
دبئی: پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے بھارت کے ہاتھوں بھاری شکست کے بعد شاندار کم بیک کرتے ہوئے ہانگ کانگ کو 72 رنز سے شکست دے کر اے سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2026 کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے گروپ اے کے آخری میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 143 رنز بنائے، جواب میں ہانگ کانگ کی پوری ٹیم 19 اوورز میں صرف 71 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
پاکستان کی کامیابی میں سب سے نمایاں کردار بائیں ہاتھ کی اسپنر نشرا سندھو نے ادا کیا، جنہوں نے تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے صرف 7 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ پاکستان ویمنز کرکٹ کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بہترین باؤلنگ کا نیا ریکارڈ بھی بن گیا۔ نشرا سندھو کو ان کی شاندار کارکردگی پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
بھارت کے خلاف شکست کے بعد شاندار واپسی
پاکستان ویمنز ٹیم کے لیے ہانگ کانگ کے خلاف یہ کامیابی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے قبل گروپ اے کے میچ میں اسے روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں سات وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس میچ میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 55 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی، جو پاکستان ویمنز کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں انتہائی کم مجموعہ تھا۔
بھارت کے خلاف مایوس کن بیٹنگ کارکردگی کے بعد پاکستانی ٹیم پر سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے ہانگ کانگ کے خلاف کامیابی حاصل کرنا ضروری تھا۔ قومی ٹیم نے اس موقع پر دباؤ کا بھرپور مقابلہ کیا اور بیٹنگ کے بعد باؤلنگ میں غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے نہ صرف میچ جیتا بلکہ گروپ اے میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے آخری چار ٹیموں میں جگہ بھی بنالی۔
شوال ذوالفقار کی ذمہ دارانہ بیٹنگ
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ قومی ٹیم کا آغاز نسبتاً محتاط لیکن مثبت رہا، تاہم وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کے باعث پاکستان کو ایک بڑے اسکور کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اوپنر شوال ذوالفقار نے ایک مرتبہ پھر ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 35 گیندوں پر 47 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں سات چوکے شامل تھے۔ شوال نے مشکل حالات میں وکٹ پر قیام کیا اور رنز بنانے کے ساتھ ساتھ اسکور بورڈ کو بھی متحرک رکھا۔
عائشہ ظفر نے بھی 19 گیندوں پر 26 رنز کی مفید اننگز کھیلی، جبکہ کپتان فاطمہ ثنا نے 24 رنز بنا کر ٹیم کو 143 کے مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ فاطمہ ثنا نے اننگز کے اختتامی مرحلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کو ایک ایسے مجموعے تک پہنچایا جو بعد میں باؤلرز کے لیے دفاع کے قابل ثابت ہوا۔
پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 143 رنز بنائے۔ ہانگ کانگ کی جانب سے جویلین کور سب سے کامیاب باؤلر رہیں جنہوں نے چار وکٹیں حاصل کیں۔
ہانگ کانگ کی اننگز کا تباہ کن آغاز
144 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ہانگ کانگ کی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار ہوگئی۔ پاکستانی باؤلرز نے نئی گیند کے ساتھ انتہائی نپی تلی باؤلنگ کی اور ہانگ کانگ کے ابتدائی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
کپتان فاطمہ ثنا اور سعدیہ اقبال نے ابتدائی اوورز میں اہم وکٹیں حاصل کرکے ہانگ کانگ کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔ ہانگ کانگ کی جانب سے صرف کاری چان کچھ مزاحمت کرسکیں، جنہوں نے 30 رنز بنائے، تاہم انہیں بھی دیگر بلے بازوں کی جانب سے خاطر خواہ تعاون حاصل نہ ہوسکا۔
