
وقت بدلتے دیر نہیں لگتی…….ناصف اعوان
سوال یہ ہے کہ جب موجودہ سیٹ اپ کی تشکیل کی گئی تھی اس وقت شہ دماغوں کو یہ اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں مگر انہیں یقین دلایا گیا
کہا یہ جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت معیشت کو مستحکم و مضبوط نہیں بنا سکی۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک میں نہیں لا سکی ۔ صنعتوں کے قیام کے لئے کوئی کوشش نہیں کر سکی ۔ مہنگائی و بے روزگاری کے عفریت پر قابو نہیں پا سکی۔ کرپشن کو بھی نہیں روک سکی بلکہ مبینہ طور سے اس کے خلاف کرپشن کے حوالے سے فائلیں تیار ہو چُکیں۔ اس نے اپنے سیاسی حریفوں کو دبانے کے لئے سخت رویہ اپنایا جس سے ملک میں ایک خوف اور افراتفری کی فضا نے جنم لیا لہذا اس کے بارے میں یہ کہا جانے لگا ہے کہ وہ گھر جانے والی ہے۔ باخبر صحافی حضرات اپنی تحریروں اور وی لاگرز اپنے وہ لاگز میں واضح طور سے کہنے لگے ہیں کہ یہ سیاسی منظر تبدیل ہونے جا رہا ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب حساب کتاب ہو گا کیونکہ اس دور میں بد عنوانی کے سابق ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ قرضہ لے کر انتظامی گاڑی چلائی جا رہی ہے جو غربت و افلاس کو ختم نہیں کر سکی لہذا یہ سوچا جا رہا ہے کہ نیا سیاسی منظر نامہ ابھارا جائے تاکہ ملک کو ہر طرح کے بحرانوں سے چھٹکارا مل سکے ۔
سوال یہ ہے کہ جب موجودہ سیٹ اپ کی تشکیل کی گئی تھی اس وقت شہ دماغوں کو یہ اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں مگر انہیں یقین دلایا گیا کہ وہ سب سنبھال لیں گے کھربوں ڈالر یہاں دوڑے آئیں گے۔ سرمایہ کاری اندھا دھند ہو گی کیونکہ وہ حکمرانی کو سمجھتے ہیں تجربہ کار ہیں ان کا ایک تشخص ہےلہذا فکر کی کوئی بات نہیں مگر ہوا یہ کہ اڑھائی تین برس گزرنے کے بعد بھی حالات نہیں سدھر سکے۔ غربت میں تیزی سے اضافہ ہوا کرپشن بڑھ گئی۔ ایسے منصوبے شروع کر دئیے گئے جو بظاہر دلکش تھے مگر غیر پیداواری تھے ان سے آمدن نہیں ہو سکتی تھی جس سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھتا گیا جسے کم کرنے کے لئے ضروری ہو گیا کہ عوام کو زحمت دی جائے کہ ان سے مختلف مدات میں پیسا وصولا جائے۔
بالخصوص پنجاب میں طرح طرح کے ٹیکس لگائے گئے لگائے جا رہے ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو بڑے مضحکہ خیز بھی ہیں اسے اچھی کارکردگی نہیں کہا جا سکتا کہ لوگوں سے لیا تو بہت کچھ جائے مگر انہیں سہولتیں معمولی دی جائیں اور جواز یہ پیش کیا جائے کہ خزانہ خالی ہے۔ خزانہ خالی عوام نے نہیں کیا وہ کیسے کر سکتے ہیں یہ کام اہل اقتدار کا ہے جو اپنی عیاشیوں پر دولت پانی کی طرح بہاتے ہیں۔ ایک غریب مقروض ملک کی وزیر اعلیٰ کو گیارہ ارب کا جہاز کیونکر چاہیے۔ یہ تو کچھ بھی نہیں‘ بتایا جا رہا ہے کہ ایسی کرپشن منظر عام پر آنے والی ہے کہ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ چلئے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے اور اگر واقعی ایسا ہے تو عوام کی دولت واپس خزانے میں جمع ہوتی ہے یا نہیں؟
ویسے اناسی برس سے یہی کچھ ہو رہا ہے ایک آتا ہے تو دوسرا چلا جاتا ہے اس کے بارے میں کہا یہی کچھ جاتا ہے مگر احتساب نہیں ہوتا لہذا چند خاندان دیکھتے ہی دیکھتے کھربوں پتی بن چکے ہیں سب جانتے ہیں کہ یہ دولت انہوں نے اپنی محنت سے حاصل نہیں کی مگر قانون خاموش متعلقہ ادارے بے بس وہ انہیں چُھو بھی نہیں سکتے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اداروں کو ہمیشہ غیر مستحکم کیا ہے میرٹ پر فیصلے کرنے کی کھلی چھوٹ نہیں دی ۔آج وہ اس قابل نہیں کہ میرٹ کو اپنائیں۔ جب تک ملک میں میرٹ انصاف اور مساوات کا علم بلند نہیں کیا جاتا ترقی نہیں ہو سکتی۔ عوامی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا تو غیروں کی نظر میں ہماری کوئی حثیت نہیں ہو گی پھر ہمارے وزیر اعظم جو جیسے بھی تخت نشیں ہوئے ہیں ان کو بڑی طاقتوں کا کوئی سربراہ اہمیت نہیں دے گا اور ان سے چشم پوشی کرتے ہوئے آگے بڑھ جائے گا ۔
