
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی، سفری اور ٹرانسپورٹ روابط کو مزید وسعت دینے کی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ مارچ 2027 میں ماسکو سے اسلام آباد اور فیصل آباد کے لیے انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) کے تحت پہلی کھیپ روانہ کی جائے گی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ قائم کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات جاری ہیں۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روس کے شہر ولادی ووستوک میں منعقدہ ایسٹرن اکنامک فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان روس کے ساتھ نہ صرف تجارتی روابط بڑھانے بلکہ زمینی، ریلوے اور فضائی رابطوں کو بھی مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
مارچ 2027 میں پہلی کھیپ کی منصوبہ بندی
پاکستانی سفیر کے مطابق اسلام آباد مارچ 2027 میں ماسکو سے پاکستان کے دو اہم شہروں اسلام آباد اور فیصل آباد کے لیے نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کے ذریعے پہلی کھیپ بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ابتدائی مرحلے کے بعد اس روٹ کو مزید وسعت دینے کا ارادہ ہے، جس کے تحت مستقبل میں منسک، گوادر اور خطے کے دیگر اہم مراکز کو بھی اس نیٹ ورک سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کا حصہ ہے اور اس حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے ملک کو شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان تجارت اور نقل و حمل کا ایک اہم مرکز بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
INSTC کیا ہے؟
انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (INSTC) ایک کثیرالجہتی اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ہے، جس کا مقصد روس اور یورپ کو ایران، خلیج فارس اور جنوبی ایشیا سے بہتر انداز میں جوڑنا ہے۔
اس کوریڈور میں سمندری، ریلوے اور سڑک کے راستے شامل ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد روایتی تجارتی راستوں کے مقابلے میں سامان کی ترسیل کے وقت اور اخراجات کو کم کرنا اور مختلف ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو تیز بنانا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کوریڈور کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ملک کو وسطی ایشیا، روس، مشرقی یورپ، ایران اور خلیجی خطے کے ساتھ وسیع تر تجارتی رابطوں کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔
ایران کے راستے علاقائی صورتحال چیلنج
پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ کوریڈور کا ایک اہم حصہ ایران سے گزرتا ہے اور خطے کی موجودہ صورتحال اس منصوبے کے مکمل اور بلاتعطل آپریشن کے لیے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
فیصل نیاز ترمذی کے مطابق خلیج فارس کے علاقے میں غیر مستحکم صورتحال منصوبے کے عملی نفاذ پر اثر انداز ہورہی ہے، تاہم پاکستان کوریڈور کے ذریعے تجارت اور ٹرانسپورٹ روابط کو آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
روس اور پاکستان کے درمیان ریلوے رابطے میں پیش رفت
پاکستان اور روس کی ریلوے انتظامیہ بھی مجوزہ آزمائشی کھیپ کے لیے ضروری تیاری مکمل کرنے میں مصروف ہے۔
دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کی جانب سے روٹ کی تیاری اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ آزمائشی رن کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جائے گی کہ مختلف راستوں اور ذرائع نقل و حمل کو کس طرح مؤثر انداز میں ایک دوسرے سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔
ٹیسٹ رن کی کامیابی مستقبل میں باقاعدہ تجارتی کارگو سروس کے لیے بنیاد فراہم کرسکتی ہے اور روس سے پاکستان تک سامان کی منتقلی کو زیادہ منظم بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
منسک اور گوادر تک کوریڈور کی توسیع کا منصوبہ
پاکستانی سفیر نے مستقبل کے حوالے سے ایک وسیع تر وژن بھی پیش کیا، جس میں روس، بیلاروس اور پاکستان کے درمیان مسافروں اور کارگو کے لیے مضبوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک قائم کرنا شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس رابطے کو ماسکو، منسک، گوادر، کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور ملتان سمیت دیگر اہم شہروں اور علاقوں تک وسعت دی جاسکتی ہے۔
اگر یہ منصوبہ مرحلہ وار عملی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کو روس اور بیلاروس کے ساتھ براہِ راست تجارتی روابط کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا اور یورپ کے لیے بھی ایک اہم ٹرانزٹ راستہ بننے کے مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔
ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے کی کوشش
زمینی اور ریلوے روابط کے ساتھ پاکستان روس کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ قائم کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔
پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی سرکاری خبر رساں ادارے TASS سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام پاکستان سے ماسکو کے Domodedovo Airport تک براہِ راست پرواز شروع کرنے کے امکانات پر کام کررہے ہیں۔
اس مجوزہ سروس میں پاکستانی نجی ایئر لائن فلائی جناح کے شامل ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
براہِ راست پروازیں تجارت اور تعلیم کے لیے اہم قرار
پاکستانی سفیر نے براہِ راست فضائی رابطے کو پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ براہِ راست پروازوں سے صرف سفری سہولت ہی بہتر نہیں ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری، تجارتی، تعلیمی اور عوامی روابط میں بھی اضافہ ہوگا۔
