انٹرٹینمینٹتازہ ترین

وینس فلم فیسٹیول: خواتین فلم سازوں کو اب بھی صنفی عدم مساوات کا سامنا، می التوخی

ڈنمارک اور مصر سے تعلق رکھنے والی ہدایت کارہ نے فلمی صنعت میں خواتین کی کم نمائندگی پر تشویش کا اظہار کردیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

وینس: ڈنمارک اور مصر سے تعلق رکھنے والی معروف فلم ساز می التوخی نے عالمی فلمی صنعت میں خواتین کو درپیش صنفی عدم مساوات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم سازی کے شعبے میں خواتین کے لیے مواقع کی کمی محض انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی اور ساختیاتی مسئلہ ہے، جس کا سامنا انہیں اپنے پورے کیریئر کے دوران بارہا کرنا پڑا ہے۔

می التوخی نے یہ گفتگو وینس فلم فیسٹیول میں اپنی نئی فلم کے پریمیئر سے قبل صحافیوں سے بات چیت کے دوران کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلمی دنیا میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے اگرچہ گزشتہ برسوں میں شعور میں اضافہ ہوا ہے، تاہم عملی سطح پر صنفی عدم توازن ایک مرتبہ پھر واپس آتا محسوس ہو رہا ہے۔

گولڈن لائن مقابلے میں خواتین کی انتہائی کم نمائندگی

می التوخی اس سال وینس فلم فیسٹیول کے گولڈن لائن کے لیے مقابلہ کرنے والی 21 فلموں کے ہدایت کاروں میں واحد خاتون ہیں جو ایک فکشن فلم کی ہدایت کاری کر رہی ہیں۔

اس مقابلے میں شامل ایک اور فلم کی شریک ہدایت کار بھی خاتون ہیں، تاہم وہ ایک دستاویزی فلم کی شریک ہدایت کاری کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے دنیا کے اہم ترین فلمی میلوں میں سے ایک کے مرکزی مقابلے میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

فلمی صنعت میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ہونے والی عالمی بحث کے تناظر میں وینس فلم فیسٹیول کی اس صورتحال کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ بڑے بین الاقوامی فلمی میلوں میں شرکت اور ایوارڈ مقابلوں میں جگہ حاصل کرنا فلم سازوں کے مستقبل کے کیریئر پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

’’پہلی فلم بنانا غیرمعمولی طور پر مشکل تھا‘‘

می التوخی نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فلم اسکول سے گریجویشن کرنے کے بعد اپنی پہلی فلم بنانے کے مرحلے میں انہیں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق پہلی فلم مکمل کرنے میں انہیں چھ یا سات سال لگ گئے، جبکہ ان کے مرد ساتھی فلم ساز ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اپنے کیریئر میں آگے بڑھ رہے تھے۔

ہدایت کارہ کا کہنا تھا کہ یہ فرق صرف ان کی ذاتی صلاحیتوں یا مواقع کا معاملہ نہیں تھا بلکہ فلمی صنعت کے اندر موجود ساختیاتی رکاوٹوں کی عکاسی کرتا ہے، جو خواتین فلم سازوں کے لیے اپنے منصوبوں کو عملی شکل دینا مشکل بنا دیتی ہیں۔

ان کے اس تجربے نے فلمی صنعت میں خواتین کے لیے مساوی مواقع، سرمایہ کاری، پروڈکشن سپورٹ اور فیصلہ سازی میں نمائندگی کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔

#MeToo تحریک کے بعد امید، مگر عدم توازن پھر نمایاں

می التوخی نے #MeToo تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کے بعد فلمی صنعت سمیت معاشرے کے مختلف شعبوں میں صنفی عدم مساوات اور خواتین کو درپیش مسائل کے بارے میں شعور میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

