پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

کَیس لاہور میں یومِ فضائیہ کی تقریب، پاک فضائیہ کے ورثے، جنگی کارکردگی اور جدید صلاحیتوں پر تفصیلی گفتگو

کسی بھی فضائی قوت کی مضبوطی صرف جنگی طیاروں یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے، تربیت، قیادت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ثقافت سے تشکیل پاتی ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

لاہور: سنٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (کَیس) لاہور کے زیرِ اہتمام 7 ستمبر 2026 کو یومِ فضائیہ کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان “پاک فضائیہ کا ورثہ: 1965 کے جذبے سے معرکۂ حق تک” تھا۔

تقریب کا مقصد پاک فضائیہ کی تاریخ، اس کے جنگی ورثے، ادارہ جاتی ارتقا، پیشہ ورانہ روایات اور جدید دور کی بدلتی ہوئی جنگی ضروریات کے تناظر میں اس کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا تھا۔ تقریب میں پاک فضائیہ کے جنگی تجربہ رکھنے والے سابق افسران، حاضر سروس اور ریٹائرڈ حکام، جنگی ہیروز، اہلِ دانش اور سکیورٹی و دفاعی امور کے ماہرین نے شرکت کی۔

کَیس لاہور ایک آزاد تھنک ٹینک کے طور پر قومی سلامتی، ایرو اسپیس، دفاع اور اس سے متعلق وسیع تر معاملات پر علمی و تحقیقی نشستوں کا اہتمام کرتا ہے، اور یومِ فضائیہ کے موقع پر منعقدہ یہ تقریب بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھی۔

تقریب کا آغاز

تقریب کے افتتاحی کلمات محترمہ اِزبأ ولایت خان، ریسرچ اسسٹنٹ کَیس لاہور نے ادا کیے۔ انہوں نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور یومِ فضائیہ کی تاریخی اہمیت اور پاک فضائیہ کے قومی دفاع میں کردار کو اجاگر کیا۔

تقریب کے دوران مقررین نے پاک فضائیہ کے تاریخی سفر کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتے ہوئے اس امر پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ایک نسبتاً محدود وسائل رکھنے والی فضائی قوت نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی تربیت، ٹیکنالوجی، آپریشنل صلاحیت اور ادارہ جاتی استعداد کو ترقی دے کر جدید ملٹی ڈومین فضائی قوت کی شکل اختیار کی۔

ایئر کموڈور خالد فاروق چشتی کی تفصیلی گفتگو

تقریب کے مرکزی مقرر ایئر کموڈور خالد فاروق چشتی (ریٹائرڈ) تھے، جنہیں پاک فضائیہ میں جنگی تجربہ حاصل رہا ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں پاک فضائیہ کے ارتقا اور اس کے مختلف تاریخی مراحل کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بالخصوص ایئر مارشل اصغر خان کی ادارہ سازی اور پاک فضائیہ کی ابتدائی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں قائدانہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ان کے مطابق کسی بھی فضائی قوت کی مضبوطی صرف جنگی طیاروں یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے، تربیت، قیادت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ثقافت سے تشکیل پاتی ہے۔

1965 کی جنگ اور ایئر مارشل نور خان کا کردار

ایئر کموڈور خالد فاروق چشتی نے 1965 کی جنگ کے دوران ایئر مارشل نور خان کی عملی اور فیصلہ کن قیادت کو بھی خصوصی طور پر اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ 1965 کے معرکے میں پاک فضائیہ کے افسران اور جوانوں نے مشکل حالات میں پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور آپریشنل تیاری کا مظاہرہ کیا۔

اس دور کے فضائی جانبازوں اور شہداء کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1965 کی جنگ نے پاک فضائیہ کی جنگی سوچ اور پیشہ ورانہ روایات پر گہرے اثرات مرتب کیے، جو بعد کی نسلوں تک منتقل ہوتے رہے۔

1971 کی جنگ میں ایئر مارشل عبدالرحیم خان

مقرر نے 1971 کی جنگ کے دوران ایئر مارشل عبدالرحیم خان کے کردار کا بھی ذکر کیا اور اس دور کی مشکلات میں قیادت، استقامت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نمایاں کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کی تاریخ مختلف جنگوں، بحرانوں اور مشکل حالات میں خدمات انجام دینے والے افسران اور اہلکاروں کی قربانیوں سے عبارت ہے۔

روایتی فضائی قوت سے جدید ملٹی ڈومین فورس تک

ایئر کموڈور خالد فاروق چشتی نے پاک فضائیہ کے ارتقا کو موجودہ دور کی جدید جنگی ضروریات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ فضائی جنگ کا تصور بنیادی طور پر تبدیل ہوا ہے۔

ان کے مطابق جدید جنگ صرف آسمان میں جنگی طیاروں کی کارروائی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں سائبر، خلائی، الیکٹرانک وارفیئر، ڈرونز، انٹیلی جنس، نگرانی اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز بھی شامل ہوچکے ہیں۔

