
مصر میں 4,300 سال پرانے جج کا مقبرہ دریافت، قدیم مصری عدالتی اور معاشرتی زندگی کے نادر شواہد سامنے آگئے
یہ مقبرہ قاہرہ کے جنوب میں واقع تاریخی اور وسیع قبرستان صقرہ کے شمالی حصے میں میریٹ قبرستان کے علاقے سے دریافت ہوا ہے۔
قاہرہ: مصر میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے ایک اہم تاریخی دریافت کرتے ہوئے قاہرہ کے قریب واقع قدیم قبرستان صقرہ میں تقریباً 4,300 سال پرانا مقبرہ دریافت کیا ہے۔ یہ مقبرہ قدیم مصر کے ایک اعلیٰ عہدے دار اور جج یونمین سے منسوب کیا گیا ہے، جس کی ذمہ داریوں میں عام لوگوں کی درخواستیں اور شکایات سننا اور ان کے معاملات کا ریاستی سطح پر جائزہ لینا شامل تھا۔
یہ غیر معمولی دریافت ایک مشترکہ مصری-ہسپانوی آثارِ قدیمہ مشن نے کی، جس میں مصر کی سپریم کونسل آف نوادرات اور بارسلونا کی خودمختار یونیورسٹی کے ماہرین شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق مقبرے میں موجود نقش و نگار، تحریری شواہد اور قدیم مصری رسومات کی عکاسی کرنے والے مناظر تقریباً چار ہزار سال سے زائد عرصے تک ریت کے نیچے محفوظ رہے۔
صقرہ میں اہم تاریخی دریافت
یہ مقبرہ قاہرہ کے جنوب میں واقع تاریخی اور وسیع قبرستان صقرہ کے شمالی حصے میں میریٹ قبرستان کے علاقے سے دریافت ہوا ہے۔
صقرہ قدیم مصر کے اہم ترین آثارِ قدیمہ کے مقامات میں شمار ہوتا ہے اور یہاں مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے شاہی خاندانوں، اعلیٰ سرکاری اہلکاروں اور مذہبی شخصیات کے مقابر اور یادگاریں موجود ہیں۔
حالیہ دریافت بھی قدیم مصر کے پانچویں خاندان کے دور سے تعلق رکھتی ہے اور اسے فرعون ڈیجکرے اسیسی کے عہد سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب مصری ریاست میں انتظامی ڈھانچے اور حکومتی اداروں کی تنظیم نو اور اصلاحات کا عمل جاری تھا۔
جج یونمین کون تھا؟
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہ مقبرہ یونمین نامی ایک بااثر اعلیٰ سرکاری عہدیدار کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔
یونمین کے عہدے کی ایک اہم ذمہ داری یہ تھی کہ وہ عام لوگوں کی درخواستیں، شکایات اور اپیلیں سنتا اور ان معاملات کا ریاستی نظام کے تحت جائزہ لیتا تھا۔
قدیم مصر میں حکومتی نظم و نسق صرف شاہی خاندان تک محدود نہیں تھا بلکہ مختلف سطحوں پر ایسے سرکاری اہلکار موجود تھے جو انتظامی، مالی، زرعی اور عدالتی امور کی نگرانی کرتے تھے۔ یونمین کا کردار اسی وسیع انتظامی نظام کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
قدیم مصر میں انصاف کا تصور
صقرہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر امر الطیب کے مطابق یونمین کے فرائض قدیم مصری تصورِ ماعت (Ma’at) سے مطابقت رکھتے ہیں۔
قدیم مصری تہذیب میں ماعت سچائی، انصاف، توازن، نظم اور معاشرتی ہم آہنگی کے تصور کی نمائندگی کرتی تھی۔ حکمرانوں اور سرکاری اہلکاروں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ ریاست میں نظم و انصاف برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یونمین کی ذمہ داریوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم مصر میں عام شہریوں کی شکایات اور اپیلیں سننے کے لیے بھی ایک باقاعدہ انتظامی تصور موجود تھا۔
4,300 سال پرانا مستبا
نئی دریافت ہونے والی عمارت کو آثارِ قدیمہ کی اصطلاح میں مستبا کہا جاتا ہے۔ مستبا ایک ایسا قدیم مقبرہ ہوتا ہے جس کی عمومی طور پر بیرونی ساخت مستطیل اور چھت نسبتاً ہموار ہوتی ہے۔
قدیم مصر میں اس قسم کے مقابر عموماً اعلیٰ عہدے داروں، سرکاری اہلکاروں اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیے تعمیر کیے جاتے تھے۔