نشرا سندھو کی تاریخی باؤلنگ
میچ کا فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب نشرا سندھو نے گیند سنبھالی۔ بائیں ہاتھ کی اسپنر نے ہانگ کانگ کے مڈل اور لوئر آرڈر کو تہس نہس کرتے ہوئے وکٹوں کی لائن لگا دی۔
نشرا سندھو نے اپنے چار اوورز کے اسپیل میں صرف 7 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کے شکار میں یاسمین داسوانی، مرینا لیمپلاؤ، مریم بی بی، شازین شہزاد، ایلیسن سیو اور اقرا سحر شامل تھیں۔
ان کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث ہانگ کانگ کی اننگز 19 اوورز میں 71 رنز پر ختم ہوگئی اور پاکستان نے میچ 72 رنز سے جیت لیا۔
نشرا سندھو کی 6 وکٹوں کی کارکردگی پاکستان ویمنز کرکٹ میں تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ اوما ئمہ سہیل کے پاس تھا، جنہوں نے 2022 میں سری لنکا کے خلاف 13 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ نشرا نے اب اس ریکارڈ کو بہتر بناتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پہلی مرتبہ 6 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
پاکستان کی گروپ اے میں دوسری پوزیشن
ہانگ کانگ کے خلاف فتح پاکستان کی ٹورنامنٹ میں دوسری کامیابی تھی۔ قومی ٹیم نے گروپ مرحلے کا اختتام دو فتوحات اور ایک شکست کے ساتھ کیا اور چار پوائنٹس حاصل کرتے ہوئے گروپ اے میں دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ بھارت گروپ میں سرفہرست رہا۔
پاکستان نے گروپ مرحلے میں تھائی لینڈ کو شکست دی، بھارت کے خلاف ناکامی کا سامنا کیا اور پھر ہانگ کانگ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
سیمی فائنل میں سری لنکا سے مقابلہ
ہانگ کانگ کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستان ویمنز ٹیم اب سیمی فائنل میں سری لنکا کا سامنا کرے گی۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا سیمی فائنل 11 ستمبر 2026 کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ ٹورنامنٹ کا پہلا سیمی فائنل بھارت اور گروپ بی کی دوسری ٹیم کے درمیان 10 ستمبر کو ہوگا۔ فائنل 13 ستمبر کو دبئی میں شیڈول ہے۔
سری لنکا گروپ بی میں ناقابل شکست رہتے ہوئے سرفہرست مقام حاصل کرکے سیمی فائنل میں پہنچا ہے، اس لیے پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ ہانگ کانگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔
فاطمہ ثنا: سیمی فائنل سے قبل مزید بہتری کی ضرورت
پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے ہانگ کانگ کے خلاف فتح کے باوجود سیمی فائنل سے قبل ٹیم کی بیٹنگ میں مزید بہتری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو بیٹنگ کے دوران اسٹرائیک روٹیشن اور شراکت داری کے شعبے میں بہتری لانا ہوگی۔
فاطمہ ثنا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے خلاف اہم ناک آؤٹ میچ میں ٹیم کو ہر شعبے میں اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔
قومی ٹیم کے لیے فائنل تک پہنچنے کا اہم موقع
ہانگ کانگ کے خلاف فتح نے پاکستان ویمنز ٹیم کو نہ صرف سیمی فائنل میں پہنچایا بلکہ بھارت کے خلاف مایوس کن شکست کے بعد ٹیم کا اعتماد بھی بحال کیا ہے۔ اب قومی ٹیم کے سامنے سری لنکا کا مضبوط چیلنج موجود ہے۔
پاکستان کی بیٹنگ میں شوال ذوالفقار کی فارم، فاطمہ ثنا کی قیادت اور نشرا سندھو کی تاریخی باؤلنگ سیمی فائنل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اگر پاکستان بیٹنگ میں تسلسل پیدا کرنے اور باؤلنگ کی اس کارکردگی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو فائنل میں جگہ بنانے کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔
ہانگ کانگ کے خلاف 72 رنز کی شاندار فتح نے گرین شرٹس کو ایشیا کپ کے آخری چار میں پہنچا دیا ہے، جہاں اب ایک اور بڑے امتحان میں پاکستان کا مقابلہ سری لنکا سے ہوگا۔



