
جرم صرف مجرم نہیں کرتا …….علی عباس کاظمی
ہم نے بچوں کو اطاعت تو سکھائی ہے، مگر مزاحمت نہیں سکھائی۔ انہیں بڑوں کا احترام سکھایا ہے، مگر یہ نہیں بتایا کہ اگر کوئی بڑا غلط رویہ اختیار کرے تو اسے انکار کا حق حاصل ہے۔
ہم اپنے معاشرے کی اخلاقی حالت کا اندازہ اکثر اس بات سے لگاتے ہیں کہ لوگ کیا پہنتے ہیں، کیسے بولتے ہیں، کس رسم پر عمل کرتے ہیں اور کون سی روایت زندہ رکھتے ہیں، مگر شاید ہم نے اخلاق کا سب سے اہم پیمانہ ہی بھلا دیا ہے۔ اخلاق کا اصل چہرہ وہاں سامنے آتا ہے جہاں ایک کمزور انسان کسی طاقتور کے مقابلے میں تنہا کھڑا ہو۔ ایک بچہ جب اپنے ہی ماحول میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرے اور اپنی تکلیف زبان پر لانے سے پہلے کئی بار سوچے تو یہ صرف اس بچے کا المیہ نہیں، ہمارے اجتماعی ضمیر کی ناکامی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر عموماً ایک مخصوص ردعمل سامنے آتا ہے۔ چند دن غصہ، مذمت، گرفتاری کا مطالبہ، سوشل میڈیا پر بحث اور۔۔۔ پھر خاموشی۔ جیسے کوئی سانحہ خبر کی مدت پوری کرکے ہماری اجتماعی یادداشت سے خارج ہو جاتا ہے۔ ہم مجرم کی گرفتاری کو انصاف کی تکمیل سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ گرفتاری صرف قانونی عمل کا آغاز ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ حالات کہاں تھے جنہوں نے جرم کو ممکن بنایا، وہ لوگ کہاں تھے جنہوں نے خطرے کو محسوس نہیں کیا، وہ ادارے کہاں تھے جہاں شکایت پہنچ سکتی تھی اور وہ معاشرتی رویے کہاں تھے جنہوں نے بچے کو خاموش رہنے پر مجبور کیا؟
ہماری سب سے بڑی غلطی شاید یہ ہے کہ ہم ہر جرم کو ایک فرد کی خرابی سمجھ کر اجتماعی ذمہ داری سے بچ نکلتے ہیں۔ ہمیں ایک مجرم مل جاتا ہے تو ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ مگر اگر ایک ہی نوعیت کے واقعات بار بار سامنے آ رہے ہوں تو پھر مسئلہ کسی ایک شخص کی ذہنیت سے بڑا ہو جاتا ہے۔ پھر ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، محلوّں، مذہبی و سماجی اداروں اور قانون کے نظام کو بھی آئینے کے سامنے کھڑا کرنا پڑتا ہے۔ مسلسل پیدا ہونے والا جرم محض مجرم کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ سارے سسٹم کی کمزوری بھی ظاہر کرتا ہے۔
اس معاملے میں ہماری خاندانی ساخت کا ایک تضاد بھی قابل غور ہے۔ ہم بچوں کو خاندان کی عزت کا مرکز قرار دیتے ہیں، مگر جب کوئی بچہ کسی قریبی یا بااثر شخص کے خلاف شکایت کرتا ہے تو بعض اوقات سب سے پہلی ترجیح بچے کی حفاظت نہیں بلکہ خاندان کی بدنامی سے بچنا بن جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عزت کا تصور اپنی اخلاقی معنویت کھو دیتا ہے۔ اگر کسی بچے کی فریاد دبانے سے خاندان کی عزت بچتی ہے تو ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ایسی عزت کی اخلاقی قیمت کیا ہے؟ عزت وہ ہونی چاہیے جو کمزور کو تحفظ دے، نہ کہ وہ جو طاقتور کو احتساب سے بچا لے۔
ہم نے بچوں کو اطاعت تو سکھائی ہے، مگر مزاحمت نہیں سکھائی۔ انہیں بڑوں کا احترام سکھایا ہے، مگر یہ نہیں بتایا کہ اگر کوئی بڑا غلط رویہ اختیار کرے تو اسے انکار کا حق حاصل ہے۔ انہیں خاموش رہنے کو تہذیب سمجھایا ہے، مگر اپنی حدود کے تحفظ کو بھی اتنی ہی اہمیت نہیں دی۔ یہ تربیتی خلا خطرناک ہے۔ بچے کو ہر اجنبی سے ڈرنے کی تلقین کرنے کے بجائے اسے یہ سمجھانا ضروری ہے کہ غلط رویہ غلط ہے، چاہے وہ کسی اجنبی کی طرف سے ہو یا کسی شناسا شخص کی طرف سے۔ اعتماد ضروری ہے، مگر اندھا اعتماد کسی بچے کی حفاظت نہیں کرتا۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بچے کی بات کو اکثر اس لیے کم اہم سمجھا جاتا ہے کہ وہ بچہ ہے۔ اس کی شکایت کو وہم، غلط فہمی، شرارت یا توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دے دینا آسان ہے۔ لیکن بچے کی بات کو سنجیدگی سے سننے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر الزام کو فوراً حقیقت مان لیا جائے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ اس کی بات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ تحقیق ہو، حقائق سامنے آئیں، قانون اپنا راستہ اختیار کرے، مگر ابتدائی مرحلے پر بچے کو خاموش کرا دینا کسی بھی صورت درست نہیں۔
