
ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ کو ویانا میں آئی اے ای اے کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا
محمد اسلامی کو ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے، کی سالانہ جنرل کانفرنس میں شرکت کرنا تھی، جو جمعے تک جاری رہے گی۔
ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کو پیر کے روز ویانا میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کی سالانہ کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا۔ امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے محمد اسلامی کو آسٹریا میں داخلے کی اجازت نہ دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ محمد اسلامی پابندیوں کی زد میں ہیں اور واشنگٹن نہیں چاہتا کہ پابندیوں کا سامنا کرنے والے افراد ان سے استثنا حاصل کریں۔ ان کے مطابق اسلامی کے لیے سفری پابندیوں سے استثنا کی درخواست کی گئی تھی، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔
آسٹریا کی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ محمد اسلامی پر اقوام متحدہ کی سفری پابندی عائد ہے اور ویانا نے ان کے لیے استثنا کی درخواست کی تھی۔ تاہم وزارت کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث یہ درخواست منظور نہیں ہو سکی۔
محمد اسلامی کو ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے، کی سالانہ جنرل کانفرنس میں شرکت کرنا تھی، جو جمعے تک جاری رہے گی۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق محمد اسلامی اور ان کا وفد ہفتے کو معمول کی پرواز سے ویانا کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن امریکی رکاوٹوں کے باعث انہیں آگے جانے سے روک دیا گیا۔ ایران کے جوہری ادارے کے اعلیٰ عہدیدار بہروز کمالوندی نے اسے امریکہ کا سیاسی دباؤ اور دھونس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ایک ایسی مثال قائم ہوئی ہے جو مستقبل میں دوسرے ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
محمد اسلامی نے گزشتہ برس بھی اسی کانفرنس میں شرکت کی تھی اور ایران کی جانب سے خطاب کیا تھا، حالانکہ اس وقت بھی ان کے خلاف پابندیاں نافذ تھیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی وفد کو ویزے جاری نہ کرنا بلاجواز فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق ایران سمجھتا ہے کہ یہ اقدام امریکی دباؤ کے تحت کیا گیا، تاہم اس سے آسٹریا اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو جاتا۔
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ مغربی ممالک کئی دہائیوں سے ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ تہران اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔



