کالمزعلی عباس کاظمی

پاکستان، صحافت اور صحافی…….علی عباس کاظمی

یہاں ایک بنیادی غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ صحافی کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی کو جھوٹ بولنے، کسی کی کردار کشی کرنے یا غیر مصدقہ الزام کو خبر بنا دینے کا لامحدود اختیار حاصل ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

کسی معاشرے میں صحافی کی آزادی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ کتنی خبریں نشر کر رہا ہے، کتنے ٹی وی چینل موجود ہیں یا سوشل میڈیا پر کتنے لوگ اپنی رائے دے رہے ہیں۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ صحافی طاقتور سے وہ سوال پوچھ سکتا ہے یا نہیں جو عام آدمی پوچھنا چاہتا ہے، ایسی خبر شائع کر سکتا ہے یا نہیں جو کسی بااثر شخص کو ناگوار گزرے اور اختلافی مؤقف پیش کرنے کے بعد بھی اپنے روزگار، سلامتی اور آزادی کے بارے میں خوف زدہ ہوئے بغیر کام جاری رکھ سکتا ہے۔ اگر ان بنیادی سوالات کا جواب غیر یقینی ہو تو پھر ہمیں اپنے آپ سے سنجیدگی سے پوچھنا ہوگا کہ پاکستان میں صحافت صرف موجود ہے یا واقعی آزاد بھی ہے؟
پاکستان کا آئین آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کو تسلیم کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19 میں آزادیٔ اظہار اور پریس کی آزادی کا حق دیا گیا ہے، اگرچہ اس کے ساتھ قانون کے تحت بعض پابندیاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ اسی طرح آرٹیکل 19-A شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔ یعنی اصولی سطح پر صحافت کوئی ریاستی عنایت نہیں بلکہ شہریوں کے حقِ معلومات سے جڑی ہوئی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر آئین میں درج حق اور عملی زندگی میں دستیاب حق کے درمیان فاصلہ ہی وہ مقام ہے جہاں اصل بحث شروع ہوتی ہے۔رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے 2026ء کے عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہے، جبکہ 2025ء میں اس کی پوزیشن 158ویں تھی۔ یہ درجہ بندی اپنے طور پر پاکستان کی صحافت کے ہر پہلو کا حتمی فیصلہ نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی، معاشی، قانونی، سماجی اور حفاظتی عوامل صحافت کے ماحول پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ RSF نے پاکستان کے میڈیا ماحول میں سیاسی و عسکری طاقت کے اثر و رسوخ، معاشی دباؤ اور صحافیوں کو درپیش سلامتی کے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
یہاں ایک بنیادی غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ صحافی کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی کو جھوٹ بولنے، کسی کی کردار کشی کرنے یا غیر مصدقہ الزام کو خبر بنا دینے کا لامحدود اختیار حاصل ہے۔ آزادیٔ صحافت کا دفاع دراصل ذمہ دار صحافت کے دفاع کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ایک پیشہ ور صحافی سے تصدیق، توازن، سیاق و سباق اور متاثرہ فریق کا مؤقف لینے کی توقع بالکل درست ہے۔ مگر یہ ذمہ داریاں اس بنیادی حق کو ختم نہیں کرتیں کہ صحافی طاقتور سے سوال کر سکے۔ خبر میں غلطی کی صورت میں اصلاح اور قانونی چارہ جوئی کے راستے موجود ہونے چاہییں، مگر ہر تنقیدی خبر کو دشمنی، ہر سوال کو سازش اور ہر اختلاف کو ریاست مخالف رویہ سمجھ لینا صحافت کے بنیادی مقصد کو مجروح کرتا ہے۔پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ صحافی پر براہِ راست پابندی لگائی جاتی ہے یا نہیں۔ اس سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ وہ ماحول ہے جس میں صحافی کو یہ اندازہ ہونے لگے کہ کچھ موضوعات پر بات کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔کوئی تحریری حکم نہ بھی ہو، کوئی واضح پابندی نہ بھی ہو، لیکن اگر صحافی اپنی خبر کے ممکنہ نتائج سے خوف زدہ ہو کر سوال ہی نہ کرے تو عملی طور پر اظہار کی آزادی محدود ہو چکی ہوتی ہے۔ آزادی صرف مائیک ہاتھ میں رکھنے کا نام نہیں۔۔۔ مائیک کو بے خوفی سے استعمال کرنے کی گنجائش بھی اس کا حصہ ہے۔