تعلیمی اداروں کا کردار بھی ہمارے عمومی تصور سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ہم اسکول کو امتحانات، نمبروں اور نتائج کی مشین سمجھنے لگے ہیں۔ والدین کو اچھے گریڈ چاہییں، انتظامیہ کو اچھا رزلٹ اور ادارے کو اچھی شہرت۔ مگر بچے کی جسمانی اور ذہنی سلامتی ان سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اگر کسی ادارے میں شکایت کا محفوظ طریقہ موجود نہیں، اساتذہ کو بچوں کے تحفظ کی تربیت حاصل نہیں اور انتظامیہ کسی شکایت کو ادارے کی ساکھ کے لیے خطرہ سمجھتی ہے تو وہاں تعلیم کی عمارت بظاہر مضبوط ہو سکتی ہے مگر اخلاقی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔
اداروں کی ساکھ بچانے کے نام پر حقائق چھپانا دراصل ساکھ کو بچانا نہیں بلکہ مسئلے کو اگلی نسل تک منتقل کرنا ہے۔ ایک ادارہ اس وقت معتبر بنتا ہے جب وہ اپنے اندر موجود کمزوری کو تسلیم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ شکایت کو دبانا، متاثرہ بچے یا خاندان کو خاموش کرنا، معاملہ باہمی طور پر ختم کرنے کی کوشش کرنا اور طاقتور لوگوں کے اثر سے کارروائی کو موخر کرنا صرف ایک فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ دوسرے ممکنہ متاثرین کے لیے بھی خطرہ پیدا کرتا ہے۔
ریاستی نظام کے بارے میں بھی ہمیں اپنی توقعات واضح کرنا ہوں گی۔ پولیس کی کارروائی ضروری ہے مگر پولیس ہر جرم کو ہونے سے پہلے نہیں روک سکتی۔ عدالت سزا دے سکتی ہے مگر عدالت ہر گھر میں موجود خوف کو ختم نہیں کر سکتی۔ قانون اپنی جگہ اہم ہے لیکن قانون کے ساتھ سماجی شعور بھی ضروری ہے۔ ایسا نظام درکار ہے جس میں شکایت درج کرانا آسان ہو، بچے کو بار بار ذہنی اذیت سے نہ گزرنا پڑے، تفتیش پیشہ ورانہ انداز میں ہو، شواہد محفوظ کیے جائیں اور بااثر ملزمان کے لیے قانون کی شدت کم نہ ہو۔ قانون کا خوف صرف قانون کی کتاب سے نہیں بلکہ اس کے منصفانہ اطلاق سے پیدا ہوتا ہے۔
ہمیں اپنی سماجی حساسیت کے معیار پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ہم معمولی معاشرتی معاملات پر طویل بحث کر سکتے ہیں، کسی کے لباس، بول چال یا طرز زندگی پر گھنٹوں تبصرہ کر سکتے ہیں، مگر جب بچے کے تحفظ کی بات آتی ہے تو بعض اوقات ہماری زبان پر مصلحت کے تالے پڑ جاتے ہیں۔ یہ تضاد محض اتفاق نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اخلاق کو کردار کے بجائے ظاہری رویوں سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ جس معاشرے میں ظاہری پاکیزگی پر شور ہو مگر کمزور کے تحفظ پر خاموشی، وہاں مسئلہ صرف جرائم کا نہیں، اخلاقی ترجیحات کا بھی ہے۔
ماضی کی ہر چیز قابل تقلید نہیں اور جدیدیت کی ہر چیز قابل قبول نہیں۔ ہمیں دونوں کے درمیان وہ انسانی قدر تلاش کرنا ہوگی جو بچے کے تحفظ کو بنیادی حق سمجھتی ہے۔ معاشرتی اقدار اگر واقعی زندہ ہیں تو ان کا سب سے خوب صورت اظہار کمزور کی حفاظت میں ہونا چاہیے، نہ کہ صرف روایتی ظاہری رویوں کی نگرانی میں۔اس مسئلے کا حل صرف حکومت یا والدین کے پاس نہیں۔ گھر کو اعتماد کا مرکز بننا ہوگا، اسکول کو محفوظ ماحول دینا ہوگا، میڈیا کو سنسنی کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو مسلسل آگاہی پیدا کرنی ہوگی اور ریاست کو قانون کے یکساں نفاذ کا یقین دلانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر ہمیں بچوں کو یہ یقین دینا ہوگا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ غلط ہو تو وہ اکیلے نہیں ہوں گے۔ ان کی بات سنی جائے گی، ان پر یقین کیا جائے گا اور انہیں الزام کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جائے گا۔
کسی معاشرے کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ مجرم کو کتنی بلند آواز سے برا کہتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ جرم سے پہلے کتنی ذمہ داری کے ساتھ اپنے بچوں کے گرد تحفظ قائم کرتا ہے۔ حادثے کے بعد آنسو بہانا آسان ہے، خطرے سے پہلے دیوار کھڑی کرنا مشکل۔ ہم کب تک ہر واقعے کے بعد چند دن غصے میں گزار کر پھر اسی خاموشی میں واپس جاتے رہیں گے؟ شاید ہمیں اپنے بچوں سے پہلے خود کو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کی حفاظت کوئی اضافی ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری اجتماعی انسانیت کا بنیادی امتحان ہے۔ جس دن ایک بچہ بلاخوف اپنی بات کہہ سکے گا، شاید اسی دن ہمیں یقین ہوگا کہ ہمارا معاشرہ واقعی جاگ رہا ہے۔



