یورپتازہ ترین

پوتن اور ٹرمپ کے درمیان یوکرین جنگ پر ’انتہائی واضح‘ گفتگو، امن مذاکرات کی بحالی پر زور

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر اس ٹیلی فونک رابطے کی مکمل تفصیلات یا باقاعدہ ریڈ آؤٹ جاری نہیں کیا گیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یوکرین میں جاری جنگ اور اس کے ممکنہ خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی تقریباً ایک گھنٹے کی گفتگو انتہائی واضح، تعمیری اور تفصیلی تھی، جس میں بنیادی توجہ یوکرین کے تنازعے کے سیاسی حل اور جنگ بندی کی کوششوں پر مرکوز رہی۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا ایک مرتبہ پھر روس اور یوکرین کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو اور کیف کے دورے کیے، جن کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے طویل عرصے سے تعطل کا شکار سفارتی عمل کو دوبارہ متحرک کرنا تھا۔

کریملن: گفتگو کا مرکزی موضوع یوکرین میں تصفیہ تھا

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ پوتن اور ٹرمپ کی گفتگو میں سب سے زیادہ توجہ یوکرین میں تنازعے کے حل کے معاملے پر رہی۔

ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ صدر پوتن نے موجودہ جنگی صورتحال اور محاذ پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔

روسی حکام کے مطابق پوتن نے اس بات پر بھی گفتگو کی کہ امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے حقیقت پسندانہ طور پر کیا اقدامات کرسکتا ہے۔ روسی صدر نے ایک مرتبہ پھر یہ مؤقف دہرایا کہ ماسکو کا یورپ کے خلاف کوئی جارحانہ منصوبہ نہیں ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر اس ٹیلی فونک رابطے کی مکمل تفصیلات یا باقاعدہ ریڈ آؤٹ جاری نہیں کیا گیا۔

امریکا کی مذاکراتی کوششیں دوبارہ متحرک

پوتن اور ٹرمپ کے درمیان رابطہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے حالیہ دنوں میں ماسکو اور کیف کا دورہ کیا اور دونوں فریقوں سے جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امن فارمولے پر بات چیت کی۔

واشنگٹن کی کوشش ہے کہ روس اور یوکرین دوبارہ آمنے سامنے بیٹھ کر جنگ بندی اور دیرپا امن کے امکانات پر مذاکرات کریں۔

یوکرینی قیادت نے اس امکان پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس، یوکرین اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان رواں ماہ ہی مزید بات چیت ہوسکتی ہے، تاہم روسی حکام نے کسی حتمی تاریخ یا مقام کے تعین کو فی الحال قبل از وقت قرار دیا ہے۔

زیلنسکی: مذاکرات جلد ہوں تو بہتر ہے

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔

زیلنسکی کے مطابق اگر تمام متعلقہ فریق اتفاق کریں تو ملاقات رواں ماہ ستمبر میں بھی ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات جتنی جلدی ہوں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

تاہم ماضی میں ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی برقرار ہے اور جنگ کے بنیادی مسائل پر ماسکو اور کیف کے مؤقف میں اب بھی نمایاں اختلاف موجود ہے۔

روسی حملوں میں شدت، کیف پر رات گئے حملے

دوسری جانب سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ یوکرین میں جنگی صورتحال بدستور سنگین ہے۔

حالیہ دنوں میں روس نے یوکرین کے مختلف شہروں اور قصبوں پر فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ امریکی مذاکرات کاروں کے دورہ کیف کے دوران مختصر جنگ بندی کی اطلاعات کے بعد بھی روسی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔

یوکرینی امدادی حکام کے مطابق دارالحکومت کیف پر رات گئے ہونے والے حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ حملوں کے دوران متعدد علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ شہریوں نے اپنی جان بچانے کے لیے تہہ خانوں اور میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لی۔

کیف میں موجود صحافیوں کے مطابق منگل کی صبح شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد مختلف علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔

یوکرینی وزیر خارجہ کی روس پر شدید تنقید

یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سائبیگا نے روسی حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے امن نمائندوں کے کیف سے روانہ ہوتے ہی روس نے یوکرین کے دارالحکومت کے خلاف ایک اور بڑا حملہ کردیا۔

یوکرینی وزیر خارجہ نے روسی میزائل حملوں کو سفارتی کوششوں کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کے بیلسٹک میزائل امن مذاکرات کے حوالے سے اس کے بیانات سے زیادہ واضح پیغام دے رہے ہیں۔

دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا کہ اس نے کیف اور اس کے مضافاتی علاقوں میں فوجی صنعتی تنصیبات، لاجسٹک مراکز اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔

کیف کے شہری خوفزدہ

حملوں کے دوران کیف کے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی افراد کے مطابق دھماکوں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارتیں اور گاڑیاں بھی لرز اٹھیں۔

