اہم خبریںبین الاقوامی

اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف ہجوم کے حملوں میں اضافے کی اطلاعات، مذہبی نعرے لگوانے اور تذلیل کے واقعات رپورٹ

رپورٹ کے مطابق چار واقعات کی ویڈیوز بنائی گئیں اور بعد ازاں انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ بعض کیسز میں یہی ویڈیو شواہد پولیس کارروائی اور گرفتاریوں کی بنیاد بنے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
خالد برقی-دہلی، بھارت

بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں گزشتہ تقریباً 18 ماہ کے دوران مسلمانوں کو ہندو ہجوم کی جانب سے مبینہ طور پر نشانہ بنانے، تشدد کرنے، مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کرنے اور سوشل میڈیا پر واقعات کی ویڈیوز پھیلانے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن پر انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 24 کروڑ آبادی رکھنے والی ریاست میں ایسے واقعات میں ایک مماثل طریقہ کار سامنے آتا ہے۔ مبینہ طور پر مسلم شہریوں کو عوامی مقامات پر روک کر ان سے مذہبی نعرے لگوائے جاتے ہیں، بعض کو تشدد یا تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض واقعات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق ایسے چھ واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے، جن میں کم از کم 23 مبینہ حملہ آوروں اور سات متاثرین کا ذکر سامنے آتا ہے۔ ان واقعات میں سے متعدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، جبکہ بعض معاملات میں پولیس نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ یعنی ایف آئی آر بھی درج کی۔

مذہبی نعرہ لگوانے کے واقعات

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیرِ بحث تمام چھ واقعات میں متاثرین کو مبینہ طور پر "جئے شری رام” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ نعرہ ہندو مذہبی روایت میں استعمال ہوتا ہے، تاہم بھارت میں ہندو قوم پرست سیاست کے تناظر میں بھی اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چار واقعات کی ویڈیوز بنائی گئیں اور بعد ازاں انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ بعض کیسز میں یہی ویڈیو شواہد پولیس کارروائی اور گرفتاریوں کی بنیاد بنے۔

یہ واقعات کسی ایک مقام تک محدود نہیں رہے بلکہ اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں سڑکوں، بازاروں، عوامی مقامات اور کھانے کی تقسیم کے مقامات پر بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے۔

آگرہ میں ٹیکسی ڈرائیور پر حملہ

رپورٹ میں نومبر 2025 میں آگرہ میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 57 سالہ ٹیکسی ڈرائیور رہیش خان کو مبینہ طور پر اس کی گاڑی سے باہر نکالا گیا۔

رپورٹ کے مطابق روہت ٹھاکر نامی شخص نے خان کو تھپڑ مارے، ان کی داڑھی کھینچی اور انہیں مذہبی نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق آگرہ پولیس نے دسمبر کے اوائل میں روہت ٹھاکر کو گرفتار کیا اور اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی۔

اس کیس میں ویڈیو کی موجودگی کو پولیس کارروائی میں اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔

بریلی میں مسلمان کارکن کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا

ایک اور واقعہ بریلی میں رپورٹ ہوا، جہاں دبئی سے واپس آنے والے ایک مسلمان تارک وطن کارکن کو مبینہ طور پر ہندو افراد کے ایک گروہ نے روک لیا۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے اس شخص پر نام نہاد "لو جہاد” میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور مبینہ طور پر رقم بھی وصول کی۔ اسے ہندو قوم پرستانہ نعرے لگانے پر مجبور کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کے سلسلے میں ریشبھ ٹھاکر نامی شخص کو اگلے روز گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق وہ پہلے ہی اتر پردیش کے گونڈا ایکٹ کے تحت ایک پابندی کا سامنا کر رہا تھا۔

متھرا میں نوجوان پر حملہ

رپورٹ میں متھرا کے ایک واقعے کا بھی ذکر ہے، جہاں 14 مئی 2025 کو ایک عوامی بازار میں پانچ افراد نے مبینہ طور پر ایک مسلمان نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس واقعے کو بھی مسلمانوں کے خلاف ہجوم کے مبینہ حملوں کے وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا گیا ہے، تاہم اس کیس میں پولیس کارروائی اور قانونی پیش رفت کی تفصیلات دیگر واقعات کے مقابلے میں محدود ہیں۔

علی گڑھ میں مسجد کے امام پر حملہ

علی گڑھ میں 20 ستمبر کو پیش آنے والے ایک واقعے میں مسجد کے امام محمد مستقیم پر مبینہ طور پر ایک ہجوم نے لکڑی کی لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق امام کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

