
اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
اٹلی کے نئے اسکول ضوابط میں کیا کچھ شامل؟
نئے اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے، تاہم ان کے لیے 60 روز کے اندر اندر پارلیمان سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہو گا۔ میلونی کے حکومتی اتحاد کو فی الحال ملکی قانون ساز ادارے میں اکثریت حاصل ہے۔
اس حکومتی اقدام کے تحت:ہر کلاس میں ایسے غیر ملکی طلبہ کی تعداد 30 فیصد تک محدود ہو گی جنہیں اطالوی زبان پر مناسب حد تک عبور حاصل نہ ہو۔پرائمری اسکولوں میں یہ حد ان طلبہ پر لاگو ہو گی جو اطالوی شہری نہ ہوں، اٹلی میں پیدا نہ ہوئے ہوں یا کم از کم دو سال تک پری اسکول نہ گئے ہوں۔مڈل اور ہائی اسکولوں میں یہ حد ان طلبہ پر لاگو ہو گی جو اطالوی شہری نہ ہوں اور کم از کم تین سال تک اٹلی کے تعلیمی نظام کا حصہ نہ رہے ہوں۔نئے فرمان کی خلاف ورزی پر ایک ہزار یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

اسکولوں میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی
اس فرمان کے تحت اسکولوں میں برقعے اور نقاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم حجاب پہننے یا سر کو ڈھانپنے کی اجازت برقرار رہے گی۔میلونی نے برقعے پر پابندی کو ”سکیورٹی کا معاملہ‘‘ قرار دیا۔ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں میلونی کے حوالے سے کہا گیا، ”جب کسی خاتون یا اس سے بھی بڑھ کر کسی کم عمر لڑکی کو اپنا چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کیا جاتا ہے، تو اسے بنیادی حقوق اور اس انضمام سے محروم کیا جا رہا ہوتا ہے، جس کی اکثر بلند آواز میں حمایت کی جاتی ہے۔‘‘اٹلی کے وزیر تعلیم کے مطابق نئے فرمان سے تقریباً ایک ہزار کلاس رومز متاثر ہوں گے، جو ملک بھر میں کُل کلاسوں کا صرف تقریباً 0.3 فیصد بنتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے 2023 کے دوران اٹلی کے اسکولوں میں ایسے طلبہ کا تناسب جن کے پاس اطالوی شہریت نہیں تھی، 11.2 فیصد تھا، جبکہ 30 فیصد سے زیادہ غیر ملکی طلبہ والی کلاسیں مجموعی تعداد کا 7.6 فیصد بنتی تھیں۔

ناقدین کا موقف
حکومتی فرمان کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ نئے قواعد کے نتیجے میں بعض طلبہ کو اپنے رہائشی علاقوں سے دور واقع اسکولوں میں داخلہ لینا پڑ سکتا ہے۔رپورٹوں کے مطابق ان علاقوں میں اسکولوں کی انتظامیہ کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، جہاں تارکین وطن کی تعداد زیادہ ہے اور جہاں نئے قواعد پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے بدھ کے روز اطالوی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس اقدام کا ”انتہائی سیاسی ذمہ داری‘‘ کے ساتھ جائزہ لے۔ اس تنظیم نے خبردار کیا کہ اس سے امتیازی اثرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔تنظیم نے اپنے بیان میں کہا، ”ایسا معیار ‘فرسٹ کلاس‘ اور ‘سیکنڈ کلاس ‘ کے طلبہ پیدا کرے گا۔‘‘