ایک مقامی خاتون نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ شروع ہوتے ہی لوگ محفوظ مقامات کی جانب بھاگنے لگے۔ ان کے مطابق صورتحال انتہائی خوفناک تھی اور ان کی گاڑی بھی آگ لگنے کے باعث تباہ ہوگئی۔

یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک طرف جہاں سفارتی سطح پر جنگ بندی اور امن مذاکرات کے لیے کوششیں جاری ہیں، وہیں میدان جنگ میں کشیدگی برقرار ہے۔

شہری ہلاکتوں میں اضافہ

اقوام متحدہ سے منسلک تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق یوکرین میں شہری ہلاکتوں کی شرح جنگ کے ابتدائی مہینوں کے بعد اپنی بلند ترین سطحوں میں شامل ہے۔

روس کی جانب سے فضائی حملوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال بڑھنے کے باعث شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔

دوسری جانب روس کے زیر انتظام کریمیا میں بھی یوکرینی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ روس کی جانب سے مقرر کردہ مقامی حکام نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

موسم سرما سے پہلے کشیدگی کم کرنے کی امریکی کوشش

صدر زیلنسکی نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن موسم سرما شروع ہونے سے پہلے جنگ میں کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہا ہے۔

یوکرینی صدر کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن ممکنہ طور پر نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کو ناراض کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم روس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ایسا واضح مؤقف سامنے نہیں آیا جس سے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوسکے۔

توانائی کا بنیادی ڈھانچہ ایک بار پھر اہم خطرہ

یوکرین کو ہر موسم سرما میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں کا سامنا رہا ہے۔

فروری 2022 میں روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے آغاز کے بعد سے روس نے یوکرین کے بجلی کے نظام، توانائی کے مراکز اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا ہے۔

موسم سرما میں درجہ حرارت انتہائی کم ہونے کے باعث بجلی اور حرارت کی فراہمی میں خلل یوکرینی شہریوں کے لیے ایک سنگین انسانی مسئلہ بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کیف کی جانب سے موسم سرما سے قبل فضائی دفاع اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔

جنگ کے خاتمے کے بنیادی نکات پر اختلاف برقرار

اگرچہ روس اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے میں اضافہ ہوا ہے، لیکن جنگ کے بنیادی حل پر دونوں فریقوں کے درمیان اب بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔

ماسکو کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ یوکرین روس کے زیر قبضہ یا روس کی جانب سے دعویٰ کردہ علاقوں سے متعلق ماسکو کے مطالبات کو تسلیم کرے اور مغربی عسکری حمایت سے دوری اختیار کرے۔

روس بالخصوص مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے میں اپنے علاقائی مطالبات پر زور دیتا رہا ہے۔

دوسری جانب کیف روسی شرائط کو ناقابل قبول قرار دیتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ ایسی شرائط یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے دستبرداری کے مترادف ہوں گی۔

یوکرینی قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر روس کو کسی معاہدے کے ذریعے بڑے علاقائی فوائد حاصل ہوگئے تو ماسکو مستقبل میں دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاری کرسکتا ہے۔

اعتماد کا بحران امن عمل کی بڑی رکاوٹ

روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی اعتماد کا فقدان بھی ہے۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگی وعدوں کی خلاف ورزی اور امن عمل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

ماضی میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود جنگ ختم نہ ہونے کی وجہ سے کسی نئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے حوالے سے بھی غیر یقینی برقرار ہے۔

پوتن، ٹرمپ رابطہ کیوں اہم ہے؟

پوتن اور ٹرمپ کے درمیان تازہ رابطے کو اس لیے اہم قرار دیا جارہا ہے کہ امریکا روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے دوبارہ فعال سفارتی کردار ادا کررہا ہے۔

اگر واشنگٹن ماسکو اور کیف کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔

تاہم محاذ پر جاری شدید لڑائی، شہری ہلاکتیں، علاقائی تنازعات اور فریقین کے بنیادی مطالبات میں فرق اس عمل کو انتہائی مشکل بنا رہے ہیں۔

امن مذاکرات کا مستقبل اب بھی غیر یقینی

پوتن اور ٹرمپ کی ایک گھنٹے پر مشتمل گفتگو اور امریکی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کے باوجود فوری جنگ بندی یا امن معاہدے کی کوئی ضمانت سامنے نہیں آئی۔

روس اپنے علاقائی اور سکیورٹی مطالبات پر قائم ہے، جبکہ یوکرین اپنی علاقائی سالمیت اور مغربی حمایت کو برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ واشنگٹن روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا ایسا قابلِ عمل فریم ورک تیار کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے جو دونوں فریقوں کے بنیادی اختلافات کو کم کرسکے۔ پوتن اور ٹرمپ کے درمیان تازہ رابطہ سفارتی عمل کی بحالی کا اشارہ ضرور ہے، لیکن یوکرین جنگ کے حقیقی خاتمے کے لیے محاذ پر جنگ بندی اور متنازع معاملات پر ٹھوس اتفاقِ رائے اب بھی بنیادی شرط ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button