صحافیوں کی سلامتی اس بحث کا شاید سب سے سنگین پہلو ہے۔ فروری 2026ء میں صحافتی آزادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ایک مشترکہ خط میں پاکستانی حکومت سے صحافیوں کو تشدد، دھمکی اور غیر قانونی مداخلت سے تحفظ دینے اور میڈیا سے متعلق حالیہ قانونی و ادارہ جاتی پیش رفت پر تشویش دور کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادیٔ صحافت کا مسئلہ صرف ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والی بحث نہیں بلکہ ان لوگوں کی حقیقی زندگی کا مسئلہ بھی ہے جو خبر کے حصول کے لیے میدان میں جاتے ہیں۔ایک صحافی جب کسی دور افتادہ علاقے میں جاتا ہے، کسی طاقتور شخص کے خلاف دستاویزات جمع کرتا ہے، کسی بدعنوانی کی تحقیقات کرتا ہے یا کسی مظلوم خاندان کی آواز سامنے لاتا ہے تو وہ صرف اپنی ملازمت نہیں کر رہا ہوتا۔ وہ شہریوں کے اس حق کو عملی شکل دے رہا ہوتا ہے جسے آئین معلومات تک رسائی کے حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ اگر ایسے صحافی کو دھمکی ملے اور ریاست اس کی حفاظت نہ کر سکے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں دوسرے صحافی بھی سوچنے لگتے ہیں کہ کون سا موضوع محفوظ ہے اور کون سا خطرناک۔ یوں خوف ایک فرد سے نکل کر پورے نیوز روم تک پہنچ جاتا ہے۔
صحافت کے خلاف ایک اور دباؤ معاشی نوعیت کا ہے۔ میڈیا ادارے بھی کاروباری ادارے ہیں، انہیں تنخواہیں دینی ہیں، بجلی اور ٹیکنالوجی کے اخراجات برداشت کرنے ہیں اور اشتہارات یا دیگر آمدنی کے ذرائع تلاش کرنے ہیں۔ لیکن جب میڈیا کی معاشی بقا طاقتور سیاسی یا کاروباری حلقوں کے مفادات سے جڑنے لگے تو خبر کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔ RSF نے پاکستان کے حوالے سے سرکاری اشتہارات کے ذریعے آزاد میڈیا اداروں پر معاشی دباؤ کے خطرے کی نشاندہی بھی کی ہے۔ یہ صورت حال ہمیں ایک اہم حقیقت سمجھاتی ہے کہ صحافت صرف قلم کی آزادی کا نام نہیں۔۔۔ معاشی خودمختاری بھی اس آزادی کی بنیاد ہے۔ایک صحافی کو صرف اس لیے آزاد نہیں کہا جا سکتا کہ اسے بولنے کا موقع مل رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کس ماحول میں بول رہا ہے۔ کیا اسے اپنے ادارے میں خبر روکنے کے غیر ضروری دباؤ کا سامنا ہے؟ کیا اسے طاقتور سیاسی یا کاروباری حلقوں سے خطرہ ہے؟ کیا اسے سوشل میڈیا پر منظم کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ کیا اس کے خاندان کو دھمکایا جا سکتا ہے؟ کیا اس کی خبر کی تردید دلیل سے ہوتی ہے یا اسے غدار، ایجنٹ یا دشمن قرار دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات آزادیٔ صحافت کی اصل تصویر سامنے لاتے ہیں۔
ایک خاتون صحافی اگر کسی سیاسی یا سماجی مسئلے پر اختلافی مؤقف اختیار کرے تو اس کے مؤقف کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے اس کی ذات، کردار یا نجی زندگی کو نشانہ بنانا صحافتی اختلاف نہیں بلکہ سماجی تعصب ہے۔ خواتین کو صحافت میں صرف اس وقت قبول کرنا کہ جب وہ ہماری پسند کی بات کریں، دراصل ان کی پیشہ ورانہ آزادی کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ صحافی کی شناخت اس کی جنس نہیں، اس کا کام ہونا چاہیے۔ اختلاف مرد سے ہو یا عورت سے، جواب دلیل کو ملنا چاہیے۔سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ آج صحافی کو صرف ریاستی یا ادارہ جاتی دباؤ کا سامنا نہیں، اسے عوامی ہجوم کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ چند منٹوں میں کسی صحافی کے خلاف مہم شروع ہو سکتی ہے، اس کے پرانے جملے نکالے جا سکتے ہیں، سیاق و سباق سے ہٹ کر ویڈیوز پھیلائی جا سکتی ہیں اور ہزاروں لوگ تحقیق کے بغیر فیصلہ سنا سکتے ہیں۔ یوں عدالت، تحقیق اور دلیل سے پہلے سوشل میڈیا اپنا فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔ یہ رویہ صحافی کو بھی متاثر کرتا ہے اور عوامی مکالمے کو بھی۔
