کاروبارتازہ ترین

پی آئی اے اور کام ایئر کے درمیان انٹرلائن معاہدہ، افغانستان سے مشرق وسطیٰ تک فضائی رابطے میں توسیع

ایک مربوط بکنگ کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کی منصوبہ بندی، پروازوں کے درمیان رابطہ اور سامان کی منتقلی جیسے معاملات زیادہ منظم انداز میں انجام دیے جا سکتے ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید ارمغان ظفر-ادارت سندھ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور افغانستان کی نجی فضائی کمپنی کام ایئر نے افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات کے درمیان فضائی رابطے کو بہتر بنانے کے لیے انٹرلائن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ایئرلائنز کے درمیان فضائی رابطے اور مسافروں کی منتقلی کو زیادہ منظم اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے تحت مسافر افغانستان سے اسلام آباد کے راستے مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات تک اپنے سفر کو ایک ہی بکنگ کے تحت مکمل کر سکیں گے۔

ترجمان کے مطابق معاہدے کا مقصد مسافروں کے لیے مختلف پروازوں کے درمیان رابطہ آسان بنانا اور افغانستان کو اسلام آباد کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے اہم فضائی مقامات سے جوڑنا ہے۔

انٹرلائن معاہدہ کیا ہوتا ہے؟

انٹرلائن معاہدہ مختلف ایئرلائنز کے درمیان ایک رضاکارانہ کاروباری انتظام ہوتا ہے جس کے تحت شریک فضائی کمپنیاں ایک دوسرے کے ٹکٹ قبول کر سکتی ہیں اور مسافروں کو متعدد پروازوں پر مشتمل سفر کے لیے مربوط سہولت فراہم کرتی ہیں۔

اس انتظام کا بنیادی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مسافر کو اپنے مکمل سفر کے ہر حصے کے لیے الگ الگ ٹکٹ خریدنے کے بجائے ایک ہی بکنگ کے تحت مختلف ایئرلائنز کی پروازوں سے سفر کرنے کی سہولت مل سکتی ہے۔

پی آئی اے اور کام ایئر کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت بھی مسافروں کو اسی نوعیت کی سہولت فراہم کرنے کا مقصد ہے۔

ایک ہی بکنگ کے تحت مکمل سفر

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان کے مطابق معاہدے کے تحت مسافر ایک ہی بکنگ کے ذریعے اپنے پورے سفر کا انتظام کر سکیں گے، جس سے سفر کے مختلف حصوں کے لیے علیحدہ ٹکٹ خریدنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔

یہ سہولت بالخصوص ان افغان مسافروں کے لیے اہم قرار دی جا سکتی ہے جو افغانستان سے پاکستان کے راستے خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے مقامات کا سفر کرتے ہیں۔

ایک مربوط بکنگ کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کی منصوبہ بندی، پروازوں کے درمیان رابطہ اور سامان کی منتقلی جیسے معاملات زیادہ منظم انداز میں انجام دیے جا سکتے ہیں۔

کابل، اسلام آباد اور دمام کے درمیان رابطہ

ترجمان کے مطابق اس وقت فعال روٹ میں کابل، اسلام آباد اور دمام شامل ہیں۔

اس روٹ کے ذریعے افغان مسافروں اور سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں کام کرنے والے یا مقیم افغان تارکین وطن کو فضائی رابطے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

کابل سے اسلام آباد پہنچنے کے بعد مسافروں کو پی آئی اے کی رابطہ پروازوں کے ذریعے دمام تک سفر جاری رکھنے کی سہولت حاصل ہوگی۔

اس انتظام کو افغانستان اور مشرقی سعودی عرب کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک مربوط فضائی رابطے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

سامان کی منتقلی بھی معاہدے کا حصہ

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان کے مطابق معاہدے کے تحت کابل سے لادا جانے والا مسافروں کا سامان اسلام آباد ایئرپورٹ پر پی آئی اے کی رابطہ پروازوں میں منتقل کیا جائے گا۔

اس سہولت سے مسافروں کو اپنے سفر کے دوران سامان کے حوالے سے اضافی انتظامات کی ضرورت کم ہو سکتی ہے اور مختلف پروازوں کے درمیان سامان کی منتقلی زیادہ مربوط طریقے سے انجام دی جا سکے گی۔

ترجمان کے مطابق خلیج کی جانب سفر کرنے والے افغان مسافروں کے لیے ایک اور اہم سہولت یہ ہوگی کہ اگر وہ سفر کے دوران ایئرپورٹ کے ایئرسائیڈ حصے تک محدود رہیں تو انہیں پاکستان میں دوبارہ امیگریشن کلیئرنس سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ایئرسائیڈ سے مراد ایئرپورٹ کا وہ محفوظ حصہ ہے جہاں مسافروں کو پروازوں کے درمیان منتقلی کے دوران رکھا جاتا ہے اور جہاں سے طیاروں تک رسائی ہوتی ہے۔

اسلام آباد کو علاقائی فضائی ٹرانزٹ مرکز بنانے کی کوشش

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے معاہدے کو دونوں ایئرلائنز کے درمیان ایسا انٹرلائن تعاون قرار دیا جس کے ذریعے افغانستان کو اسلام آباد کے راستے مشرق وسطیٰ کے اہم مقامات سے جوڑنے کے لیے ہموار منتقلی کا راستہ قائم کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ شراکت داری اسلام آباد کو جنوبی اور مغربی ایشیا کے لیے ایک آپریشنل ہوائی ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے افغان مسافروں کے لیے علاقائی رابطے کو وسعت دے گی۔

اس تناظر میں اسلام آباد ایئرپورٹ افغانستان سے آنے والے مسافروں کے لیے ایک اہم رابطہ مقام بن سکتا ہے، جہاں سے پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے انہیں مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات تک پہنچنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

مزید روٹس شامل کرنے کا منصوبہ

پی آئی اے کے مطابق موجودہ کابل، اسلام آباد اور دمام کے روٹ کے علاو

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button