بہرحال لگ یہ رہا ہے کہ تیسری آنکھ نے مستقبل کے سیاسی سماجی اور معاشی حالات کو دیکھ لیا ہے لہذا وہ ایسا منظر دیکھنا چاہتی ہے جس میں حکمران طبقات ہی خوشحال نہ ہوں غریب عوام کو بھی سُکھ کا سانس لینے کا موقع مل سکے اب تو وہ جس طرح کی زندگی بسر کر رہے ہیں اس کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ انہیں دو وقت کی روٹی بھی انتہائی محنت و مشقت کے بعد ہی میسر آتی ہے مگر اس میں مطلوبہ توانائی موجود نہیں ہوتی۔ ان میں سے جب کوئی کسی مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو دوائیں خریدنے کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے لہذا وہ کسی سی قرض لے کر اپنی سانسیں بحال رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے مسلط کی جانے والی حکومتیں قائم ہوتی ہیں تو انہیں کسی کی کوئی پروا نہیں ہوتی وہ جواب دہ بھی نہیں ہوتیں کیونکہ وہ براستہ متعینہ و متعلقہ راستہ وجود میں نہیں آتیں اسی لئے ہی معیشت ہو تجارت ہو اور سرمایہ کاری ہو سب ہی متاثر ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ملک کیسے چل سکتا ہے اور پھر جب دنیا بھر میں مقبول ترین سیاسی جماعت کو پس پشت ڈال کر معاملات کو دیکھا جائے گا تو صورتحال میں اضطراب پیدا ہوگا ہی‘ مگر کہا جا رہا ہے کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا گیا ہے اور اس ترقی کے راستے پر گامزن کرنے والوں کو کس قدر فائدہ ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ معذرت کے ساتھ پی ٹی آئی جس کو بچے تک چاہتے ہیں کو سیاسی منظر نامے سے باہر کرکے ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کے سربراہ کو پوری دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس کی وجہ اس کی اہلیت و قابلیت ہے سب سے اہم یہ چیز ہے کہ وہ ایک دیانت دار عوامی لیڈر کے طور سے ابھرا ہے یہ بات اس نے ثابت بھی کی ہے ۔ خان کو مال و متاع سے کوئی دلچسپی نہیں وہ ایک درویشانہ زندگی بسر کرنے کے حق میں ہے ۔
بہرکیف پی ٹی آئی ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کر لینا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ خان کو پیچھے رکھ کر سیاست کاری کی جا سکتی ہے تو یہ مشکل ہو گا ایسا کسی کی بھی مفاد میں نہیں لہذا ارباب اختیار کوئی نیا سیٹ اپ لاتے بھی ہیں جس کی کوچہ سیاست میں بڑا شور ہے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا وہ باصلاحیت اور اقوام عالم میں قابل قبول ہو گا کیونکہ اب یورپی و مغربی معاشرے عوام کی رائے اور ان کے منتخب کردہ نمائندوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں لہذا کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں شریک کیا جا سکتا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں جب معاشی طور سے ملک کمزور پڑ چکا ہے تو اس کو توانا بنانے کے لئے اس کی اشد ضرورت ہے مگر یہ بھی ہے کہ کوئی ایک سیاسی جماعت در پیش معاشی چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی لہذا بہتر یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اکٹھا ہو کر وطن عزیز کو خوشحال بنانے کی کوئی ترکیب سوچیں !


