صحتتازہ ترین

غزہ میں قبل از وقت پیدائشوں میں اضافہ، انکیوبیٹرز اور آکسیجن کی قلت نے نوزائیدہ بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا

ان کے بقول، نوزائیدہ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث طبی عملہ بعض اوقات ایک انکیوبیٹر میں دو یا تین بچوں کو رکھنے پر مجبور ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے ایف پی کے ساتھ

غزہ: جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی میں صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں طبی سہولیات، آکسیجن، انکیوبیٹرز اور دیگر ضروری سامان کی قلت کے باعث نوزائیدہ بچوں کے شعبے کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر قبل از وقت اور کم وزن پیدا ہونے والے بچوں کے لیے صورتحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

جنوبی غزہ کے خان یونس میں واقع ناصر ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے شعبے میں جگہ اور طبی آلات کی کمی کے باعث بعض اوقات ایک ہی انکیوبیٹر میں دو یا تین بچوں کو رکھنا پڑ رہا ہے، جبکہ طبی عملہ محدود وسائل کے باوجود بچوں کو علاج فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایک انکیوبیٹر میں دو یا تین بچے

ناصر ہسپتال کے نیونیٹل یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر حاتم ظاہر کے مطابق صورتحال انتہائی سنگین ہے اور ہسپتال میں اضافی انکیوبیٹرز اور مطلوبہ مقدار میں آکسیجن دستیاب نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ متعدد ایسے بچے ہسپتال لائے جا رہے ہیں جنہیں فوری طور پر خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم ہسپتال کی گنجائش محدود ہونے کے باعث انہیں دوسرے مراکز میں منتقل کرنا بھی آسان نہیں۔

ڈاکٹر حاتم ظاہر کے مطابق زیادہ تر ان بچوں کا وزن بہت کم ہے اور انہیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ دوسرے ہسپتالوں میں بھی گنجائش ختم ہونے کے باعث منتقلی کے امکانات محدود ہیں۔

ان کے بقول، نوزائیدہ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث طبی عملہ بعض اوقات ایک انکیوبیٹر میں دو یا تین بچوں کو رکھنے پر مجبور ہے۔

یہ صورتحال ان بچوں کے لیے مزید خطرات پیدا کرتی ہے جو پیدائش کے وقت ہی کمزور ہوں یا جنہیں سانس لینے اور جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے خصوصی طبی مدد درکار ہو۔

قبل از وقت پیدائشوں اور کم وزن بچوں میں اضافہ

غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران طبی ماہرین نے قبل از وقت پیدائشوں اور کم وزن نوزائیدہ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے اوچا (OCHA) نے مارچ میں بتایا تھا کہ غزہ میں ہر تین میں سے ایک حمل کو ہائی رسک یعنی انتہائی خطرے والا حمل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ادارے کے مطابق تقریباً 70 فیصد نوزائیدہ بچے قبل از وقت یا کم وزن پیدا ہو رہے ہیں۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو عام طور پر پیدائش کے فوراً بعد خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے، سانس لینے، خوراک حاصل کرنے اور انفیکشن سے بچاؤ کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ایسے حالات میں انکیوبیٹرز، آکسیجن، وینٹیلیٹرز اور مسلسل مانیٹرنگ کے آلات انتہائی اہم ہو جاتے ہیں۔ تاہم غزہ کے ہسپتالوں کو انہی بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

ایک انکیوبیٹر میں کئی بچوں کی موجودگی خطرناک

طبی ماہرین کے مطابق ایک ہی انکیوبیٹر میں ایک سے زیادہ بچوں کو رکھنا معمول کی طبی نگہداشت کا متبادل نہیں۔

اوچا کے مطابق ایک انکیوبیٹر میں متعدد بچوں کو رکھنے سے اموات کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتہائی کم وزن یا قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو انفرادی درجہ حرارت، آکسیجن اور مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن غزہ میں ہسپتالوں کی گنجائش اور وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث طبی عملہ دستیاب سہولیات کو زیادہ سے زیادہ بچوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

جنگ نے غزہ کے صحت کے نظام کو شدید متاثر کیا

غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے علاقے کا صحت کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ متعدد طبی مراکز مکمل یا جزوی طور پر غیر فعال ہوئے، جبکہ باقی ماندہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھتا گیا۔

