریوں کو فراہم کی گئی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس زمرے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد تقریباً 7 لاکھ 39 ہزار ہے۔
ایک دوسرے گروپ میں وہ افغان شہری شامل ہیں جن کے پاس افغان سٹیزن کارڈ (ACC) موجود ہیں۔ یہ دستاویز ان افغان شہریوں کو فراہم کی گئی تھی جو پاکستان میں موجود تھے لیکن باضابطہ طور پر بطور مہاجر رجسٹرڈ نہیں تھے۔
پاکستان میں اب بھی تقریباً 16 لاکھ افغان موجود
یو این ایچ سی آر کے تازہ ترین جائزے کے مطابق پاکستان میں باقی رہ جانے والے افغان مہاجرین اور دیگر افغان شہریوں کی مجموعی تعداد تقریباً 16 لاکھ ہے۔
ان میں تقریباً:
- 7 لاکھ 76 ہزار رجسٹرڈ افغان مہاجرین
- 6 لاکھ 66 ہزار افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد
- 1 لاکھ 59 ہزار غیر دستاویزی افغان شہری
شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر واپسی کے باوجود پاکستان میں افغان آبادی اب بھی نمایاں تعداد میں موجود ہے اور آئندہ بھی وطن واپسی کا عمل ایک اہم انسانی، انتظامی اور سفارتی معاملہ بنا رہے گا۔
سب سے پہلے غیر دستاویزی افغانوں کی واپسی
پاکستانی حکومت نے وطن واپسی کے عمل کا آغاز بنیادی طور پر غیر دستاویزی افغان شہریوں سے کیا تھا۔ اس مرحلے کے دوران بڑی تعداد میں افغان خاندان سرحد عبور کرکے افغانستان واپس گئے۔
بعد میں افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد کو بھی واپسی کے عمل میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں افغانستان جانے والے افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔
حکومت پاکستان کا مؤقف ہے کہ طویل عرصے تک بڑی تعداد میں افغان شہریوں کی میزبانی کے باعث ملک کو سکیورٹی، معیشت، روزگار، عوامی خدمات اور دیگر شعبوں میں دباؤ کا سامنا رہا ہے، اس لیے وطن واپسی کی پالیسی ریاستی ضروریات کے تحت جاری رکھی جا رہی ہے۔
خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد متاثر
یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار افغان آبادی کے انسانی پہلو کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ پاکستان میں رجسٹرڈ مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد میں 77 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 48 فیصد افراد کی عمریں 5 سے 17 سال کے درمیان ہیں، جبکہ تقریباً 8 فیصد افراد کو مخصوص ضروریات رکھنے والے افراد کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔
اس صورتحال کے باعث افغان شہریوں کی واپسی صرف سرحد عبور کرنے کا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، رہائش، روزگار اور بچوں کے مستقبل سمیت متعدد انسانی پہلوؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
خیبر پختونخوا میں افغان آبادی کا سب سے بڑا ارتکاز
پاکستان میں افغان مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کی سب سے بڑی تعداد خیبر پختونخوا میں موجود ہے۔
یو این ایچ سی آر کے ریکارڈ کے مطابق خیبر پختونخوا میں تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار 964 رجسٹرڈ مہاجرین اور پناہ کے متلاشی موجود ہیں۔
افغانستان کے ساتھ طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان میں بھی افغان آبادی کی بڑی تعداد موجود ہے جہاں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار 239 افراد کی میزبانی کی جا رہی ہے۔
سرحدی جغرافیہ، تاریخی روابط اور کئی دہائیوں سے جاری آمد و رفت کے باعث دونوں صوبے افغانستان سے متعلق انسانی اور مہاجرین کے معاملات میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
زیادہ تر رجسٹرڈ افغان شہری کیمپوں سے باہر رہتے ہیں
یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کی بڑی اکثریت مخصوص مہاجر کیمپوں تک محدود نہیں۔
تقریباً تین چوتھائی رجسٹرڈ مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد مہاجر بستیوں یا کیمپوں سے باہر رہائش پذیر ہیں۔
یہ افغان آبادی پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں مختلف معاشی سرگرمیوں، کاروبار، مزدوری، تعلیم اور دیگر شعبوں سے منسلک رہی ہے۔ طویل عرصے تک قیام کے باعث کئی افغان خاندان مقامی معاشرے کے ساتھ بھی گہرے روابط قائم کر چکے ہیں۔
افغانستان میں واپسی کے بعد مشکلات کا خدشہ
افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کے ساتھ سب سے اہم سوال افغانستان میں ان افراد کی دوبارہ آبادکاری اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کا ہے۔