انہوں نے پاک فضائیہ کی روایتی جارحانہ و دفاعی قوت سے ایک ایسی “ڈسرپٹو” فضائی قوت میں تبدیلی کو اجاگر کیا جو جدید ٹیکنالوجی، جدت، پہل کاری، حقیقت پسندانہ تربیت اور مشترکہ افواج کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے روایتی جنگی تصورات کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

حقیقت پسندانہ تربیت اور آپریشنل تیاری

تقریب میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ جدید فضائی جنگ میں کامیابی کے لیے صرف جدید ہتھیار اور طیارے کافی نہیں بلکہ اعلیٰ معیار کی تربیت اور مسلسل آپریشنل تیاری بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ایئر کموڈور خالد فاروق چشتی کے مطابق پاک فضائیہ نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے تربیتی نظام کو اس انداز میں ترقی دی ہے کہ اہلکار حقیقی جنگی حالات سے قریب تر ماحول میں فیصلہ سازی، ردعمل اور آپریشنل کارروائیوں کی مشق کرسکیں۔

انہوں نے جدت اور مقامی صلاحیت سازی کو بھی پاک فضائیہ کے ارتقا کا اہم عنصر قرار دیا۔

معرکۂ حق میں مشترکہ افواج کی ہم آہنگی

مقرر نے حالیہ معرکۂ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی نے دفاعی صلاحیت کو مزید مؤثر بنانے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ جدید جنگ میں بری، بحری اور فضائی افواج کی مشترکہ کارروائیاں اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق تینوں افواج کے درمیان بہتر رابطہ اور مشترکہ حکمتِ عملی جدید جنگی ماحول میں فیصلہ کن برتری پیدا کرسکتی ہے۔

عددی برتری کے مقابل آپریشنل صلاحیت

ایئر کموڈور خالد فاروق چشتی نے کہا کہ پاک فضائیہ کی موجودہ آپریشنل صلاحیت اسے عددی اعتبار سے زیادہ بڑی حریف قوت کے مقابل بھی پہل کرنے، اپنی تیاری برقرار رکھنے اور مؤثر کارروائیاں انجام دینے کے قابل بناتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنگی طاقت کا تعین صرف طیاروں یا افرادی قوت کی تعداد سے نہیں ہوتا بلکہ تربیت، ٹیکنالوجی، قیادت، انٹیلی جنس، آپریشنل منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور مشترکہ افواج کی ہم آہنگی بھی بنیادی عوامل ہیں۔

پاک فضائیہ کا اصل ورثہ

اپنی گفتگو میں انہوں نے پاک فضائیہ کے پائیدار ورثے کو چند بنیادی اقدار سے منسلک کیا، جن میں جرات، پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط، قربانی، کامریڈری اور آبرو شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ روایات صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ہر نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اقدار کو آگے بڑھائے اور بدلتے ہوئے دفاعی تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔

ایئر مارشل عاصم سلیمان کے اختتامی کلمات

تقریب کے اختتام پر صدر کَیس لاہور ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ یومِ فضائیہ صرف 1965 کی جنگ کی کامیابیوں کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ پاک فضائیہ کی کئی دہائیوں پر محیط ان خدمات اور قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع بھی ہے جنہیں انہوں نے “خاموش جنگیں” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان خاموش محاذوں میں ٹیکنالوجی کی ترقی، دفاعی صلاحیتوں کا تحفظ، مقامی پیداوار، جوہری پروگرام کی سکیورٹی، مختلف علاقائی بحرانوں کے دوران ڈیٹرنس برقرار رکھنا اور اتحادی ذمہ داریوں میں معاونت جیسے کئی پہلو شامل ہیں۔

مقامی دفاعی صلاحیت سازی کا ذکر

ایئر مارشل عاصم سلیمان نے جے ایف۔17 تھنڈر کی مقامی تیاری کو بھی پاک فضائیہ کی صلاحیت سازی کے اہم مراحل میں شمار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر دفاعی ٹیکنالوجی اور ایرو اسپیس صلاحیتوں کی تعمیر کسی بھی ملک کے لیے طویل المدتی دفاعی خودمختاری کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ان کے مطابق پاک فضائیہ نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے دفاعی نظام میں خود انحصاری اور مقامی صلاحیت کو بڑھانے پر توجہ دی ہے۔

مختلف ادوار میں قومی دفاع کا کردار

ایئر مارشل عاصم سلیمان نے پاک فضائیہ کے مختلف تاریخی ادوار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے 1965 کی جنگ کے علاوہ 1971 کے بحران، سوویت مداخلت کے دور، پاکستان کے جوہری پروگرام کے تحفظ اور مختلف علاقائی و داخلی سکیورٹی چیلنجز کے دوران اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔

انہوں نے ایئر مارشل اصغر خان کی جانب سے رکھی گئی ادارہ جاتی بنیادوں، 1965 میں ایئر مارشل نور خان کی قیادت اور 1971 میں ایئر مارشل عبدالرحیم خان کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ان کے مطابق ان شخصیات کی پیشہ ورانہ مہارت اور قیادت نے پاک فضائیہ میں ایک ایسی روایت تشکیل دی جس کا تسلسل بعد کی نسلوں میں بھی برقرار رہا۔

جدید دور کی ملٹی ڈومین پاک فضائیہ

صدر کَیس لاہور نے کہا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ جدید دور کی ایک نئی نسل کی ملٹی ڈومین فورس کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو وسعت دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج فضائی جنگ کے میدان میں سائبر، خلائی، الیکٹرانک وارفیئر اور ڈرون صلاحیتیں بھی اہمیت اختیار کرچکی ہیں اور پاک فضائیہ ان شعبوں کو اپنی مجموعی آپریشنل صلاحیت کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

ان کے مطابق 2025 میں معرکۂ حق کے دوران ان جدید صلاحیتوں کے عملی استعمال اور تینوں مسلح افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے اثرات نمایاں ہوئے۔

تینوں مسلح افواج کی مربوط صلاحیت

ایئر مارشل عاصم سلیمان نے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنانے کے کردار کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ جدید سکیورٹی ماحول میں کسی بھی ملک کے دفاع کے لیے مشترکہ اور مربوط فوجی صلاحیت ناگزیر ہے، کیونکہ ممکنہ تنازع اب کسی ایک ڈومین تک محدود نہیں رہتا۔

کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے تیاری کا اعادہ

تقریب کے دوران صدر کَیس لاہور نے پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے فضائی قوت مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے کسی بھی بھارتی مہم جوئی کی صورت میں بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا اور پاک فضائیہ کے جنگی ہیروز، شہداء، افسران، جوانوں اور تکنیکی و معاون عملے کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ فضائی دفاع میں صرف پائلٹس ہی نہیں بلکہ ہزاروں تکنیکی، انجینئرنگ، لاجسٹک، انٹیلی جنس اور معاون اہلکار بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جن کی خدمات کے بغیر کوئی فضائی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا۔

سوال و جواب کی خصوصی نشست

تقریب کا اختتام ایک دلچسپ اور فکر انگیز سوال و جواب کی نشست سے ہوا، جس میں شرکاء نے پاک فضائیہ کی تاریخ اور موجودہ دفاعی چیلنجز سے متعلق مختلف سوالات کیے۔

گفتگو میں فضائی جنگ کے بدلتے ہوئے تقاضوں، جنگی حالات میں قائدانہ فیصلہ سازی، آپریشنل منصوبہ بندی اور دفاعی شعبے کو درپیش مالی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکاء نے مقامی دفاعی صلاحیت سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔

پاک اور بھارتی فضائی افواج کے پیشہ ورانہ کلچر پر گفتگو

سوال و جواب کی نشست میں پاک فضائیہ اور بھارتی فضائیہ کے پیشہ ورانہ کلچر کے تقابلی پہلوؤں پر بھی گفتگو ہوئی۔

اس کے علاوہ پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور بے لوث خدمت کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔

شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی فوجی ادارے کی حقیقی طاقت اس کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، ادارے سے وابستگی، قیادت پر اعتماد اور قومی دفاع کے لیے قربانی کے جذبے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

کَیس لاہور کی علمی کاوش کو سراہا گیا

تقریب میں شریک ماہرین اور شرکاء نے کَیس لاہور کی جانب سے یومِ فضائیہ کے موقع پر ایسی علمی نشست کے انعقاد کو سراہا۔

شرکاء کے مطابق اس نوعیت کے پروگرام نئی نسل کو پاک فضائیہ کی تاریخ، جنگی تجربات، شہداء کی قربانیوں اور جدید دفاعی تقاضوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے معاملات پر سنجیدہ اور تحقیقی مکالمے کے لیے بھی ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔

ماضی کے ورثے سے مستقبل کی جنگی تیاری تک

یومِ فضائیہ کی اس تقریب میں مجموعی طور پر پاک فضائیہ کے تاریخی سفر کو 1965 کے جنگی تجربے سے جدید ملٹی ڈومین فضائی قوت تک جوڑنے کی کوشش کی گئی۔

مقررین نے واضح کیا کہ 1965 اور 1971 کے جنگی تجربات، سابق قیادت کی ادارہ سازی، جنگی ہیروز کی قربانیاں، مسلسل تربیت، مقامی دفاعی صلاحیت، جدید ٹیکنالوجی اور تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی نے پاک فضائیہ کے موجودہ کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کَیس لاہور میں منعقدہ یومِ فضائیہ کی تقریب کا بنیادی پیغام یہی رہا کہ پاک فضائیہ کا ورثہ صرف ماضی کی جنگی کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ جرات، پیشہ ورانہ مہارت، قربانی، نظم و ضبط، جدت اور قومی دفاع کے مسلسل عزم کا ایک ایسا تسلسل ہے جسے نئی نسل جدید ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button