
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بزدلانہ کارروائی اور کھلی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر نوعیت کے خلاف ہے اور سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا نہ صرف انتہائی قابل مذمت اقدام ہے بلکہ اس سے خطے کے امن و استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے اور آبادی والے علاقوں پر حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی اصولی پالیسی پر قائم ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات کی مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پاکستان کا برادر اسلامی ملک اور دیرینہ دوست ہے، جس کے امن و استحکام کو پاکستان انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی سرزمین اور اس کے شہریوں کو کسی بھی قسم کے دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور مختلف مسلح گروہوں کی جانب سے حملوں کے نتیجے میں علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی متعدد مرتبہ مذمت کر چکا ہے اور سعودی قیادت و عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔ اسلام آباد نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت اور تشدد کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حملے
ذرائع کے مطابق منگل کے روز حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے چار شہروں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے جبکہ متعلقہ اداروں نے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔
سعودی عرب کی جانب سے اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ ایسے حملوں کے تناظر میں خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات بھی ایک اہم سکیورٹی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط برادرانہ تعلقات
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تاریخی، ثقافتی، دفاعی، اقتصادی اور عوامی سطح پر گہرے روابط موجود ہیں۔ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری بھی روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں عوامی روابط کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستانی قیادت مختلف مواقع پر سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے اہم ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف عالمی اور علاقائی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور اپنے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے کسی بھی خطرے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔
خطے میں امن کے لیے مذاکرات پر زور
پاکستان نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں پائیدار امن صرف مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسلام آباد کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ تمام فریقین کے مفاد میں ہے اور کسی بھی قسم کے حملے، میزائل یا ڈرون کارروائیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اسی وسیع تر پاکستانی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور سعودی عرب سمیت اپنے دوست اور برادر ممالک کی سلامتی و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون اور یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گا۔