نئے دریافت شدہ مستبا میں دو جنازہ چیپل موجود ہیں۔ ایک چیپل یونمین کے لیے بنایا گیا تھا جبکہ دوسرا اس کے والد ایٹی (Ity) کے لیے مختص تھا۔
یونمین کے والد بھی اہم سرکاری عہدے پر فائز تھے
یونمین کے والد ایٹی بھی عام شخصیت نہیں تھے۔ دریافت شدہ شواہد کے مطابق وہ ایک سینئر کاتب تھے اور ان کی ذمہ داریوں میں زرعی زمینوں اور نذرانوں کی نگرانی شامل تھی۔
اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ خاندان قدیم مصری ریاست کے انتظامی اور معاشی نظام میں ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔
اس دور میں کاتبوں کو خصوصی اہمیت حاصل تھی کیونکہ سرکاری ریکارڈ، محصولات، زرعی پیداوار، زمینوں کی تفصیلات اور دیگر انتظامی امور تحریری شکل میں محفوظ رکھنے کے لیے تعلیم یافتہ کاتبوں کی ضرورت ہوتی تھی۔
مقبرے میں قدیم زندگی کے رنگ محفوظ
مقبرے کی سب سے اہم خصوصیات میں اس کے چیپل کو سجانے والے نقش و نگار اور تصویری مناظر ہیں۔
یونمین کے چیپل میں ایسے مناظر دریافت ہوئے ہیں جن میں کسانوں کو کھیتوں میں کام کرتے، خادموں کو نذرانے لے جاتے اور جنازے سے متعلق مختلف رسومات ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یہ مناظر صرف مذہبی یا تدفینی اہمیت نہیں رکھتے بلکہ قدیم مصر کی روزمرہ زندگی، زرعی سرگرمیوں، سماجی طبقات اور مذہبی عقائد کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔
چار ہزار سال بعد بھی رنگ محفوظ
مصری وزارتِ نوادرات کے مطابق مقبرے میں موجود بعض پینٹنگز نے صحرا کی ریت کے نیچے 40 صدیوں سے زیادہ عرصہ گزارنے کے باوجود اپنے اصل رنگوں کو بڑی حد تک برقرار رکھا ہے۔
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے لیے یہ پہلو خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ قدیم مقبروں میں موجود پینٹنگز اور رنگ وقت گزرنے کے ساتھ عموماً ماند پڑ جاتے ہیں۔
ریت اور زیرِ زمین ماحول نے ان نقش و نگار کو بیرونی عوامل سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کیا ہوسکتا ہے، جس کے باعث ماہرین کو قدیم مصری فنِ مصوری اور تدفینی روایات کا نسبتاً واضح مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔
رسمی تصویر اور جنازے کے نوشتہ جات
ماہرین نے مقبرے میں یونمین کی ایک رسمی عکاسی بھی دریافت کی ہے، جبکہ عمارت کے اگلے حصے پر جنازے سے متعلق نوشتہ جات موجود ہیں۔
قدیم مصری مقابر میں اس نوعیت کے نوشتہ جات نہ صرف مرنے والے کی شناخت اور عہدے کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں بلکہ اس شخص کے بعد از مرگ سفر، مذہبی عقائد اور خاندان کے سماجی مقام سے متعلق بھی اہم شواہد فراہم کرسکتے ہیں۔
تحریری اور تصویری شواہد کو ایک ساتھ پڑھنے سے ماہرین کو یونمین کی زندگی اور اس کے دور کے انتظامی نظام کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
ایٹی کے چیپل میں علامتی جھوٹا دروازہ
مقبرے کے دوسرے چیپل میں یونمین کے والد ایٹی کے لیے مخصوص آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔
یہاں ایک جھوٹا دروازہ (False Door) بھی موجود ہے، جو قدیم مصری تدفینی فن تعمیر کی ایک معروف علامت تھا۔
قدیم مصری عقائد کے مطابق یہ دروازہ ایک علامتی راستے کی حیثیت رکھتا تھا جس کے ذریعے مرنے والے کی روح کو زندہ لوگوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے کھانے اور دیگر نذرانوں تک رسائی حاصل ہوسکتی تھی۔
ایٹی کے چیپل میں پینٹ شدہ نذرانوں اور دیگر تدفینی مناظر کے آثار بھی محفوظ ہیں۔
قدیم مصری معاشرے کی جھلک
مقبرے میں موجود نقش و نگار اور مناظر اس دور کے مصری معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔
کسانوں کے کھیتوں میں کام کرنے کے مناظر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زرعی معیشت قدیم مصر کی ریاستی اور معاشرتی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔
اسی طرح خادموں کو نذرانے لے جاتے دکھانا اس دور کی مذہبی اور تدفینی روایات کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے لیے یہ تصاویر اس بات کا بھی اہم ذریعہ ہیں کہ وہ ہزاروں سال پہلے کے لباس، کام کے طریقوں، اشیا اور سماجی تعلقات کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں۔
مصر اور اسپین کا مشترکہ آثارِ قدیمہ منصوبہ
یہ دریافت مصر اور اسپین کے درمیان طویل عرصے سے جاری مشترکہ آثارِ قدیمہ تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔
اس منصوبے میں بارسلونا کی خودمختار یونیورسٹی اور مصر کی سپریم کونسل آف نوادرات کے ماہرین شامل ہیں۔
حالیہ کھدائی کا سیزن شمالی صقرہ کے میریٹ قبرستان کے علاقے میں جاری تھا، جہاں ماہرین قدیم مقابر اور دیگر آثار کی تلاش اور دستاویز سازی کررہے تھے۔
صقرہ کی عالمی تاریخی اہمیت
صقرہ مصر کے ان مقامات میں شامل ہے جہاں ہزاروں سال پر محیط قدیم مصری تہذیب کے مختلف ادوار کے آثار ایک ہی علاقے میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یہ مقام قدیم مصر کے دارالحکومت میمفس کے قریب واقع تھا اور طویل عرصے تک شاہی و اشرافیائی تدفین کے لیے استعمال ہوتا رہا۔
یہاں موجود اہرام، مقابر، مندر، مجسمے، نوشتہ جات اور دیگر آثار دنیا بھر کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے تحقیق کا اہم ذریعہ ہیں۔
یونمین کا مقبرہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ کسی فرعون کے بجائے ایک ایسے اعلیٰ سرکاری اہلکار کی زندگی اور کردار پر روشنی ڈالتا ہے جو عام لوگوں کے معاملات اور شکایات سے متعلق ذمہ داریاں ادا کرتا تھا۔
سیاحت کے فروغ کی کوششوں کے دوران اہم دریافت
یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر اپنی قدیم تہذیب اور آثارِ قدیمہ کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
مصر کے لیے سیاحت غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور قدیم اہرام، مقابر، مندر اور آثارِ قدیمہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں مصری حکام کی جانب سے نئے آثار دریافت کرکے انہیں عوام اور بین الاقوامی سیاحوں کے سامنے پیش کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
نئی دریافت سے مزید تحقیق کی راہ ہموار
ماہرین کے مطابق یونمین اور اس کے والد ایٹی کے مقبرے سے حاصل ہونے والے شواہد مزید تحقیق کے لیے اہم بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔
مقبرے کے نوشتہ جات، نقش و نگار، تدفینی مناظر اور فنِ تعمیر کا تفصیلی مطالعہ قدیم مصر کے انتظامی نظام، عدالتی ذمہ داریوں، زرعی معیشت اور مذہبی رسومات کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
خاص طور پر یونمین کا عام لوگوں کی شکایات سننے سے متعلق کردار قدیم مصری ریاست کے انتظامی اور انصاف کے نظام کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تاریخی حوالہ بن سکتا ہے۔
یوں صقرہ میں 4,300 سال پرانے جج یونمین کا مقبرہ صرف ایک قدیم قبر کی دریافت نہیں بلکہ قدیم مصری ریاست کے انتظامی ڈھانچے، انصاف کے تصور، زرعی معاشرت، مذہبی رسومات اور روزمرہ زندگی کی ایک نایاب جھلک بھی پیش کرتا ہے۔ ہزاروں سال تک ریت کے نیچے محفوظ رہنے والے یہ نقش و نگار اور نوشتہ جات جدید دنیا کو قدیم مصر کی تہذیبی عظمت اور منظم معاشرت کے بارے میں مزید جاننے کا ایک منفرد موقع فراہم کررہے ہیں۔