ان کے مطابق اگر باقاعدہ فضائی رابطہ قائم ہوجاتا ہے تو پاکستان، روس، بیلاروس اور دیگر متعلقہ ممالک کے شہریوں کے لیے ایک دوسرے کے ملکوں تک رسائی آسان ہوگی، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور تعلیمی تبادلوں کو فروغ مل سکتا ہے۔
فلائی جناح کی موجودہ پروازوں سے متعلق صورتحال
مجوزہ ماسکو سروس کے حوالے سے فلائی جناح کے کال سینٹر سے رابطہ کیے جانے پر بتایا گیا کہ ایئر لائن 30 ستمبر سے اسلام آباد اور شارجہ کے درمیان پروازیں شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے، جبکہ یکم اکتوبر سے اس سروس کو ہفتے میں چھ پروازوں تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
کال سینٹر کے مطابق ماسکو جانے والے مسافروں کو شارجہ کے راستے سفری رابطہ فراہم کیا جاسکتا ہے، جہاں فلائی جناح کی پیرنٹ ایئر لائن ایئر عربیہ ماسکو کے لیے آگے کی پرواز چلاتی ہے۔
تاہم پاکستانی سفیر کے TASS کو دیے گئے بیان میں مستقبل میں پاکستان سے ماسکو کے Domodedovo Airport تک براہِ راست فلائی جناح پرواز کے لیے کام کرنے کا واضح ذکر کیا گیا ہے۔
اس طرح براہِ راست پرواز اور موجودہ کنیکٹنگ سروس دو الگ مراحل کے طور پر سامنے آتے ہیں، جبکہ براہِ راست فضائی رابطہ قائم ہونا پاکستان اور روس کے درمیان سفری تعلقات میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جارہا ہے۔
ایس سی او ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ روابط بڑھانے پر توجہ
پاکستانی سفیر نے بتایا کہ اسلام آباد شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ بھی ٹرانسپورٹ روابط بہتر بنانے کے لیے کام کررہا ہے۔
ان کے مطابق تجارت اور ٹرانسپورٹ پاکستان کے لیے انتہائی اہم معاملات ہیں اور ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان بہتر رابطہ خطے میں تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
اس تناظر میں پاکستان روس کے ساتھ روابط کو صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے وسیع تر علاقائی ٹرانسپورٹ اور تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
فروری میں بھی براہِ راست پروازوں پر بات چیت
پاکستان اور روس کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے کا معاملہ اس سے قبل بھی زیر بحث آچکا ہے۔
رواں سال فروری میں استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی وزارتی کانفرنس کے موقع پر پاکستانی اور روسی حکام کے درمیان ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست پرواز شروع کرنے پر بات چیت ہوئی تھی۔
اس موقع پر روس کے اسٹیٹ سیکریٹری اور نائب وزیر ٹرانسپورٹ دمتری اسٹینسلاووچ زیویر نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں ایرانی وزیر برائے سڑک اور انفراسٹرکچر فرزانہ صادق بھی موجود تھیں۔
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان براہِ راست زمینی اور فضائی روابط کو وسعت دینے سے علاقائی تجارت کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے معاشی اور تجارتی امکانات
نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور اور براہِ راست فضائی رابطے کے منصوبے پاکستان کے لیے وسیع تر معاشی امکانات پیدا کرسکتے ہیں۔
INSTC کے ذریعے پاکستان کو روس اور یورپی منڈیوں تک رسائی کے نئے راستے مل سکتے ہیں، جبکہ روسی مصنوعات اور خام مال کے لیے پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بھی آسان ہوسکتی ہے۔
اسی طرح گوادر بندرگاہ کو مستقبل میں اس وسیع تر ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے جوڑنے کی صورت میں پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کو علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کے لیے مزید مؤثر انداز میں استعمال کرسکتا ہے۔
روس کے ساتھ تعلقات میں معاشی پہلو نمایاں
پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران سیاسی اور سفارتی روابط کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعاون بھی زیادہ اہمیت اختیار کررہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ، توانائی، تجارت اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ INSTC کے ذریعے عملی کارگو آپریشن اور براہِ راست فضائی رابطہ ان کوششوں کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔
ایسٹرن اکنامک فورم میں اہم اعلانات
پاکستانی سفیر نے یہ تفصیلات روس کے شہر ولادی ووستوک میں منعقدہ ایسٹرن اکنامک فورم کے موقع پر بیان کیں۔ فورم یکم ستمبر سے 4 ستمبر تک فار ایسٹرن فیڈرل یونیورسٹی کے کیمپس میں منعقد ہوا، جس میں روس اور دیگر ممالک سے متعلق اقتصادی اور علاقائی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مارچ 2027 اہم سنگِ میل بن سکتا ہے
اگر مجوزہ منصوبہ طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو مارچ 2027 پاکستان اور روس کے درمیان زمینی و تجارتی رابطوں کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے۔
ماسکو سے اسلام آباد اور فیصل آباد کے لیے INSTC کے تحت پہلی کھیپ کی روانگی کے بعد اس روٹ کو منسک، گوادر اور دیگر علاقوں تک وسعت دینے کی کوششیں پاکستان کو ایک وسیع تر علاقائی تجارتی نیٹ ورک سے جوڑ سکتی ہیں۔
اسی کے ساتھ ماسکو اور پاکستان کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ قائم ہونے کی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری افراد، طلبہ، سرمایہ کاروں اور عام مسافروں کے لیے سفر آسان ہوگا۔
یوں پاکستان بیک وقت زمینی، ریلوے، سمندری اور فضائی روابط کو فروغ دے کر روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ مارچ 2027 میں متوقع پہلی INSTC کھیپ اس عمل میں ایک عملی اور اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے۔