طبی مراکز کو عمارتوں، بجلی، ایندھن، پانی، ادویات، طبی آلات اور عملے کی کمی جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔

اس صورتحال کا اثر صرف جنگی زخمیوں تک محدود نہیں بلکہ حاملہ خواتین، ماؤں اور نوزائیدہ بچوں سمیت ایسے مریضوں پر بھی پڑ رہا ہے جنہیں باقاعدہ اور مسلسل طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

غزہ میں طبی سامان کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ بعض اشیا اس لیے محدود کی جاتی ہیں کیونکہ ان کا فوجی استعمال بھی ممکن ہوسکتا ہے، جبکہ انسانی امدادی ادارے طبی اور انسانی ضروریات کے لیے سامان کی مسلسل اور بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیتے رہے ہیں۔

جڑواں اور تین بچوں کی پیدائش میں بھی اضافہ

ناصر ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے شعبے کے سربراہ کے مطابق حالیہ مہینوں میں صرف قبل از وقت پیدائشوں میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ جڑواں اور تین بچوں کی پیدائش کے کیسز بھی زیادہ سامنے آئے ہیں۔

ایسے بچوں کو ایک ہی وقت میں خصوصی طبی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے محدود وسائل والے نیونیٹل یونٹس پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

جب ہسپتال پہلے ہی معمول سے زیادہ مریضوں کو سنبھال رہے ہوں تو ایک ساتھ متعدد کم وزن یا قبل از وقت بچوں کی پیدائش طبی عملے اور دستیاب آلات پر مزید بوجھ ڈال دیتی ہے۔

بے گھری اور بنیادی سہولیات کا بحران

غزہ میں جاری جنگ نے بڑے پیمانے پر بے گھری کو جنم دیا ہے۔ جنگ کے دوران تقریباً پوری آبادی کو کم از کم ایک مرتبہ اپنا گھر چھوڑنا پڑا ہے۔

بڑے پیمانے پر تباہی کے نتیجے میں لاکھوں افراد خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ صاف پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

یہ حالات حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہیں، کیونکہ حمل کے دوران مناسب خوراک، صاف پانی، طبی معائنوں اور محفوظ ماحول کی عدم دستیابی ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی تحقیق: ماؤں اور نوزائیدہ بچوں پر گہرے اثرات

جون میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں غزہ میں خوراک، طبی سامان اور ایندھن کی قلت اور صحت کے نظام کی تباہی کے ماؤں کی صحت پر اثرات کا ذکر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ان حالات کے پس منظر میں اسقاطِ حمل، مردہ بچے کی پیدائش، پیدائش کے وقت کم وزن اور بعض پیدائشی نقائص کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

تحقیقاتی کمیشن نے طبی ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض پیدائشی نقائص میں دل سے متعلق بیماریاں بھی شامل ہیں، جن کے کیسز میں اضافہ رپورٹ کیا گیا۔

یہ صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے اثرات صرف فوری زخمیوں اور ہلاکتوں تک محدود نہیں بلکہ حمل، پیدائش اور بچوں کی ابتدائی صحت پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دل کے سنگین پیدائشی نقص میں مبتلا بچے کا کیس

جنوبی غزہ میں مونا احمد اپنے ایسے بچے کے ساتھ تھیں جسے اگست کے آخر میں ناصر ہسپتال لایا گیا تھا۔

طبی معائنے کے بعد بچے میں دل کا ایک سنگین پیدائشی نقص تشخیص ہوا، جسے طبی اصطلاح میں ٹرانسپوزیشن آف دی گریٹ آرٹریز (Transposition of the Great Arteries) کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں دل سے خون لے جانے والی دو بڑی شریانوں کی معمول کی پوزیشن تبدیل ہو جاتی ہے۔

مونا احمد نے بتایا کہ حتمی رپورٹ میں بچے کے اس عارضے کی تصدیق ہوئی اور ڈاکٹروں نے اسے ایسے مرکز میں منتقل کرنے کی ضرورت ظاہر کی جہاں اس کا مناسب علاج ممکن ہو۔

ان کے مطابق بچہ تقریباً ایک ہفتے تک نوزائیدہ بچوں کے یونٹ میں رہا، تاہم بعد میں اسے ڈسچارج کر دیا گیا کیونکہ یونٹ میں اس کے لیے مزید جگہ دستیاب نہیں تھی۔