ان کے مطابق اس عرصے میں لوگوں نے صنفی عدم توازن کو زیادہ سنجیدگی سے سمجھنا شروع کیا اور خواتین کے ساتھ کام کی جگہوں پر ہونے والے امتیازی سلوک اور دیگر مسائل پر کھل کر گفتگو ہوئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ حالات ایک مرتبہ پھر ماضی کی جانب واپس جا رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فلمی صنعت میں خواتین کی مساوی نمائندگی کے لیے مسلسل کوششیں نہ کی گئیں تو ماضی میں حاصل ہونے والی پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔

’’ہمیں اس معاملے میں بہتر ہونا ہوگا‘‘

می التوخی کے مطابق #MeToo کے بعد صنفی عدم توازن کے حوالے سے پیدا ہونے والی آگاہی ایک اہم قدم تھی، لیکن صرف آگاہی کافی نہیں۔

ان کے بقول گزشتہ چند برسوں کے دوران صورتحال میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جن سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ فلمی صنعت ایک بار پھر ان حالات کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں خواتین کو مساوی مواقع حاصل نہیں تھے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فلمی صنعت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ خواتین ہدایت کاروں، مصنفین، پروڈیوسرز اور دیگر شعبوں سے وابستہ خواتین کو مردوں کے برابر مواقع میسر آ سکیں۔

’’وومن اَن نون‘‘ کی کہانی کیا ہے؟

می التوخی کی نئی فلم ’’وومن اَن نون‘‘ (Woman Unknown) دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دور کے ڈنمارک کی کہانی بیان کرتی ہے۔

فلم میں ایک ڈینش گھریلو ملازمہ کی زندگی کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے جو اپنے دولت مند مالک سے شادی کرنے کی تیاری کر رہی ہوتی ہے۔ تاہم اس کے ماضی سے جڑا ایک راز اس کے مستقبل کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

اس خاتون کا ماضی ایک جرمن فوجی کے ساتھ تعلق سے وابستہ ہوتا ہے، اور یہی تعلق اس کی زندگی کو ایک ایسے موڑ پر لے آتا ہے جہاں اسے سماجی رویوں، بدنامی اور ماضی کے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جنگ کے بعد خواتین کو سماجی تذلیل کا سامنا

فلم کی کہانی ایسے وقت میں ترتیب دی گئی ہے جب ڈنمارک حال ہی میں جرمن قبضے سے آزاد ہوا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن افواج کے ساتھ تعلقات رکھنے والی خواتین کو جنگ کے بعد کئی مقامات پر شدید سماجی دباؤ اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی خواتین کو عوامی سطح پر شرمندہ اور ذلیل کیے جانے کے واقعات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔

می التوخی نے اسی تاریخی پس منظر کو اپنی فلم میں ایک خاتون کے تجربے کے ذریعے پیش کیا ہے۔

فلم صرف ایک عورت کی ذاتی زندگی اور اس کے ماضی کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کا جائزہ بھی لیتی ہے کہ جنگ، طاقت، سماجی اقدار اور صنفی تعصبات کس طرح خواتین کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

فلم کے موضوعات اور خواتین کی نمائندگی

می التوخی نے اپنی فلم کے مرکزی موضوعات کو فلمی صنعت میں خواتین کی نمائندگی کے مسئلے سے بھی جوڑا ہے۔

ان کے مطابق ’’وومن اَن نون‘‘ بنیادی طور پر خواتین کے نظر نہ آنے، ان کی آواز کے دب جانے اور انہیں معاشرے میں ایک مکمل انسان کے بجائے ایک شے کے طور پر دیکھنے کے مسئلے کو بھی بیان کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف خواتین کو محض ایک شے سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف انہیں نظر انداز بھی کیا جاتا ہے اور بعض حالات میں ان کی آواز بھی چھین لی جاتی ہے۔

یہی پہلو ان کی فلم کو صرف تاریخی ڈراما نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے موجودہ دور میں خواتین کی سماجی حیثیت اور نمائندگی سے متعلق وسیع تر بحث سے بھی جوڑ دیتا ہے۔

تاریخی کہانی میں موجودہ دور کا سوال

می التوخی کی فلم میں اگرچہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے ڈنمارک کو دکھایا گیا ہے، لیکن اس کے بنیادی موضوعات موجودہ دور کے معاشرتی مسائل سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