افغانستان پہلے ہی غربت، محدود روزگار، رہائش کے مسائل اور بنیادی سہولیات پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور ایران سے واپس آنے والے افغان شہریوں کی بڑی تعداد کے لیے مناسب رہائش، روزگار، خوراک، صحت اور تعلیم کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
انسانی امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ اگر واپسی کا عمل تیز رفتاری سے جاری رہا تو افغانستان کے موجودہ وسائل پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحفظات
افغان شہریوں کی واپسی کے عمل پر افغان حکام، اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی متعدد مواقع پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان اداروں کی توجہ خاص طور پر واپسی کے حجم، رفتار اور افغانستان پہنچنے والے افراد کے حالات پر مرکوز رہی ہے۔ خواتین، بچوں، بزرگوں اور مخصوص ضروریات رکھنے والے افراد کے حوالے سے انسانی تحفظات بھی اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ وطن واپسی کا عمل ملکی سلامتی اور اقتصادی ضروریات کے تناظر میں کیا جا رہا ہے اور طویل عرصے سے جاری افغان مہاجرین کی میزبانی نے پاکستان کے وسائل پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔
2026 میں واپسی کی رفتار میں تیزی
یو این ایچ سی آر کے جولائی تک کے اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ 2026 کے صرف پہلے سات ماہ میں 3 لاکھ 7 ہزار 500 افغان شہری پاکستان سے واپس جا چکے ہیں۔
ان میں تقریباً 61 فیصد افراد سہولت کردہ واپسی کے ذریعے جبکہ تقریباً 39 فیصد افراد اچانک یا غیر سہولت کردہ طریقے سے افغانستان واپس گئے۔
یہ تعداد اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان سے افغانستان واپسی کا عمل رواں سال بھی بڑے پیمانے پر جاری رہا ہے اور سال کے باقی مہینوں میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان موجود ہے۔
گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی واپسی
یو این ایچ سی آر کے مطابق 2026 کے ابتدائی سات ماہ میں ہونے والی واپسی گزشتہ سال کے پورے عرصے میں ریکارڈ کی گئی مجموعی واپسی کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان شہریوں کی وطن واپسی پاکستان، افغانستان اور عالمی انسانی اداروں کے لیے آنے والے مہینوں میں بھی ایک اہم مسئلہ رہے گی۔
پاکستان کی جانب سے دستاویزی حیثیت رکھنے والے مختلف افغان گروہوں کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلیاں بھی اس عمل کی رفتار پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے لیے بڑا چیلنج
افغان شہریوں کی واپسی ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس میں پاکستان کی داخلی سلامتی اور انتظامی ترجیحات، افغانستان کی معاشی و انسانی صورتحال اور بین الاقوامی اداروں کے تحفظات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے لیے ایک طرف اپنی سرحدوں، سکیورٹی اور محدود وسائل کا انتظام اہم ہے تو دوسری جانب افغانستان واپس جانے والے خاندانوں کے انسانی تحفظ اور بنیادی ضروریات بھی عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔
افغانستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ واپس آنے والے لاکھوں افراد کو معاشرے اور معیشت میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے مناسب روزگار، رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
مستقبل میں مزید واپسی کا امکان
موجودہ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ پاکستان سے افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ملک میں اب بھی تقریباً 16 لاکھ افغان شہری مختلف قانونی اور دستاویزی حیثیتوں کے ساتھ موجود ہیں۔
اس لیے آنے والے عرصے میں پاکستان کی پالیسی، افغان حکام کے ساتھ رابطہ، اقوام متحدہ اور انسانی امدادی اداروں کا کردار اور افغانستان کی اپنے شہریوں کو دوبارہ آباد کرنے کی صلاحیت اس معاملے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یو این ایچ سی آر کے جولائی تک کے اعداد و شمار نے ایک جانب پاکستان میں کئی دہائیوں سے موجود افغان آبادی کا حجم واضح کیا ہے تو دوسری جانب یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ 2026 میں وطن واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اب اصل توجہ اس بات پر مرکوز رہے گی کہ واپس جانے والے لاکھوں افغان شہری افغانستان میں کس حد تک محفوظ، باعزت اور پائیدار انداز میں دوبارہ آباد ہو پاتے ہیں، جبکہ پاکستان اپنی سکیورٹی اور اقتصادی ترجیحات کے تحت اس پالیسی کو کس رفتار سے آگے بڑھاتا ہے۔