یہ واقعہ غزہ میں انتہائی پیچیدہ طبی کیسز کے لیے دستیاب سہولیات کی محدودیت کی ایک مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔

یونیسیف کی جانب سے انکیوبیٹرز اور طبی آلات کی فراہمی

غزہ میں نوزائیدہ بچوں کی طبی نگہداشت کو سہارا دینے کے لیے اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے ہسپتالوں کو ضروری طبی آلات فراہم کرنے کی کوششیں تیز کی ہیں۔

یونیسیف کی جانب سے فراہم کیے جانے والے آلات میں انکیوبیٹرز، وینٹیلیٹرز اور مانیٹرز شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق جنگ بندی سے قبل شروع ہونے والی کوششوں سمیت غزہ کی پٹی میں چھ مراکز کو 93 انکیوبیٹرز فراہم کیے جا چکے ہیں۔

یہ فراہمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب نیونیٹل یونٹس کو شدید دباؤ کا سامنا ہے اور دستیاب انکیوبیٹرز کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں ناکافی بتائی جا رہی ہے۔

’ڈاکٹروں اور عوام کے عزم سے معاملات چل رہے ہیں‘

یونیسیف فلسطین کے ایڈووکیسی اینڈ کمیونیکیشنز کے سربراہ ٹوبی فریکر نے غزہ میں نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ کا دورہ کرنے کے بعد صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چیلنجز اب بھی بہت زیادہ ہیں اور مزید کام کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق اس وقت ڈاکٹروں اور عوام کے غیر معمولی عزم اور حوصلے کی وجہ سے طبی خدمات کسی حد تک جاری ہیں۔

لیکن امدادی اداروں کے مطابق صرف آلات فراہم کرنا کافی نہیں؛ ان آلات کو چلانے کے لیے بجلی، ایندھن، آکسیجن، تربیت یافتہ طبی عملہ، ادویات اور محفوظ ہسپتال ماحول بھی ضروری ہے۔

جنگ بندی کے باوجود انسانی بحران برقرار

غزہ میں انسانی صورتحال کے تناظر میں جنگ بندی کے بعد بھی مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اکتوبر 2025 میں امریکہ کی حمایت سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود علاقے میں تشدد اور انسانی بحران سے متعلق خدشات برقرار رہے۔

ایسے ماحول میں ہسپتالوں کے لیے طویل مدتی بنیادوں پر نیونیٹل اور زچہ و بچہ کی خدمات بحال کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

خاص طور پر ایسے بچوں کے لیے جنہیں پیدائش کے فوراً بعد سرجری، وینٹی لیٹر، انتہائی نگہداشت یا دیگر خصوصی علاج کی ضرورت ہو، مقامی سطح پر محدود سہولیات ان کے لیے خطرات مزید بڑھا سکتی ہیں۔

نوزائیدہ بچوں کے لیے فوری اور مستقل طبی امداد کی ضرورت

غزہ کے نیونیٹل یونٹس میں پیدا ہونے والی صورتحال ایک وسیع تر انسانی اور طبی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ قبل از وقت اور کم وزن بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں انکیوبیٹرز، آکسیجن اور دیگر ضروری آلات کی کمی نے ہسپتالوں کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایک طرف طبی عملہ محدود وسائل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف ہسپتالوں کی گنجائش، طبی آلات، ایندھن اور بنیادی سہولیات کی کمی ان کوششوں کو محدود کرتی ہے۔

یونیسیف کی جانب سے فراہم کیے گئے 93 انکیوبیٹرز اور دیگر طبی آلات فوری ضرورت پوری کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ میں نوزائیدہ بچوں کی مؤثر نگہداشت کے لیے مسلسل طبی سامان، آکسیجن، ایندھن، محفوظ طبی مراکز، تربیت یافتہ عملے اور خصوصی علاج تک رسائی کی ضرورت بدستور موجود ہے۔

غزہ میں پیدا ہونے والے ان بچوں کے لیے، جنہوں نے زندگی کا آغاز ہی جنگ، بے گھری اور طبی بحران کے ماحول میں کیا ہے، بروقت اور مناسب طبی نگہداشت زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ کن فرق ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button