تاہم اس کیس میں پولیس کے مؤقف اور واقعے کی نوعیت پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔ شہری حقوق سے متعلق ایک تنظیم کی دستاویزات کے مطابق پولیس نے بعد میں واقعے کو سڑک میں رکاوٹ کے ایک معمولی تنازعے کے طور پر پیش کیا اور اس کی فرقہ وارانہ نوعیت سے انکار کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں ویڈیو ثبوت بھی موجود نہیں تھا، جس کے باعث پولیس کارروائی کا انداز دیگر ایسے واقعات سے مختلف رہا جن میں ویڈیوز سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر گردش کرتی رہی تھیں۔

سلطان پور میں دو کزنز کو روکنے اور تشدد کا الزام

رواں سال 4 جون کو سلطان پور میں بھی ایک واقعہ رپورٹ ہوا، جہاں موٹرسائیکل پر سفر کرنے والے دو مسلمان کزنز کو مبینہ طور پر سات افراد نے روکا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق دونوں افراد کو مبینہ طور پر ایک قوم پرستانہ نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے 11 جون کو باقاعدہ ایف آئی آر درج کی، جس میں تین شناخت شدہ افراد پر غیر قانونی طور پر روکنے اور مجرمانہ دھمکی دینے سمیت الزامات عائد کیے گئے۔

سدھارتھ نگر میں کھانے کی تقسیم کے دوران واقعہ

سدھارتھ نگر میں 17 جون کو ایک اور واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک سیاسی کارکن پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ایک بزرگ مسلمان شخص کو کھانا فراہم کرنے سے پہلے مذہبی نعرہ لگانے کی شرط عائد کی۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہی۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق اس معاملے میں کوئی حتمی قانونی کارروائی سامنے نہیں آئی۔

ویڈیو شواہد اور پولیس کارروائی

رپورٹ میں ان واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک اہم نکتہ یہ سامنے لایا گیا ہے کہ جہاں حملوں کی ویڈیوز بنیں اور وہ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلیں، وہاں پولیس پر کارروائی کے لیے عوامی اور میڈیا دباؤ زیادہ رہا۔

دستیاب چھ کیسز میں سے پانچ میں پولیس شکایات یا ایف آئی آر درج ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ صرف تین معاملات میں گرفتاریوں کی اطلاع سامنے آئی۔ اس فرق کو انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش کا ایک اہم پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی واقعے کی ویڈیو منظرعام پر نہ آئے یا اسے میڈیا اور سوشل میڈیا پر وسیع توجہ حاصل نہ ہو تو متاثرین کے لیے قانونی انصاف کا حصول زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔

فرقہ وارانہ کشیدگی پر تشویش

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور مذہبی بنیادوں پر مبینہ امتیازی سلوک کے واقعات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے حلقے متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ اتر پردیش، جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی بھی موجود ہے، فرقہ وارانہ حساسیت کے اعتبار سے ایک اہم ریاست سمجھی جاتی ہے۔

مبصرین کے مطابق عوامی مقامات پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر شہریوں کو روکنا، تشدد کا نشانہ بنانا یا کسی مخصوص مذہبی نعرے کے لیے مجبور کرنا معاشرتی تقسیم اور خوف میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

دوسری جانب ایسے معاملات میں پولیس اور عدالتی اداروں کا کردار بھی انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے یکساں نفاذ سے متاثرین کے اعتماد کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کا کردار

ان واقعات میں سوشل میڈیا کا کردار بھی نمایاں رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض حملہ آوروں نے خود واقعات کی ویڈیوز بنائیں اور انہیں آن لائن پھیلایا، جس کے نتیجے میں یہ مواد بڑے پیمانے پر لوگوں تک پہنچا۔

ایک جانب ویڈیو شواہد نے بعض معاملات میں پولیس کو ملزمان تک پہنچنے میں مدد دی، جبکہ دوسری جانب ایسے مناظر کی تشہیر سے متاثرین کی تذلیل اور معاشرے میں مذہبی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

مجموعی صورتحال

اتر پردیش میں رپورٹ ہونے والے یہ واقعات ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس میں مذہبی شناخت، ہجوم کے تشدد، سوشل میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردعمل کے درمیان تعلق نمایاں ہوتا ہے۔

اگرچہ تمام واقعات میں قانونی کارروائی کی نوعیت یکساں نہیں اور بعض معاملات میں پولیس نے فرقہ وارانہ محرکات کی تردید بھی کی ہے، تاہم انسانی حقوق کے حلقوں کے نزدیک ضروری ہے کہ ہر شکایت کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

رپورٹ میں پیش کیے گئے واقعات کے مطابق ایف آئی آر کا اندراج اور گرفتاری کے درمیان فرق، ویڈیو شواہد کی اہمیت اور بعض واقعات کی مختلف انداز میں درجہ بندی اتر پردیش میں مذہبی بنیادوں پر تشدد سے نمٹنے کے طریقہ کار پر مزید سوالات اٹھاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ریاستی اداروں کی غیر جانبدارانہ کارروائی، متاثرین کو تحفظ اور قانون کی یکساں عمل داری ہی ایسے واقعات کے تدارک اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں کمی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button