خواتین کو سماجی فیصلوں، کردار کے بارے میں قائم تصورات، طاقت کے غیر مساوی ڈھانچوں اور اپنی آواز منوانے کے لیے جدوجہد کا سامنا آج بھی مختلف معاشروں میں کرنا پڑتا ہے۔

ہدایت کارہ نے اسی لیے اپنی فلم کے تاریخی پس منظر کو موجودہ دور کی صنفی بحث کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

وینس میں توجہ ملنے پر اظہارِ تشکر

می التوخی نے وینس فلم فیسٹیول میں اپنی فلم اور اپنی بطور خاتون ہدایت کار موجودگی کو ملنے والی توجہ پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس کامیابی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں دیکھنا چاہتیں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں بڑے فلمی مقابلوں میں مزید خواتین فلم سازوں کو بھی جگہ ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہیں گی کہ گولڈن لائن کے مقابلے میں ان کے ساتھ مزید خواتین ساتھی فلم ساز بھی موجود ہوں۔

عالمی فلمی صنعت میں نمائندگی کا سوال

وینس فلم فیسٹیول میں خواتین ہدایت کاروں کی محدود نمائندگی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ عالمی فلمی صنعت میں صنفی مساوات کے لیے کیے جانے والے اقدامات کس حد تک مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔

فلمی صنعت کے مختلف شعبوں میں خواتین کی تعداد میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، لیکن بڑے بجٹ کی فلموں، اہم بین الاقوامی مقابلوں اور فیصلہ سازی کے اعلیٰ درجوں میں خواتین کی نمائندگی اب بھی بحث کا موضوع ہے۔

می التوخی کے تجربات اس وسیع تر مسئلے کی ایک مثال ہیں، جہاں ایک باصلاحیت خاتون فلم ساز کو اپنی پہلی فلم مکمل کرنے کے لیے اپنے مرد ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ طویل عرصہ انتظار کرنا پڑا۔

خواتین فلم سازوں کے لیے مساوی مواقع کی ضرورت

می التوخی کی گفتگو کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ فلمی صنعت میں خواتین کی نمائندگی محض تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں بلکہ مواقع، وسائل اور تخلیقی آزادی میں مساوات کا مسئلہ بھی ہے۔

خواتین فلم سازوں کو اگر پروڈکشن، سرمایہ کاری، تقسیم اور عالمی فلمی میلوں میں مساوی مواقع میسر ہوں تو ان کی کہانیوں اور تجربات کو بھی وسیع عالمی ناظرین تک پہنچنے کا موقع مل سکتا ہے۔

ان کی فلم ’’وومن اَن نون‘‘ بھی اسی بحث کا حصہ بنتی ہے، کیونکہ اس میں ایک تاریخی دور کی عورت کی زندگی کے ذریعے خواتین کے نظر انداز کیے جانے، ان کی شناخت اور ان کی آواز جیسے موضوعات کو سامنے لایا گیا ہے۔

وینس فلم فیسٹیول میں بحث مزید تیز

می التوخی کے بیان کے بعد وینس فلم فیسٹیول میں خواتین فلم سازوں کی نمائندگی کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ #MeToo کے بعد صنفی عدم مساوات کے خلاف پیدا ہونے والی آگاہی کو مستقل عملی تبدیلی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ حاصل ہونے والی پیش رفت دوبارہ کمزور پڑ سکتی ہے۔

می التوخی کی شرکت اور ’’وومن اَن نون‘‘ کا گولڈن لائن مقابلے میں شامل ہونا جہاں ان کے لیے ایک اہم پیشہ ورانہ کامیابی ہے، وہیں ان کی جانب سے خواتین فلم سازوں کی کم نمائندگی پر اٹھائے گئے سوالات عالمی فلمی صنعت کے لیے ایک اہم یاد دہانی بھی ہیں کہ تخلیقی دنیا میں حقیقی مساوات کے لیے صرف شعور نہیں بلکہ مستقل اور عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button