صحافی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اپنی پیشہ ورانہ دیانت بھی ثابت کرنا ہوگی۔ خبر کو رائے سے الگ رکھنا، غیر مصدقہ اطلاع کو خبر نہ بنانا، ذاتی پسند و ناپسند کو رپورٹنگ پر حاوی نہ ہونے دینا، متاثرہ فریق کا مؤقف شامل کرنا اور غلطی ہونے پر اسے تسلیم کرنا صحافت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔ قتیلؔ شفائی کے بقول؎
اِس طرح قتیلؔ اُس سے برتاؤ رہے اپنا
وہ بھی نہ بُرا مانے دِل کا بھی کہا رکھنا
آزاد صحافت وہ نہیں جو کسی ایک سیاسی یا نظریاتی کیمپ کے لیے آزاد ہو۔ آزاد صحافت وہ ہے جو اصول کی بنیاد پر سوال کرے، چاہے سوال حکومت سے ہو، اپوزیشن سے ہو، طاقتور ادارے سے ہو، میڈیا مالک سے ہو یا خود صحافتی برادری سے۔ ریاست اگر واقعی مضبوط اداروں پر یقین رکھتی ہے تو اسے تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ریاستی ادارے اور معاشرہ باقی رہتے ہیں۔ آج جو حکومت تنقید سے فائدہ اٹھا سکتی ہے، کل وہی حکومت کسی دوسرے دور میں اپوزیشن میں ہو سکتی ہے۔ اس لیے آزادیٔ صحافت کسی جماعت، حکومت یا سیاسی گروہ کا ذاتی مسئلہ نہیں۔ یہ ایسا اصول ہے جس کی ضرورت ہر اس شخص کو پڑ سکتی ہے جو کبھی اقتدار سے باہر ہو۔
یہی وجہ ہے کہ صحافی کو خاموش کر دینا کبھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتا۔ اگر کسی خبر میں غلطی ہے تو اس کا جواب درست معلومات ہیں۔ اگر کسی الزام میں حقیقت نہیں تو ثبوت کے ذریعے اس کی تردید ہونی چاہیے۔ اگر کوئی صحافی قانون توڑتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن سوال پوچھنے کو ہی جرم بنا دینا، تنقید کو دشمنی سمجھنا یا اختلافی آواز کو دبانے کی کوشش کرنا معاشرے کو حقیقت سے دور لے جاتی ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست صحافی سے اختلاف کر سکتی ہے، مگر صحافی کے سوال کرنے کے حق کا تحفظ بھی کرتی ہے۔پاکستان کو آج شاید پہلے سے زیادہ ایسی صحافت کی ضرورت ہے جو شور سے الگ ہو کر تحقیق کرے، طاقت کے سامنے سوال رکھے، عوام کے مسائل کو سامنے لائے اور غلطی ہونے پر خود بھی اپنا احتساب کرے۔ ہمیں ایسے صحافی چاہییں جو کسی کے ترجمان نہ ہوں بلکہ عوام کے سوالات کے ترجمان ہوں۔ ہمیں ایسے میڈیا اداروں کی ضرورت ہے جو معاشی دباؤ کے باوجود اپنی ادارتی آزادی محفوظ رکھ سکیں۔ ہمیں ایسے قوانین چاہییں جو شہریوں کو جھوٹی معلومات اور ہراسانی سے تحفظ دیں، مگر جائز اختلاف اور تنقید کے لیے غیر ضروری خوف پیدا نہ کریں اور ہمیں ایسے شہری بھی چاہییں جو صحافی سے اختلاف تو کریں مگر اسے خاموش کرانے کے بجائے دلیل سے جواب دیں۔ پاکستان میں صحافی کو بولنے کی اجازت ہے یا نہیں۔۔۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ کتنی بے خوفی سے بول سکتا ہے، کن موضوعات پر بول سکتا ہے، بولنے کے بعد کتنا محفوظ رہتا ہے اور اس کی خبر کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے یا طاقت سے ۔بقول مشہورانقلابی شاعر خالد علیگ ؎
ہم صبح پرستوں کی یہ رِیت پرانی ہے
ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا
اور اگر ایک معاشرہ اپنے صحافی سے صرف اپنی پسند کی بات سننا چاہے تو وہاں آزادیٔ صحافت سے پہلے آزادیٔ فکر کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ صحافت کا کام کسی حکومت کو خوش کرنا نہیں، کسی جماعت کو خوش کرنا نہیں، حتیٰ کہ عوام کو بھی ہر وقت خوش رکھنا نہیں۔ صحافت کا اصل کام معاشرے کو وہ دکھانا ہے جسے دیکھنا ضروری ہے۔ شاید ایک زندہ جمہوریت کی پہچان یہی ہے کہ اس میں سوال پوچھنے والا محفوظ ہو، جواب دینے والا جواب دے اور سچ کو خاموش کرنے کے بجائے اس کا سامنا کیا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button